مدنی میں الاشراف انساب جائزه کا سیرت روایات

کلیم صفات اصلاحی

Maarif - - ء۲۰۱۸ اپریل معارف -

)۲(

منافقین مدینہ: مدینہ میں گو کہ آنحضورؐ کا پُرزور استقبال کیا گیا تاہم

خوش آمدید کہنے والوں کے علاوه اس شہر میں بہت سے یہود آباد تھے جو اسلام اور آنحضورؐ کے ازلی دشمن تھے۔ انہوں نے اسلام کی مقبولیت دیکھ کر اندر اندر کفار مکہ سے ساز باز کرلی تھی۔ ایک تیسرا گروه منافقین کا پیدا ہوگیا تھا، یہ لوگ بھی یہودیوں کے ساتھ مل کر اسلام کے خلاف دن رات سازشیں کرتے تھے۔ مکہ میں یہ گروه نہیں تھا۔ مدینہ میں اوس و خزرج کے نام سے دو مشہور قبائل تھے، زیاده تر منافقین ان ہی دونوں قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ آنحضورؐ کی مدنی زندگی میں جو پیچیدگیاں، مسائل اور پریشانیاں دکھائی پڑتی ہیں وه زیاده تر اسی گروه منافقین کی پیدا کرده تھیں۔ بلاذری چونکہ مورخ ہیں اسی لیے انہوں نے تاریخ کے اس اہم پہلو پر خصوصی توجہ دی اور اوس و خزرج کے تقریبا تمام منافقین کا نام بہ نام اور اسلام اور آنحضورؐ کے خلاف ان کی کارستانیوں کا مجملا ذکر کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ منافقین اوس و خزرج کا اس طرح جامع تذکره

دوسرے مصادر سیر و حدیث میں نظر سے نہیں گذرا۔ ملاحظہ فرمائیں: منافقین خزرج: بلاذری نے خزرجی منافقین میں راس المنافقین عبدلله

بن ابی بن سلول، جد بن قبیس، عدوی بن ربیعہ، اس کا بیڻا سوید، قیس بن

عمرو بن سہیل، سعد بن زراره، زید بن عمرو، عقبہ بن قدیم، ابو قیس بن دارالمصنّفین ، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ۔

اسلت کے نام تحریر کیے ہیں۔ عبدلله بن ابی کے متعلق لکھا ہے کہ لئن’’ رجعنا الی المدینۃ

لیخرجن الا عز منہا الاذل‘‘ کے الفاظ اسی نے کہے تھے۔ سلول ابی کی ماں کا نام ہے، جس کا تعلق خزاعہ سے تھا، آگے عبدلله بن ابی کے متعلق حضرت انس کی ایک روایت نقل ہے کہ آنحضورؐ نے اس کے انتقال پر نماز جنازه پڑھانا چاہا اور اس کو پیراہن مبارک دینا چاہا تو حضرت جبریل نے پیراہن مبارک لے لیا اور یہ آیت اتری ولا تصل علی احد منہم مات ابدا توبہ( :۹ )۸۴ )۲۷۴( ان النبی صلی لله علیہ وسلم اراد ان یصلی علی عبدلله بن ابی فاخذ جبریل بثوبہ و نزلت۔ اس روایت اور قرآن مجید کی آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اپٓؐ نے وحی الٰہی کے نزول کے بعد اس کی نماز جنازه نہیں پڑھائی ہوگی۔ لیکن بخاری اور بعض دوسری کتب سیر و حدیث سے ثابت ہے کہ آپؐ نے نہ صرف اپنا پیراہن مبارک عطا کیا بلکہ نماز جنازه بھی پڑھائی۔ حضرت عمرؓ نے دامن تھام لیا کہ منافق کی نماز جنازه پڑھائیں گے؟ جبکہ لله نے آپؐ کو اس کے لیے دعائے مغفرت سے منع فرمایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا لله نے مجھے اس سلسلہ میں اختیار دیا ہے یا مجھے باخبر کیا ہے یعنی( میرے سامنے استغفار و عدم استغفار کا مفہوم واضح کردیا ۔ہے) راوی عبدلله ابن عمر کہتے ہیں کہ آپؐ نے نماز جنازه پڑھائی اور ہم نے بھی آپؐ کے پیچھے نماز پڑھی پھر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ولا تصل علی احد منہم مات ابدا الخ ۔)۱( بعض شارحین بخاری نے لکھا ہے کہ استغفار کی بالکلیہ ممانعت اس کے لیے ہے جو حالت شرک میں فوت ہوا۔ اس کے لیے نہیں ہے جس نے اپنے اسلام کا اظہار کیا۔ النہی عن الاستغفار لمن مات مشرکا لا یستلزم النہی عن الاستغفار لمن مات مظہر الاسلام )۲( بخاری کی اس مفصل روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت کا نزول ابن ابی کی نماز جنازه پڑھانے کے بعد ہوا لیکن بلاذری کی نقل کرده روایت سے متبادر ہے کہ آپؐ نےنماز جنازه نہیں پڑھائی تاہم بخاری کی

روایت زیاده معتبر ہے۔ مولانا شبلی بھی اسی کے قائل ہیں۔ لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ

نے دامن تھام لیا کہ منافق کے جنازه کی نماز پڑھتے ہیں لیکن دریائے کرم کا وٴبہا کون روک سکتا تھا ۔)۳( یہی وجہ ہے اس کے بعد کسی منافق کی

نماز جنازه پڑھانے کا ذکر کتب سیرت میں مفقود ہے۔ منافقین اوس: بلاذری نے قبیلہ اوس کے کل ۲۷ منافقین کی نشان دہی

کی جن کے نام اس طرح ہیں جلاس بن سوید بن صامت، حارث بن سوید بن

کے جس حارث بن نبتل عامر، بن عثمان بن بجاد حارث، بن دری صامت، کو اس کرے پسند دیکھنا کو شیطان جو’’ تھا کہا نے للهؐ رسول میں بارے صنبتل( الی فلینظر شیطان الی ینظر ان احب من چاہیے، لینا دیکھ نبتل تک منافقین کو باتوں کی آپؐ بھی یہ طرح کی باپ نبتل، بن عبدلله ۔)۲۷۵ الازعر بن حبیبہ ابو گیا، کیا قتل میں احد جنگ جو زید بن قیس تھا۔ پہنچاتا بن حاطب بن ثعلبہ ہے) ہوتا میں والوں بنانے ضرار مسجد شمار کا اس( لڑکے کے اس مجمع، بن عامر بن جاریہ قشیر، بن معتب عبد، بن عمرو ہے، ہوتا شمار بھی کا ان میں والوں بنانے ضرار مسجد( مجمع و زید یزید، کو لوگوں اور تھا پڑھتا قرانٓ یہ کہ ہے لکھا میں بارے کے جاریہ بن مجمع اسلام کی منافقت نے اس کہ ہے جاتا کہا تھا، پڑھاتا نماز میں ضرار مسجد بن حنیف بن عباد قنیطی، بن مرجع کیا) بھی حفظ کا قرآن اپنایا، کو انما’’ ایٓت کی قرانٓ ہے)، بھی نام کا اس میں والوں بنانے ضرار مسجدواہب( دونوں کے زیاد خالد، بن خذام ہے۔ میں بارے کے اسی نلعب‘‘ و نخوض کنا سوید، بن رافع بن امیہ بن حاطب الشاعر، رفاعہ بن قیس بشیر، ، رافع بیڻے نے بلاذری میں بارے کے اس تھا۔ بھی شاعر یہ الظفری، ابیرق بن بشر نہیں۔ موقع یہ کا تفصیل کی جن ہیں کی نقل روایت مفصل و مختصر متعدد کی نقل یہ میں بارے کے اس روایت مختصر ایک مروی سے حسن البتہ پر گناه بے ایک اور کی چوری زره ایک کی لوہے نے ابیرق ابن کہ ہے اور ہوئے حاضر میں خدمت کی آپؐ خاندان اہل کے اس چنانچہ دیا۔ لگا الزام انزلنا انا اتاری آیت یہ نے لله تو کی۔ ثابت گناہی بے کی اس سامنے کے آپؐ یہ جب پس تک، مصیرًا وساءت سے الناس بین لتحکم بالحق الکتاب الیک میں مکہ اور گیا مل سے مشرکین وه تو ہوئیں نازل میں بارے کے اس ایٓات گرا پتھر پر سرکے اس نے لله کی، زنی نقببھی وہاں لگا رہنے جگہ ایک فکانت فشدختہ صخرة علیہ لله فالقی ہوگئی۔ قبر کی اس جگہ وہی اور دیا میں بارے کے اس( قزمان الاشہلی، خلیفۃ بن ضحاک ۔)۲۷۸ ص( قبره احد قزمان کہ ہے لکھا اور ہیں پہنچائی بہم معلومات دلچسپ نے بلاذری عورت تم کہ کہا اور دلائی عار کو اس نے عورتوں تو تھا رہا نکل نہیں میں میں محبت و حمیت قومی اور سنبھالی کمان و تلوار نے اس چنانچہ ہو، و عار لڑو! والو، اوس اے کہ تھا تھا رہا کہہ اور پڑا نکل لیے کے لڑنے کہ تھے رہے کہہ میں بارے کے قزمان للهؐ رسول ہے۔ بہتر موت سے فرار گیا، لایا میں ظفر بنی دار ہوا، زخمی وه دن کے احد چنانچہ ہے۔ جہنمی وه نے تم تو آج کرو، قبول بشارت کی جنت ، الغیداق ابو اے گیا، کہا سے اس قومی حمیت نے میں بخدا جنت؟ کیسی’’ کہا نے اس دی، شجاعت داد خوب

)ًایضا( لقومی۔ حمیۃ لاا تقاتل ما ولله جنۃ ای ہے، کی جنگ خاطر کی آپؐ میں بارے کے اس کرلی، خودکشی نے اس سے تکلیف شدت چنانچہ تائید کی دین اس سے فاجر و بدبخت اس نے لله’’ کہ تھے رہے فرما بن عمرو عبد عامر ابو )ًایضا( الفاجر۔ بالرجل الدین ہذا ویدٴی لله ان کرائی‘‘، و نصرانیت کو اس کہ ہیں لکھتے میں بارے کے اس( نعمان بن صیفی جاتا کہا بھی راہب کو اس تھا، جاتا اکثر شام تھا، میلان جانب کی رہبانیت کے قریش گیا، مکہ کیا، حسد نے اس تو ہوا ظہور کا آنحضورؐ جب تھا، کے میراث کی اس ہوا۔ فوت وہیں گیا شام پھر لڑی، جنگ کر مل ساتھ تنازعہ درمیان کے علاثہ بن علقمہ اور ثقفی لیل یا عبد بن کنانہ میں سلسلہ کہا بھی یہ تھے۔ ہوگئے مسلمان وہیں اور تھے میں شام بھی علقمہ ہوا، پیدا ہاتھ کے آپؐ تو آئے مدینہ واپس تھے، لائے نہیں اسلام وقت اس کہ ہے جاتا بخوف ہیں، کی نقل روایتیں بھی اور علاوه کے اس ۔)۲۸۲( کی بیعت پر

ہیں۔ جاتی کی انداز قلم تفصیلات کی ان طوالت تھی گئی رکھی پر المومنین بین تفریق و کفر بنیاد کی ضرار مسجد کے وحی نے لله کہ ہے وجہ یہی تھے، منافقین گزار بنیاد کے اس اور منافقین فرمایا۔ آگاه سے حقیقت کی اس کو آپؐ اور پھوڑا۔ بھانڈا کا اس ذریعہ کے آپؐ کیں، سازشیں کیسی کیسی جانے نہ لیے کے کنی بیخ کی اسلام نے ان بھی ضرار مسجد کیا۔ شروع سلسلہ پرزور نہایت کا دوانیوں ریشہ خلاف منہدم کو اس نے پؐآ لیے اسی تھی۔ مرکز کا دوانیوں ریشہ خفیہ انہیں کی

دیا۔ حکم کا کرنے مسجد ضرار کی تعمیر و انہدام کا واقعہ: مسجد ضرار کی تعمیر کے

سلسلہ میں بلاذری نے سعید بن جبیر سے مروی روایت نقل کی ہے کہ بنی عمرو بن عوف نے ایک مسجد تعمیر کی تھی، جس میں آنحضورؐ انہیں نماز پڑھاتے تھے۔ ان کے بھتیجوں بنی غنم بن عوف کے دل میں ان سے حسد پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی مسجد تعمیر کریں اور آپؐ سے درخواست کریں کہ اس میں بھی آپؐ ہمیں نماز پڑھاھیں۔ چنانچہ جب آنحضورؐ ان کے پاس جانے کے لیے کھڑے ہوئے تو وحی نازل ہوئی والذین‘‘’’ الخ۔ فلما قام

رسول لله صلی لله علیہ وسلم لینطلق الیہم اتاه الوحی۔ ص( )۲۸۲ آگے روایت میں لکھتے ہیں کہ ہشام بن عروه نے اس آیت کے سلسلہ میں یہ کہا کہ مسجد ضرار کی بنیاد سعد بن خیثمہ نے رکھی تھی، اس جگہ لبد نامی عورت اپنا گدھا باندھتی تھی، چنانچہ اہل مسجد نے کہا کہ ہم ایسی جگہ سجده کریں گے؟ جہاں گدھا باندھا جاتا ہے۔ ہم الگ مسجد

بنائیں گے جس میں ابو عامر ہمیں نماز پڑھائیں گے۔ وہی عامر جو لله اور اس کے رسول سے فرار اختیار کرکے مکہ، پھر شام چلا گیا تھا اور نصرانیت قبول کرلی تھی ص( ۔)۲۸۳ ایٓت کے اس ڻکڑے لمن حارب لله و

رسولہ میں لمن سے ابوعامر کی طرف اشاره ہے۔ آگے مسجد کے انہدام کے متعلق راویوں کا بیان نقل کیا ہے کہ اسی ایٓت کے سبب جب انٓحضورؐ نے مسجد کو منہدم کرنے کے لیے لوگوں کو بھیجا تو کچھ منافق مسجد نبویؐ میں آئے اور وہاں ہنسنے، کھیلنے اور مذاق کرنے لگے، آپؐ نے ان کو مسجد سے باہر نکالنے کا حکم دیا۔ ابو ایوب قیس بن عمرو کی طرف بڑھے اور اس کا وںٴپا پکڑ کر مسجد سے باہر نکالا، عماره بن حزم زید بن عمرو جس کی داڑھی لمبی تھی کی طرف لپکےاور اس کی داڑھی پکڑ کر مسجد سے گھسیڻتے ہوئے باہر لے گئے۔ بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص نے دری بن الحارث کو مسجد سے

باہر کیا۔ )ًایضا( اس کے برعکس ابن ہشام نے لکھا کہ آپؐ مدینہ سے کچھ گھنڻوں

کے فاصلہ پر ذی اوان میں تھے کہ اصحاب مسجد ضرار آپؐ کے پاس آئے، وہاں سے آپؐ کا قصد تبوک کا تھا ان لوگوں نے آپؐ سے کہا کہ ہم مسجد بنانا چاہتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ آپؐ اس میں نماز پڑھائیں، آپؐ نے فرمایا ابھی میں سفر پر ہوں اور کچھ مصروفیت ہے۔ جب واپس ہوں گے تو تمہارے لیے مسجد بنائیں گے اور اس میں تمہیں نماز پڑھائیں گے، واپسی میں جب آپؐ ذی اوان آئے یا یہ کہ آپؐ کو مسجد کے متعلق معلوم ہوا تو آپؐ نے مالک بن دخشم، بنی سالم بن عوف اور معن بن عدی کے دو افراد اور عاصم بن عدی اور بنی عجلان کے دو افراد کو بلایا اور کہا کہ وٴجا اس مسجد کو جس کو بنانے والے ظالم ہیں منہدم کردو، انطلقا الی ہذا المسجد الظالم اہلہ فاہدماه )۴( حکم نبوی پر عمل ہوا۔ آگے مسجد ضرار کو بنانے والوں کے نام دیے ہیں، جن کی تعداد باره تھی، ملاحظہ

فرمائیں: خذام بن خالد، ثعلبہ بن حاطب، معتب بن قشیر، ابو حبیبہ بن

الازعر، عباد بن حنیف، جاریہ ابن عامر، اس کے دونوں بیڻے مجمع بن جاریہ، زید بن جاریہ، نبتل بن الحارث، مخرج، بجاد بن عثمان اور ودیعہ بن ثابت ۔)۵( موخر الذکر تین ناموں کو چھوڑکر بلاذری کی فہرست منافقین

میں سارے نام موجود ہیں۔ یہود مدینہ: مدینہ میں یہودی قبائل آباد تھے، جس میں بنی نضیر،

یہ تھے۔ مشہور زیاده الاشہل عبد بنی اور حارثہ بنی قریظہ، بنی بنوقینقاع، نے آنحضورؐ جبکہ تھے، کرتے تنگ کو آنحضورؐ دن آئے بھی لوگ نے انہوں کا جس تھا۔ کیا معاہده کا امان و امن سے ان میں شروع شروع خلاف کے ان نے آنحضورؐ تو کی شکنی عہد اور کیا نہیں لحاظ و پاس اس کے سیرت نے بلاذری کردیا۔ جلاوطن سے مدینہ انہیں اور کی جنگ نشان کی یہود عظمائے ان کے مدینہ اور دی اہمیت بھی کو پہلو تاریخی سے ہاتھ موقع کوئی کا کرنے نابود و نیست کو اسلام نے جنہوں کی دہی

تھا۔ دیا نہیں جانے حی، ہے۔ کی دہی نشان کی ناموں ذیل درج کے قبیلہ اس نضیر: بنی یہود بارے کے لوگوں جیسے ان اور کے ان اخطب، ابن جدی یاسر، ابو مالک، تک عظیـم عـذاب سے اٴاٴنـذرتـہم علیہم سواء کـفـروا الـذیـن ان آیت یہ میں الاشرف ابن کعب رافع، ابو رافع، ربیع، کنانہ، مشکم، بن سلام ہوئی۔ نازل حنیف بن سعد رافع، ابو یجری، حجاج، بیڻے دونوں کے عمرو طائی، ایٓت یہ جب نے جس فنحاس، قیس، بن رفاعہ ۔کیا) قبول اسلام نے جنہوں( رب کے محمدؐ تو ہم دیکھو کہ کہا تو سنی حـسنـا‘‘ قـرضـا لله واقـرضـوا’’ کـفـر لـقد’’ اتری ایٓت یہ تو ہے۔ چاہتا قرض سے ہم وه ہیں، غنی زیاده سے بن محمود ۔قـالـوا‘‘ مـا سنکـتب اغـنـیـاء نـحـن فـقـیـرو لله ان قـالـوا الـذیـن بن سعیہ قیس، بن نباش عزیز، ابی بن عزیز جحاش، بن عمرو دحیہ، بن رافع الحارث، بن زید سکین، ابی بن سکین اوفی، بن نعمان عمرو، کو لوگوں یہ تھا، جاتا کہا بھی رزام کو اس رازم، بن اسیر خارجہ، زبان میں بارے کے آپؐ اور تھا کرتا برانگیختہ میں بارے کے آنحضورؐ اس تھا، دیا حکم کا کرنے قتل کو اس نے آپؐ میں خیبر تھا۔ کرتا درازی اور لائے اسلام یہ مخیریق، گئے۔ کیے قتل بھی یہودی چند ساتھ کے میں راه اس بلکہ ہوئے شریک صرف نہ میں احد جنگ ساتھ کے آنحضورؐ تھے۔ نہیں سے میں نضیر بنی یہ ہے جاتا کہا بھی یہ کیا، خرچ بھی مال

)۲۸۵ ص( یہود بنی قینقاع: بنی قینقاع میں درج ذیل یہودیوں کے نام بتائے ہیں۔

کنانہ بن صوبرا یا صوریا، زید بن نصیت، جس نے کہا تھا کہ

محمدؐ’’ کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس آسمان کی خبریں آتی ہیں، حال یہ ہے کہ اس کی اونڻنی گم ہوگئی اور اس کو پتہ نہیں کہ وه کہاں ہے؟‘‘ چنانچہ لله تعالیٰ نے نشان دہی کی، وه ملی۔ کسی درخت سے اس کی لگام باندھ دی گئی تھی۔ سوید، داعس، یہ دونوں منافق تھے، دونوں نے اسلام

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.