شذرات

Maarif - - ب ء۲۰۱۸ مئی معارف ۵/۲۰۱ -

کے دودھ کے جس تھی بچی سی ننھی معصوم ایک کی سال آڻھ وه نہایت ایک وه تھا۔ بانو آصفہ نام کا اس تھے۔ ڻوڻے نہیں ابھی بھی دانت ہیں۔ کہتے بکروال کو جس تھی رکھتی تعلق سے قبیلہ بدوش خانہ غریب ساتھ کے ریوڑوں اپنے لوگ یہ ہے۔ معاش ہٴذریع کا ان پالنا بکریاں بھیڑ علاقہ میدانی لیے کے گذارنے سردیاں اور ہیں گذارتے پر پہاڑوں گرمیاں مارے کے افلاس اور غربت اسی ہیں۔ اتٓے لوٹ طرف کی بستیوں اپنی میں آسائشوں ان بچپن کا اس بڑھی۔ پلی اور ہوئی پیدا آصفہ میں ماحول ہوئے پر طور عام کو بچوں کے گھروں پیتے کھاتے جو تھا نہیں واقف سے کی فطرت وه تھی۔ میسر نعمت کی تعلیم اسے ہی نہ اور ہیں ہوتی نصیب اپنے ، مرغزاروں اور وادیوں کی پاس آس اور تھی پلی میں آغوش پتہ کو جان سی ننھی معصوم اس تھی۔ پھرتی گھومتی ساتھ کے گھوڑوں جنگلی ہے۔ ہوسکتا خطرناک زیاده سے درندوں جنگلی انسان کہ تھا نہیں کے ان نے کائنات خالقِ کو جن ہیں پابند کے فطرت نوامیسِ ان بھی درندے

نہیں۔ انتہا کوئی کی پستی اور بہمیت کی انسان لیکن ہے کردیا مقرر لیے تھا۔ رہتا میں علاقہ رسنا کے کھڻوعہ میں جموں خاندان کا آصفہ

آئے رہتے یہاں لوگ یہ باوجود کے اکثریت کی مسلموں غیر میں خطہ اس پربھی خطہ اس اثر کا حالات ہوئے بدلتے سے تیزی میں ملک لیکن تھے علاقہ یہ سے ماحول مخالف مسلم اور لاقانونیت افزوں روز میں ملک پڑا۔ ہوئے بڑھتے کے پی جے بی اور ایس ایس،آر، سکا۔ ره نہیں محفوظ بھی ہوتا اضافہ میں مشکلات کی مسلمانوں بکروال آباد یہاں سے وجہ کی اثرات کی ان کرکے دخل بے کو مسلمانوں سے وہاں فرقہ اکثریتی تھا۔ جارہا لیے کے حصول کے مقصد اس تھا۔ چاہتا کرنا قبضہ پر وسائل اور زمینوں کردیا زده خوف اتنا کو لوگوں ان کہ تھی یہ کوشش گیا۔ بنایا منصوبہ ایک کریں۔ نہ رخ کا ادھر کبھی پھر اور جائیں چلے سے یہاں وه کہ جائے یہ دیا۔ انجام نے رام سنجی آفیسر گورنمنٹ ریڻائرڈ ایک کام کا بندی منصوبہ پر بچی سی ننھی ایک جو تھی سازش نفرت قابل اور ونیٴگھنا نہایت ایک نمونہ مکمل ایک کا اس یہ ہے گرسکتا تک پستیوں کن انسان تھی۔ مرکوز تیار سے آمیزے کے رانی ہوس اور انتہاپسندی مذہبی عداوت، نفرت، تھی۔ مسلمان وه کہ تھا یہ جرم کا اس بنی۔ آصفہ ننھی نشانہ کا سازش اس گئی کی معلوم نہیں بھی یہ جہاں تھی میں منزل اس کی عمر ابھی وه حالانکہ تھی

چرانے کو گھوڑوں اپنے بچی ہے۔ فرق کیا میں مسلمان اور ہندو کہ ہوتا نقل کی اس نے درندوں نما انسان ان تھی۔ جاتی چلی میں وادی تنہا لیے کے دس کی جنوری یہ کرلیا۔ اغوا اسے دن ایک اور رکھی نظر پر حرکت و

ملی۔ میں جنگل لاش کی اس کو جنوری ؍۱۷ تھی۔ تاریخ اندازه کا اس گئی گذر قیامت جو پر جان سی ننھی اس دوران اس خون اور رسانی ایذا تشدد، جنسی مظلومیت، کی اس نہیں۔ ممکن بھی کرنا دامن کے آپ اگر نے وںٴآنسو ہوگی۔ پڑھی ضرور نے آپ داستان کی ناحق کون دل سنگ ایسا گی۔ ہوں آئی بھر ضرور آنکھیں تو ہوگا کیا تر نہیں کو نہ آنکھیں کی اس سے غم فرط اور پڑھے داستان یہ جو ہے ہوسکتا انسان جائے۔ گذر نہ سے وجود کے اس لہر ایک کی دکھ گہرے اور پڑیں چھلک جاسکتا۔ کیا نہیں بھی تصور کا اس گذری کچھ جو پر جان سی ننھی اس اس ہوگی ہوئی دوچار وه سے کیفیت جس کی بسی اوربے دکھ کرب، اذیت، زیر کے وںٴدوا پیاسا بھوکا کو اس طرح جس ہے۔ سکتا لگا کون اندازه کا اور نوچتی کو اس ڻولی یہ کی درندوں طرح جس اور گیا رکھا اثر اس سب یہ اور ہے۔ آتا کو منھ کلیجہ سے تصور کے اس رہی بھبھوڑتی اسے کہ تھا یہ مقصد اور تھی مسلمان وه کہ گیا کیا لیے اس ساتھ کے منظم خلاف کے مسلمانوں جائے۔ بنادیا عبرت نمونہ لیے کے مسلمانوں خاص سے برسوں چند گذشتہ کاشت کی عداوت اور نفرت جس پر طور پر جان و جسم کے معصوم اس فصل کی اس ہے رہی جاتی کی سے طور سیاسی طرح جس کو جسم سے ننھے کے بچی معصوم ایک گئی۔ کاڻی ژرف زیاده بہت لیے کے سمجھنے کو اس گیا کیا استعمال لیے کے مقاصد دفن میں قبرستان آبائی اسے کہ ہے یہ ستم ہے۔ نہیں ضرورت کی نگاہی کے مڻی امانت کی مڻی جگہ اور کسی بالآخر اور گیا دیا کرنے نہیں بھی گی رہے تک جب قبر سی چھوڻی کی بالشت چند یہ گئی۔ کردی سپرد حدوں آخری کی پستی کی انسان اور گی رہے کرتی شرمسار کو انسانیت

گی۔ رہے باقی پر طور کے علامت ایک کی گئی چلی دور سے دنیا اس ہوئی بھری سے نفرت اور ظلم تو آصفہ ہوچکا۔ نصیب سکون ابدی میں رحمت دامن کے کریم رب اپنے اسے اور یہ کہ ہے صحیح یہ گئی۔ چھوڑ نشان سوالیہ سے بہت لیے ہمارے لیکن آصفہ نہیں۔ چیز نئی کوئی لیے کے ملک اس درندگی اور بربریت وحشت، المناک کی بچی مظلوم اس کی وٴانا ساتھ کے داستان بھری درد اس کی

بھڻک در در لیے کے انصاف سے سال ایک جو آئی سامنے بھی داستان کوشش ممکن ہر لیے کے بچانے کو ملزم حکومت یوپی اور تھی رہی خودسوزی سامنے کے گاه رہائش کی اعلیٰ وزیر نے اس جب تھی۔ کررہی اس بجائے کے ملزم لیکن آئی۔ سامنے کے دنیا بات یہ تب کی کوشش کی اندر کے جیل نے زوروں شہ کے ملزموں اور گیا کرلیا گرفتار کو باپ کے ازخود میں معاملہ اس کورٹ ہائی ابٓاد الٰہ اگر کردیا۔ ختم کے مار مار اسے بچانے کو ملزم باوجود کے اس ہوتی۔ ہوگئی ختم وہیں بات تو لیتا نہ نوڻس سہسرام ایڻہ، جھارکھنڈ، سورت، دوران اسی ہے۔ ہورہی کوشش مسلسل کی کیتشددجنسیساتھکےبچیوںچھوڻیسےحصوںدوسرےکےملکاور اڻٓھ جہاں ہے گئی پہنچ کو منزل اس حیوانیت تو اب ہیں۔ آرہی خبریں مسلسل

ہیں۔ ہورہی شکار کی مظالم ان بچیاں کی مہینے پانچ اور مہینے آصفہ باوجود کے یکسانیت ظاہری میں ان اور شناعت کی مظالم ان کے سالمیت کی ملک اور ہے الگ سے سب ان سے وںٴپہلو کئی معاملہ کا یہ کہ ہے یہ بات اہم میں سلسلہ اس ہے۔ علامت کی خطرے بڑے ایک انجام میں انداز بند منصوبہ اسے اور تھا جرم بند منصوبہ ایک طرح پوری بدترین اس کہ ہے یہ بات خطرناک اور اہم زیاده بھی سے اس گیا۔ دیا تھا یہ منصوبہ گیا۔ دیا پہنا لباده کا پرستی قوم کو جرم ونےٴگھنا اور درندگی بنادیا علامت گیر ملک ایک کی منافرت مسلم ہندو کو واقعہ شرمناک اس کہ کے کرنے دخل بے سے علاقہ اس کو قبائل بکروال پر طور مقامی جائے۔ مسلمانوں کو وںٴہندو پر پیمانے گیر ملک اور جائے کیا استعمال اسے لیے اور نفرت خلاف کے مسلمانوں اندر کے ان اور کرنے متحد خلاف کے طویل اس دراصل یہ جائے۔ بنایا ذریعہ کا ابھارنے کو جذبات کے عداوت کام سے مدت ایک قوتیں پرست فرقہ پر جس ہے حصہ کا اسڻریڻجی المیعاد اس بعد مہینہ کئی کے حادثہ تفصیلات کی واقعہ دردناک اس ہیں۔ کررہی ملزمین نے برانچ کرائم کی پولس کشمیر اور جموں جب آئیں سامنے وقت اور محنت بہت شیٹ چارج یہ کی۔ داخل شیٹ چارج میں عدالت خلاف کے کو ملزمین بہرصورت طاقتیں پرور فرقہ تھی۔ گئی کی تیار سے ایمانداری ذریعہ کے آئی بی۔ سی۔ کی واقعہ اس نے انہوں لیے اس تھیں، چاہتی بچانا وه تھے چاہتے کرنا حاصل مقاصد جو وه سے اس کیا۔ مطالبہ کا انکوائری راستہ کا انصاف نہیں۔ ضرورت کی تفصیل کی ان کہ ہیں واضح اتنے ملزمین گئی۔ کی قائم تنظیم ایک سے نام کے منچ ایکتا ہندو لیے کے روکنے میں تعداد بڑی علاوه کے مردوں میں جن گئے کیے مظاہرے میں دفاع کے

اور تشدد جنسی خلاف کے بچی معصوم ایک لیا۔ حصہ بھی نے عورتوں لیے اس تھا، نہیں جرم کوئی بھی نزدیک کے خواتین ان قتل سفاکانہ کا اس کو حصول کے انصاف منصبی فرض کا جن وکلاء تھی۔ مسلمان بچی کہ کے روکنے راستہ کا انصاف اور میں دفاع کے ملزمین وه ہے بنانا یقینی بلکہ نہیں ہی نے وکیلوں کے کھڻوعہ صرف آئے۔ میں میدان کے کھل لیے کیا فیصلہ کا جانے پر ہڑتال نے ایشن ایسوسی بار کے کورٹ ہائی جموں کی انصاف لیے کے بچی کی۔ مزاحمت میں کرنے داخل کو شیٹ چارج اور سنگھ راجاوت دیپکا وکیل خاتون شناس فرض اور بہادر والی لڑنے لڑائی دو کے کشمیر و جموں حکومت میں مظاہروں ان گئیں۔ دی دھمکیاں کو ملزمین نے انہوں اور تھے شامل پرکاش چندر اور سنگھ دلال وزراء کابینی رویہ کا حکومت مرکزی میں سلسلہ س ا کیا۔ خطاب کو مجمع میں دفاع کے اس ترجمان کے پارڻی اور وزراء مرکزی رہا۔ افسوسناک درجہ نہایت بھی ہے یہ بات کی افسوس زیاده رہے۔ کرتے توجہیں سے طرح طرح کی واقعہ وزیر گیا۔ کرایا سے ترجمان خاتون ایک اور وزراء خواتین کام یہ کہ حیثیت کی دوست انسانیت ایک نے جنہوں سوراج ششما محترمہ خارجہ پورے اس ہے، کی کوشش کامیاب خاصی کی کرنے پیش کو آپ اپنے سے کئی باوجود کے لسانی طلاقتِ تر تمام اپنی رہیں۔ خاموش بالکل میں قضیہ لگا ہونے محسوس ایسا توڑی۔ نہیں خاموشی اپنی نے اعظم وزیر تک دن جب لیکن گی۔ ہوجائیں کامیاب میں منصوبہ اپنے طاقتیں پرست فرقہ کہ تھا تفصیلات کی واقعہ دردناک اس بعد کے ہونے داخل میں عدالت شیٹ چارج پڑا۔ پھوٹ سا لاوا ایک کا غصہ و غم شدید میں ملک پورے تو ئٓیںا سامنے دلانے انصاف کو بچی کی اناو اور آصفہ ننھی تھا۔ احتجاج سراپا ملک پورا مارچ کینڈل اور ریلیاں شمار بے میں عرض و طول کے ملک لیے کے کردار موثر اور مثبت بھی نے میڈیا الیکڻرانک اور اخبارات گئے۔ نکالے متحده اقوام گیا۔ لیا نوڻس کا اس پر پیمانے بڑے بھی باہر کے ملک کیا۔ ادا ایم۔ آئی۔ کیا۔ جاری بیان سخت ایک میں سلسلہ اس نے جنرل سکریڻری کے جذبات اپنے میں سلسلہ اس کو اعظم وزیر خود نے سربراه خاتون کی ایف

کیا۔ آگاه سے نے اعظم وزیر میں وٴدبا کے حالات بعد کے خاموشی کی دن کئی

تو نہ میں اس کیا۔ جاری بیان واضح غیر اور مبہم ایک پر موضوع اس واضح سے لہجہ و لب کے اس کا۔ وٴانا نہ اور تھا ذکر راست براه کا کھڻوعہ دے استعفا نے وزیروں دونوں ان گیا۔ دیا میں وٴدبا کے حالات بیان یہ کہ ہے

تھا لیا حصہ میں ریلی والی نکلنے میں حمایت کی ملزمین نے جنہوں دیا لی۔ واپس ہڑتال اپنی نے ایشن ایسوسی بار جموں تھی۔ کی تقریر وہاں اور تو لیا نوڻس کا واقعہ کے وٴانا ازخود نے کورٹ ہائی آباد الٰہ طرف ایک دیپکا وکیل اور خانہ اہل کے آصفہ نے کورٹ سپریم طرف دوسری باہر سے جموں دی۔ ہدایت کی کرنے فراہم حفاظت مکمل کو سنگھ راجاوت نے ہند حکومت ہے۔ غور زیر کے عدالت معاملہ کا سماعت کی مقدمہ کا سزا کی موت لیے کے والوں بنانے نشانہ کا تشدد جنسی کو بچیوں کمسن تک حد بڑی حال صورت کہ ہے ہوتا محسوس ایسا بظاہر کیا۔ منظور قانون ہے۔ نظر فریبِ محض یہ نہیں۔ ہے ایسا درحقیقت لیکن ہے میں قابو اب لے کروٹ طوفان جو نیچے کے سطح والی آنے نظر پرسکون کی سمندر نتائج کے اس تو گیا کیا نہیں ادراک صحیح اور بروقت اگر کا اس ہے رہا

گے۔ ہوں خطرناک اور تلخ بہت کسی اسے جو ہے آتا لمحہ ایسا کوئی کبھی میں تاریخ کی ملکوں بظاہر میں حالات مخصوص کے وقت اس کا جس ہے دیتا ڈال پر رخ ایسے تو کہنا کچھ ساتھ کے وثوق بھی میں درجہ کسی ابھی ہوتا۔ نہیں امکان کوئی طاقتوں پرست فرقہ کہ ہے نہیں امکان از بعید بات یہ لیکن ہے نہیں ممکن ملک ظلم یہ والا جانے توڑا پر بچی سی ننھی معصوم ایک سے طرف کی اور عرض و طول کے ملک ہو۔ ثابت آغاز کا واقعات سلسلہ نئے ایک میں مرد، طرح جس بغیر کے تفریق کی ملت و مذہب میں گوشے گوشے احتجاج خلاف کے ظلم اس بچیاں اور بچے سے طور خاص اور عورتیں توقع کی اس کیا اظہار کا غصہ و غم شدید اپنے اور ائٓے نکل باہر لیے کے مسئلہ یہ مسلسل طرح جس ہو۔ رہی کو کسی ہی شاید میں ماحول موجوده معاشره ہندوستانی کہ ہوگیا یقین یہ کر دیکھ اسے رہا چھایا پر میڈیا سوشل سب ابھی اور ہے نہیں مری انسانیت ابھی ہے، زنده ابھی ضمیر اجتماعی کا کرنے محسوس درد کا دوسروں تک جب ہے۔ گیا نہیں نکل سے ہاتھ کچھ شبہہ بھی میں امر اس لیکن ہے۔ باقی امید تک وقت اس ہیں، باقی لوگ والے کی نفرت لوگ جو ہے۔ رہا گذر سے تیزی بہت وقت کہ ہے کم گنجائش کی کے روکنے کو سیلاب اس پاس کے ان کرتے نہیں اتفاق سے سیاست اس باقی کو امید اس کہ ہے یہ واقعہ ہے۔ گیا ره نہیں وقت زیاده بہت لیے ہے۔ ہوتی عائد پر مسلمانوں خود داری ذمہ بڑی سے سب لیے کے رکھنے مطابق کے تقاضوں کے اس ہوئے کرتے احساس کا نزاکت کی وقت کو ان

ہوگا۔ کرنا طے عمل لائحہ اپنا

بات اس اندازه کا مشکلات کی راه اس ہے نہیں آسان کام یہ لیکن نتیجہ کا ابُال وقتی کسی میں جذبات وه ہوا کچھ جو کہ ہے جاسکتا لگایا سے ہے حصہ کا منصوبہ المیعاد طویل سمجھے سوچے ایک یہ بلکہ تھا۔ نہیں ہے۔ ہورہا کام میں انداز بھرپور سے صدی ایک قریب پر منصوبہ اوراس میں نظریات کے والکر گول ایس ایم۔ اور ساورکر ڈی وی۔ جڑیں کی اس کی ایس ایس آر جبکہ تھا ہوا میں ۱۹۱۵ قیام کا مہاسبھا ہندو ہیں۔ پیوست اور نفرت خلاف کے مسلمانوں میں معاشره ہندو ہوئی۔ میں ۱۹۲۵ تاسیس گذشتہ سے مستعدی اور بندی منصوبہ پوری کام کا پھیلانے زہر کا انتقام بہت میں اس طورپر فطری بعد کے وطن تقسیمِ ہے۔ پارہا انجام سے سوسال والے ماننے کو نظریات ان سے جب میں برسوں چند گذشتہ آگئی۔ تیزی حالات ہے۔ ہوگیا اضافہ تک حد معمولی غیر میں اس ہیں آئے میں اقتدار کی ساورکر اب کہ ہے جاسکتا لگایا سے بات اس اندازه کا تبدیلی میں مسلمانوں حصہ بڑا ایک کا منصوبہ اس ہے۔ آویزاں میں پارلیمنٹ تصویر مسلم میں منصوبہ اس ہے۔ لینا انتقام کا زیادتیوں مفروضہ کی ماضی سے ایک اور حصہ ایک کے کارروائی انتقامی اس کو تشدد جنسی پر خواتین جواز کا اس پر بنیاد اسی اور ہے جاتا دیکھا پر طور کے ہتھیار سیاسی لوگوں جن میں نظر کی والوں رکھنے یقین پر خیالات ان ہے۔ جاتا کیا فراہم دی۔ انجام خدمت قومی بڑی ایک نے انہوں دیا انجام کام شرمناک یہ نے کو ملزمین تک ایشن ایسوسی بار کر لے سے منچ ایکتا ہندو سے وجہ اسی جو میں دفاع کے ملزمین گیا۔ کیا مظاہره کا سرگرمی اتنی لیے کے بچانے اس ہوئیں شریک بھی عورتیں ساتھ کے مردوں میں ان گئے کیے مظاہرے جے میں ان تھا۔ چاہتا رہنا نہیں پیچھے کوئی میں خدمت قومی اس کہ لیے کو درندگی اس گیا۔ لہرایا جھنڈا قومی اور گئے لگائے نعرے کے رام شری پہلے سے کرنے قتل کو بچی گیا۔ کیا انتخاب کا مندر‘‘’’ لیے کے دینے انجام ہیں۔ کرتی اشاره طرف اسی پر طور واضح باتیں سب یہ گئی۔ کی پاٹ پوجا نے وزراء دو کے پی جے بی والے لینے حصہ میں مظاہروں ان

گیا۔ سمجھا کامیابی کی اعلیٰ وزیر اسے تو دیا استعفا سے عہدوں اپنے جب والے ہونے ظاہر پر پیمانے وسیع میں ملک کہ گیا سمجھا یہ پر طور عام ہوگیا ظاہر یہ ہی بعد دنوں چند لیکن گیا، کیا ایسا میں وٴدبا کے غصہ و غم مستعفی نے وزراء ان تھا۔ حصہ ایک کا اسڻریڻجی کی پی جے بی یہ کہ بھی کچھ جو نے انہوں کہ تھا ظاہر سے ان دیے بیانات جو بعد کے ہونے والے ہونے مستعفی کہ ہے یہ بات اہم تھا۔ کیا پر ہدایت کی پارڻی وه تھا کیا

میں وںٴگا ایک ایک کے علاقہ سے یکسوئی اور آزادی پوری اب وزراء یہ پڑا دینا استعفا کو ان سے وجہ کی جس بظاہر ہیں رہے دے انجام کام وہی راجو اے ایل۔ ایم۔ کے کھڻوعہ میں نو تشکیلِ کی وزارت براں مزید تھا۔ تھا۔ رہا شریک میں مظاہروں ان بھی خود جو گئی دی وزارت کو جسرویڻا دیا ساتھ کا اعلیٰ وزیر میں معاملہ اس نے جنہوں کو اعلیٰ وزیر نائب سابق کو سنگھ کوبندر اسپیکر پر جگہ کی ان اور گیا دیا ہڻا سے منصب اس تھا، حلف نے اعلیٰ وزیر نائب نئے گیا۔ کیا مقرر پر منصب کے اعلیٰ وزیر نائب تھا واقعہ معمولی ایک معاملہ کا کھڻوعہ کہ دیا بیان یہ بعد فوراً کے برداری لیے کے کشمیر اور جموں گئی۔ دی اہمیت زیاده سے ضرورت کو جس کردی پوری بھی کسر سہی رہی میں بیان اپنے نے مادھو رام انچارج پارڻی نہیں باقی گنجائش کوئی لیے کے ظن حسن کسی میں سلسلہ اس اور والے جانے کیے سے طرف کی میڈیا بعد کے برداری حلف چھوڑی۔ واقعہ اس کا تبدیلی میں وزارت کہ کہا نے انہوں میں جواب کے سوالات تھا۔ جاچکا کیا میں ہی ابتدا تو فیصلہ کا اس بلکہ ہے نہیں تعلق کوئی سے دینے موقع کو لوگوں نئے لیے اس تھی کرچکی پورے سال تین حکومت ہے تعلق کا واقعہ دردناک اس تک جہاں چنانچہ گیا۔ کیا ایسا سے مقصد کے باقی ہے۔ آئی نہیں تبدیلی کوئی میں موقف کے پی جے بی میں سلسلہ اس ساتھ کے بچیوں اور بیانات والے جانے دیے میں مذمت کی اس تک جہاں ہے معاملہ کا قانون کے موت سزائے لیے کے والوں کرنے زیادتی جنسی گمانی خوش کسی سے ان ہیں۔ فیصلے گئے لیے میں وٴدبا محض سب یہ تو کی انڈیا آف کونسل بار صورت یہی نہیں۔ ضرورت کی ہونے مبتلا میں بھرے سے خبروں ان اخبارات ہے۔ کی رپورٹ کی کمیڻی جائزه کرده مقرر ہائی جموں دی۔ ہونے نہیں داخل میں عدالت شیٹ چارج نے وکلاء کہ رہے میں اس ہے بھیجی کو کورٹ سپریم رپورٹ جو میں سلسلہ اس نے کورٹ کمیڻی کرده مقرره کی انڈیا آف کونسل بار لیکن ہے۔ گئی کہی بات یہی بھی چارج سے وجہ کی مزاحمت کی وکلاء کہ سکا مل ثبوت کا اس تو نہ کو تصدیق کی بات اس ہی نہ اور جاسکی کی نہیں داخل میں عدالت شیٹ مظاہرے میں حق کے ملزمین گئی۔ دی دھمکی کو راجاوت دیپکا کہ ہوسکی تو اب اور ہے جارہا دھمکایا ڈرایا طرح ہر کو مظلومین ہیں۔ جاری بھی اب سوچ صحیح میں ملک ہے۔ جارہا کیا انکار ہی سے سرے کا واقعہ اس فکریہ لمحہ یہ لیے کے مسلمانوں خصوصا لیے کے فرد ہر والے رکھنے اضافہ صرف میں اس تو گیا کیا نہیں کچھ لیے کے روکنے کو اس اگر ہے۔

گا۔ جائے بن معمول کا روز یہ بلکہ ہوگا نہیں ہی

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.