شذرات

Maarif - - ء۲۰۱۸ اپریل معارف - بسم الله الرحمن الرحيم

علامہ ہے۔ رہا کرم ممنون کا حیدرابٓاد ریاست سے ہی ابتدا کی تاسیس اپنی دارالمصنفّین

منتقل نام کے دارالمصنفّین کو وظیفہ کے ماہوار روپیہ سو تین کے ان بعد کے انتقال کے شبلی علاوه کے استھا۔بنایایقینیکواستحکاماوربقاءکیدارالمصنفّیندراصلنےحیدرابٓادنظامکرکے رہی۔ ملتی بھی امداد اضافی لحاظ قابل سے ریاست میں اوقات مختلف سے نسبت کی النبیؐ سیرت تو ہوا بند یہ جب اور رہا چلتا تک ازٓادی کی ملک سلسلہ کا رسانی فیض اس کی حیدرابٓاد اور بقاء قیام، کے دارالمصنفّین چنانچہ پڑا۔ کرنا سامنا کا حالات مشکل نہایت کو دارالمصنفّین اس ہمیشہ نے دارالمصنفّین اور ہے رہا حامل کا اہمیت بڑی کردار کا حیدرابٓاد ریاست میں استحکام منتظمہمجلسبعدکےانتقالکےصاحبمحمود سیدڈاکڻرکہہےوجہیہیہے۔کیااعترافپوراکا مفخم خاں علی کرامت میرنوابچراغ و چشم کے جاہی اصٓفخانوادهسے حیثیت کی صدر کے دارالمصنفّینسے حیدرابٓادریاستبلکہتھااظہارکامندیاحسانجذبہ صرف نہانتخابکابہادرجاه خاص ایککامسرت و فخر لیےکے ادارهمتعلقینجملہ اور تھی بھی تجدید کی روابط پرانے کے خلیفہ عثمانی اخٓری اور پوتے کے خاں علی عثمان میر دکن نظام اخٓری صاحب نواب بھی۔ موقع ہوا۔ ءمیں۱۹۷۳ انتخاب کا صاحب نواب لیے کے عہده اس ہیں۔ نواسے کے ثانی عبدالمجید سلطان دارالمصنفّین اورہے محیط پرعرصہطویل کے سال۴۵ بیش وکم صدارت دور کا انطرحاس اخٓری اور پہلی میں ء۱۹۸۹ دسمبر صاحب نواب ہے۔ صدارت دور ترین طویل یہ میں تاریخ کی سے عرصہ ایک ادھر فرمائی۔ صدارت کی منتظمہ مجلس اور لائے تشریف دارالمصنّفین بار نظام تھی۔ گئی ره نہیں دلچسپی میں معاملات کے دارالمصنفّین انہیں سے وجہ کی اسباب نامعلوم ملک بیرون وه تھی۔ گئی کردی بند پہلے دنوں بہت بھی گرانٹ کی ہزار ایک ماہانہ سے ونڈیشنٴفا کے اس رہیں۔ ناکام کوششیں تمام کی رابطہ سے ان دوران کے برسوں دس گذشتہ اور ہیں مقیم تبدیلی خواہش کیرکھنے باقی کو تعلق اس نظر پیش کے احسانات کے حیدرابٓاد پر اکیڈمی باوجود بارےکےداروںذمہکےاداروںکےطرحاسابلیکنرہی۔غالبپرضرورتہوئیبڑھتیکی نہ رابطہ سے بہادر صاحب نوابہے،لگیکرنےمطالبہکا معلوماتکی طرحجس حکومت میں سے نظر نقطہ کےانصرامو نظمکے ادارهاورتھی نہیںممکنتکمیل کیان سے وجہ کیہونے مجلس کی دارالمصنفّین چنانچہ جائے۔ کیا انتخاب نیا لیے کے منصب اس کہ تھا ہوگیا ضروری یہ جناب عالی لیے کے منصب اس میں ء۲۰۱۸ مارچ ؍۲۹ منعقده میڻنگ سالانہ اپنی نے انتظامیہ اس نےانہوں کہ ہیںگذار شکر ہمکیا۔ انتخابکاہندجمہوریہصدر نائبسابقانصاری،حامدمحمد

ہوا۔ اضافہ کا باب نئے ایک میں تاریخ کیدارالمصنفّین طرح اس اور فرمایا قبول کو داری ذمہ اپنی خانواده انصاری کا محمدابٓاد پور یوسف میں پور غازی ضلع میں یوپی مشرقی احمدمختارڈاکڻررہنمااورازٓادیمجاہدعظیمہے۔رہامعروفلیےکےوجاہتاورنجابتشرافت، اضافہمزید میں ناموری وشہرت کیخانداناسنےخدماتقومیاورملیالمثالعدیمکیانصاری میںکولکتہ میںء۱۹۳۷ ہیں۔ چراغ وچشم کے خانوادهوقار ذی اسی انصاری حامدمحمد جنابکیا۔ مسلم گڑھ علی لیے کے تعلیم اعلیٰ کی۔ حاصل میں شملہ اور کولکتہ تعلیم ابتدائی ہوئے۔ پیدا

یونیورسڻی میں داخلہ لیا جہاں سے پولیڻکل سائنس میں ایم۔ اے کیا اور وہیں کچھ دنوں تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ جلد ہی ان کا انتخاب انڈین فارن سروس کے لیے ہوگیا اس لیے یہ سلسلہ منقطع ہوگیا لیکن علم و دانش سے شغف زندگی بھر قائم رہا۔ فارن سروس سے تعلق کا آغاز ء۱۹۶۱ ساتھکےامتیازمیںحصوںمختلفکےدنیاتکعرصہلمبےایکنےانہوںاورہوامیں سفارتی خدمات انجام دیں۔ اسٓڻریلیا، متحده عرب امارات، افغانستان، سعودی عرب اور ایران ان ممالک میں شامل بھی جہاں وه سفیر رہے۔ شرق اوسط میں طویل قیام کے دوران انہوں نے وہاں کی زندگی اور سیاسی اور ملکی حالات کا بہت باریک بینی سے مشاہده اور مطالعہ کیا۔ اس کی سےوجہ ان کو خطہاس میںبارےکے بصیرتگہری مہارتاور جوہےحاصل اس موضوع پر ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔ اس موضوع پر ان کی پہلی کتاب ء۲۰۰۵ میں شائع ہوئی۔ اس کا عنوان ہے Iran Today: Twenty Five Years After the Islamic Revolutiuon ۔ دوسری کتاب Through Confliet: Essays on Politics of West Asia ء۲۰۰۸Travelling میں شائع ہوئی۔ ان

کتابوں سے اس خطہ کے بارے میں نہ صرف ان کی گہری بصیرت اور وسیع مطالعہ کا اندازه ہوتا ہے بلکہ علمی لیاقت اور دانشورانہ فکر و نظر کا پتہ بھی چلتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحده میں

ہندوستان کے مستقل نماینده کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ کادینےتوجہطرفکیدلچسپیوںعلمیاپنیکوانبعدکےدوشیسبکسےملازمت زیاده موقع ملا۔ افریکناینڈایشینویسٹافٓسنڻرمیںیونیورسڻینہرولالجواہرانہیںمیںء۱۹۹۹ اسڻڈیزمیں وزیڻنگ پروفیسر کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔ ء۲۰۰۰ میں مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسڻی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے ان کا انتخاب ہوا اور اگلے دو سال انہوں نے امتیاز کے ساتھ اس عظیم درس کیگاه سربراہی کا فریضہ انجام دیا۔ اس کے بعد وه جامعہ ملیہ میں تھرڈ ورلڈ اکیڈمی میں وزیڻنگ پروفیسر رہے۔ اسی دوران انڈین نیشنل کمیشن فار مائناریڻیز NCM) ہوا۔انتخابکاانسےحیثیتکیمملکتصدرنائبمیںء۲۰۰۷ہوئے۔مقررچیرمینکے) مدت کار ختم ہونے کے بعد اسی منصب کے لیے دوباره ان کا انتخاب ہوا۔ اس طرح ء۲۰۰۷ سے ء۲۰۱۷ تک مسلسل وه اس اہم ائٓینی منصب پر فائز رہے۔ ڈاکڻر رادھا کرشنن کے بعد یہ اعزاز کسی اور کو نہیں ملا۔ اس منصب کےیونیورسڻیپنجابچیرمین،کےسبھاراجیہوهسےوجہکی کیانکواداروںتمامانرہے۔نشینصدرکےایڈمنسڻریشنپبلکافٓڻیوٹانسڻیانڈیناورچانسلر معروضیاپنیویڻیسبھاراجیہمیںعہدکےانہوا۔حاصلاعتباراوروقارنیاایکمیںسربراہی

رپورڻنگ اور تبصروںافروزبصیرت لیےکے ہوا۔مشہور تجربہ وسیع میں میدان کے ڈپلومیسی اور انتظام صرف کو انصاری حامد محمد جناب

ملی اور گرفت مضبوط پر مسائل ملکی دانشوری، بصیرت، علمی اپنی وه بلکہ ہے نہیں حاصل سےصدی نصف جومیںکیریر طویل اپنے نے انہوں ہیں۔ معروف لیے کے نظر گہری پر مسائل کی انوه دیا انجامسے خوبی وحسن جسکوداریوں ذمہالنوعمختلف ہے،محیط پر عرصہ زیاده کے مسائل ملکی نے انہوں بھی ہوئے رہتے فائز پر منصب اس ہے۔ غماز کی صلاحیتوں متنوع کیا فکر و غور سے گہرائی میں بارے کے مسائل مخصوص کے مسلمانوں ہندوستانی ساتھ ساتھ

اور تنقیدشدید کو انلیےکے اسکیا۔خیال اظہارپر اسسے بےباکی پوری ملاموقع بھی جب اور نے انہوںاثرزیر کے جس تھا جذبہ یہی کادلچسپیسے مسائلملی پڑا۔ کرنا بھیسامنا کامشکلات قبول دعوت ہماری لیے کے شرکت سے حیثیت کی خصوصی مہمان میں تقریبات صدی شبلی کا تقریبات صدی سے وجہ کی شرکت کیانفرمائی۔گوارازحمت کیانٓےگڑھ اعظماورفرمائی ڈاکڻر اور نابینا عبدالوہاب حکیم میں بزرگوں کے ان کرگیا۔ اختیار حیثیت یادگار اجلاس افتتاحی صاحب عبدالحفیظڈاکڻرچچاکےانتھے۔تعلقاتقریبیکےشبلیعلامہسےانصاریاحمدمختار ہوگئی پیدا صورت کی تجدید کی روابط قدیم ان اب تھے۔ شامل میں وںٴ فرما کرم کے دارالمصنّفین اور گا کرے طے کو بلندیوں نئی کی ترقی دارالمصنفّین میں رہنمائی کیان کہ ہے یقین کو ہم ہے۔ میں عملقیامکااس لیے کے جنگا ہوجائےسرگرم میںتکمیل کی مقاصد انسے ولولہ نئےایک

تھا۔ ایٓا سبک سے ڈیپارڻمنٹ ایجوکیشن کے کالج شبلی میں ء۱۹۹۰ نے ہلالی عبدالمنان جناب

طرح جس تکمدت طویلاور تھابنالیا زندگیمقصد اپنا کو خدمت کی دارالمصنفّین بعدکے دوشی سلسلہ یہ کا خدمت رضاکارانہ ہے۔ ملتی کو لوگوں کم توفیق کی اس دی انجام خدمت یہ نے انہوں وجہ کی بیماری اور سالی پیرانہ سے برسوں چند گذشتہ رہا۔ جاری تک وقت اس سے وقت اسُ داری ذمہ اس بار کئی نے انہوں اور تھا ہوگیا مشکل کرنا کام مطابق کے معمول لیے کے ان سے تھی تقویت باعث لیے کے سب ہم موجودگیکی ان لیکن کیا اظہار کا خواہشکی دوشی سبکسے پابندی باوجود کے بیماری اور ضعف وه اور رہا قائم تعلق یہ باوجود کے خواہش کی ان لیے اس انٓااکیڈمی کا ان اب کہکیا اختیار رخایسا کچھ نے علالت کی ان دنوں گذشتہ رہے۔اتٓے اکیڈمی سے اکیڈمی میں موجودگی غیر کی حروف راقم تھے۔سکریڻری جوائنٹ کے اکیڈمی وه رہا۔ نہیںممکن سےاکیڈمیہے۔ہوتیداریذمہکیسکریڻریجوائنٹنگرانیکیاموردوسرےاورانتظامیکے اور خواہش کی ان چنانچہ تھے۔ ہورہے پیدا مسائل انتظامی وجہ کی موجودگی عدم بھی کی ان الاسلام فخر ڈاکڻر ہوگیا۔ ضروری انتظام متبادل نظر پیش کے ضرویات انتظامی کی اکیڈمی سال دسگذشتہ سے حیثیت کی انچارجکے مطبوعاتکالجشبلی عربی،شعبہ صدر سابق اعظمی، خدمات دوسری کی ان ہے۔ رضاکارانہ پر طور مکمل وابستگی یہ ہیں۔ وابستہ سے اکیڈمی سے ہلالی محترم ہے۔ نتیجہ کا کوششوں اور محنت کی ان طباعت کی کتابوں میں انداز نئے علاوه کے اداوہی ترزیاده بھیداریاںذمہمفوّضہکی انسے سال کئیادھردوران کے علالت کیصاحب شکلقانونیکوداریوںذمہاندراصلانتخابکاانسےحیثیتکیسکریڻریجوائنٹرہے۔کرتے کی صاحب ہلالی محترم ہم ہیں۔ رہے دیتے انجام سے ہی پہلے وه جو ہے مترادف کے دینے

۔ ہیں بدعا دست لیے کے عافیت وصحت خاں علی جاوید ڈاکڻر اعزازی رفیق کے اکیڈمی پر جگہوں خالی دو کی انتظامیہ ارکان

سے کیرالہ تعلق کا صاحب احمد امیر ایٓا۔ میں عمل انتخاب کا صاحب امیراحمد جناب اور صاحب ان تعالیٰ لله کہ ہے دعا ہیں۔ انتظامیہ مجلس رکن پہلے وه والے ہونے منتخب سے خطہ اس ہے۔ امٓین بنائے۔ برکت وخیر باعث لیے کے اکیڈمی کو انتخابات تمام

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.