انساب الاشراف میں مدنی روایات سیرت کا جائزه

کلیم صفات اصلاحی

Maarif - - ۳۲۵ ء۲۰۱۸ مئی معارف ۵/۲۰۱ -

(۳)

شہدائے بدر: بلاذری نے درج ذیل شہدا کے نام تحریر کیے ہیں:

عبیده بن الحارث )۱( جن( کو شیبہ بن ربیعہ نے قتل کیا تھا اور جن کی تدفین آپؐ نے صفرا میں کی)، یہ بنی عبدالمطلب کے خانوادے سے تھے )۲( ۔ عمیر بن ابی وقاص بنی( زہره کے تھے ان کو عمرو بن عبدودّ نے شہید کیا تھا)، بنی زہره کے حلیف عمیر بن عبد بن عمرو بن نضلہ جن( کو ابو اسامہ زہیر بن معاویہ الجشمی نے شہید کیا تھا) ۔)۳( بنی عدی بن کعب سے عاقل بن بکیر )۴( بعض( لوگوں نے ابن ابی بکیر کہا ہے لیکن بن بکیر زیاده صحیح ہے۔ ان کو مالک بن زہیر جشمی نے قتل کیا ۔تھا) مہجع )۵( حضرت( عمرؓ کے غلام، ان کو عامر الحضرمی نے قتل کیا تھا)، ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ بدر کے پہلے کے شہید ۔ہیں) بنی حارث بن فہر میں سے صفوان بن بیضا )۶( ان( کو طعیمہ بن عدی نے قتل کیا تھا، اس وقت ان کی عمر ۳۸ برس ۔تھی) اوس سے مبشر بن عبدالمنذر )۷( ان( کو ابوثور نے قتل کیا ۔تھا) سعد بن خیثمہ )۸( ان( کو بھی عمرو بن عبدودّ اور ایک روایت کے مطابق طعیمہ بن عدی نے شہید کیا ۔تھا) خزرج سے حارثہ بن سراقہ جو)(۹( حبان بن العرقہ کچھ( لوگوں نے العرفہ کہا ہے لیکن یہ تصحیف ہے) کے تیر سے زخمی ہوئے تیر ان کے نرخره میں لگا اور وه شہید ۔ہوئے) عوف )۱۰( اور معوذ )۱۱( یہ( ----------------------------------------------------------------------------------

دارالمصنّفین ، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ۔

تو تھیں پاس کے رفاعہ بن حارث جب عفراء ہیں۔ کے عفراء لڑکے دونوں لیل عبدیا بن بکر بعد کے طلاق ہوئے، پیدا لڑکے دو معوذ اور معاذ سے ان وه پھر ہوئے، پیدا ایاس اور خالد عامر، عاقل، سے ان ہوئی، شادی سے ہوئے۔ پیدا عوف سے ان تو کی شادی پھر سے ان نے حارث تو آگئیں مدینہ شہید دونوں یہ ہاتھوں کے ابوجہل میں بدر جنگ مطابق کے بیان کے واقدی عمیر ۔ہیں) قائل کے شہادت کی معاذ بجائے کے عوف میں بدر کلبی ہوئے، ۔تھا) کیا شہید نے العقیلی اعلم بن خالد کو ان( )۱۲( الجموح بن الحمام بن یزید ۔کیا) شہید نے جہل ابی بن عکرمہ کو ان( )۱۳( الزرقی معلی بن رافع الشاعر یزید کہ ہے بیان کا کلبی ہے، قول کا واقدی یہ( )۱۴فسحم( حارث بن کہا بھی یہ تھے، شخص ایک کے خزرج بن حارث بنی قیس، بن حارث بن سے میں قضاعہ بن قین یہ اور ہے نام کا ماں کی یزید فسحم کہ ہے جاتا ہے کاخیال لوگوں کچھ تھا، کیا قتل نے الدیلمی معاویہ بن نوفل کو ان تھیں، ایک ہے، نہیں ثابت یہ لیکن ہوئے شہید بدر روز انسہ غلام کے آنحضورؐ کہ کہ ہے روایت بھی یہ ہوئے، شہید میں احد کہ ہے اتفاق پر اس کا جماعت ہوا۔ انتقال میں دور کے ابوبکرؓ حضرت اور تھے زنده بھی بعد کے اس

(۲۹۶ ص( ناموں البتہ ہے، دی بھی نے سعد ابن فہرست یہی کی بدر شہدائے

ہے۔ نہیں میں سعد ابن نام کا عمرو عبد بن عمیر ۔)۱( ہے اختلاف میں ۔)۲( ہے‘‘ نہیں معلوم نام’’ کہ ہے لکھا نے سعد ابن متعلق کے نام آخری سطور کہ جیسا ہے نظر محل متعلق کے بیان کے بلاذری شہادت کی انسہ معلوم پر جنگ ہٴخاتم’’ کہ ہے لکھا نے شبلی مولانا ہے۔ چکا گزر میں بالا ۶ میں جن پائی، شہادت نے شخصوں ۱۴ صرف سے میں مسلمانوں کہ ہوا بلاذری لکھے۔ نہیں نام نے شبلی مولانا ۔ )۳( تھے‘‘ انصار سب باقی مہاجر واضح متعلق کے شہید ہر نے انہوں کہ ہے یہ خصوصیت کی فہرست کی کے کس وه تھا، سے قبیلہ کس تعلق کا ان کہ ہے کی دہی نشان پر طور

ہوئے۔ شہید ہاتھوں مقتولین و اسیران بدر: سیرت نگاروں نے بالعموم لکھا ہے کہ قریش

کے ۷۰ آدمی قتل اور اسی قدر گرفتار ہوئے۔ بعض نے بعض ناموں کی نشان دہی کی ہے۔ بلاذری کی خاص بات یہ ہے کہ جس قدر نام انہوں نے گنائے ہیں، غالبا اتنے کسی نے بھی ایک جگہ نہیں لکھے ہیں۔ خود صاحب طبقات نے بھی صرف ۱۸ مقتولین اور گیاره اسیروں کے نام لیے ہیں۔ بلاذری نے ۴۷ مقتولین اور ۲۶ اسیروں کا نام بہ نام تذکره کیا ہے ص( ۔۲۹۶ ۔)۳۰۵ دونوں قسم کی فہرستوں کا مقابلہ جب بلاذری کی نقل کرده

کی طبقات صاحب کہ ہوا معلوم سوا کے ایک چند تو گیا کیا سے فہرست میں مقتولین ہیں۔ موجود میں بلاذری فہرست نام بیشتر کے فہرست کرده نقل کے الخطاب بن عمر جو المغیره بن ہشام بن عاص نے بلاذری صرف وداعہ ابو اور الجمحی وہب بن عمیر بن وہب میں اسیروں اور تھے ماموں ہے توجہ قابل بھی بات یہ یہاں ہیں۔ کیے نہیں نقل نام کے سہمی ضبره بن فدیہ کا قیدی کس گیا؟ کیا قتل کون ہاتھوں کے صحابی کس میں مقتولین کہ کس تھا؟ سے قبیلہ کس تعلق کا اسیر و مقتول کیا؟ ادا کیا اور کتنا نے کس ضروری یہ سہی ہی مختصرا نے بلاذری گیا؟ کیا آزاد بلافدیہ کو قیدی

ہے۔ کی کوشش کی پہنچانے بہم تفصیلات سے مناف عبد بن شمس عبد بنی مطابق کے تحقیق کی بلاذری

مره بن تیم بنی ،۲ سے عبدالدار بنی ،۷ سے مناف عبد بن نوفل بنی ،۱۱ عامر بنی ،۵ سے سہم بنی ،۲ سے جمح بنی ،۱۵ سے مخزوم بنی ،۱ سے میں سلسلہ کے بدر مقتولین بعض گئے۔ کیے قتل اشخاص ۳ سے لوی بن میں سلسلہ کے الحضرمی بن عمرو مثلا ہے۔ کی تحریر بھی ترجیح اپنی نزدیک کے بلاذری ہوا۔ قتل ہاتھوں کے النجاری زید بن کعب یہ کہ ہے لکھا ۔جحش‘‘ ابن سریۃ فی قتل انہ الثبت’’ تھا۔ ہوا میں جحش ابن سریہ قتل کا اس

(۳۰۱ ص( کی نقل روایت کی واقدی نے بلاذری میں سلسلہ کے بدر اسیران تھی۔ ۷۰ ؍۷۰ یعنی برابر برابر تعداد کی بدر اسیران و مقتولین کہ ہے نقلروایتجونےزہریلیکنہے۔مرویہیایسےسےعباسؓ ابنحضرت یوم الاسری کان تھی۔ زائد سے ۷۰ تعداد کی دونوں مطابق کے اس ہے کی علاوه کے اس ۔)۳۰۵ ص( ایضًا سبعین من اکثر والقتلی سبعین من اکثر بدر بن عبدلله بن عبدالرحمٰن سند ہٴسلسل کا جس روایت ایک کی ہی واقدی کل کی بدر اسیران کہ ہے لکھا سے حوالہ کے ہے پہنچتا تک صعصعۃ ناموں لیکن رجلا۔ سبعون و اربعۃ بدر یوم اسر ۔)۳۰۶ ص( تھی ۷۴ تعداد تک عمرو بن سہیل سے طالب ابی بن عقیل میں اس ہے دی فہرست جو کی میں ذیل ذکر کا اسیروں ممتاز بعض ہیں۔ کیے تحریر نام کے افراد ؍ ۲۶ کے قیدیوں نے اسلام کہ ذکرہے قابل بھی بات یہ یہاں ہے۔ جاتا کیا مختصرا ہزار چار چار تو یوں پر قیدیوں بدری ہے۔ دیا حکم کا سلوک حسن ساتھ بغیر لوگ بعض سبب کے ناداری لیکن تھی گئی کی مقرر رقم کی فدیہ درہم بھی علم کا اس سے تفصیل ذیل درج گئے۔ چھوڑے کے ادائیگی کی فدیہ

ہوگا۔

عقیل بن ابی طالب کو عبید بن اوس نے قید کیا اور ان کے چچا عباس بھی قید کیے گئے، دونوں نے فدیہ ادا کیا۔ نوفل بن الحارث بن عبدالمطلب کو جبار بن صخر اور سائب بن عبید و عبید بن عمرو بن علقمہ دونوں کو سلمہ بن اسلم بن حریش الاشہلی نے قید کیا، رسول للهؐ نے دونوں کو بلا فدیہ کے آزاد کردیا۔ عقبہ بن ابی معیط، عبدلله بن سلمہ العجلانی اور حارث بن ابی وجره جن( کو وجره بن ابی عمرو بن امیہ بھی کہا جاتا ہے)، سعد بن ابی وقاص کے ہاتھوں قید ہوئے۔ حارث کے فدیہ کی رقم چار ہزار ولید بن عقبہ نے ادا کی۔ عمرو بن ابی سفیان بن حرب کو حضرت علیؓ نے قیدی بنایا تھا، سعد بن اکّال اسی زمانہ میں عمره کرنے مکہ گئے تو ابو سفیان نے ان کو محبوس کرلیا اور کہلا بھیجا کہ آپؐ عمرو بن ابی سفیان کو آزاد کریں گے تبھی سعد چھوڑے جائیں گے، چنانچہ عمرو بن ابی سفیان کو بغیر فدیہ لیے آپؐ نے بھیج دیا تو ابو سفیان نے بھی ابن اکّال کو ان کے عوض آزاد کیا ص( ۔)۳۰۱ بعض لوگوں سے ان کا نام سعد بن نعمان بن اکّال اور کلبی سے زید بن اکّال بن لوذان بن الحارث بن امیہ بن زید بن مالک مروی ہے۔ ابوالعاص بن الربیع، عمرو بن الازرق، ابوالعاص بن نوفل، عثمان بن عبد شمس، ابو ثور، ابو عزیز بن عمیر، عدی بن الخیار، اسود بن عامر، سائب بن ابی حبیش بن المطلب بن اسد، حویرث بن عباد، مالک بن عبیدلله، امیہ بن المغیره، عثمان بن عبدلله، ولید بن ولید بن مغیره، صیفی بن ابی رفاعہ، خالد بن اعلم عقیلی، عبدلله بن ابی خلف، ابو عزه الجمحی اور سہیل بن عمرو کو اسیران بدر میں لکھا ہے ص( ۔۳۰۱ ۔)۳۰۳ اور کس کو کس نے اسیر کیا، اس کی تفصیل فراہم کی ہے۔ سہیل بن عمرو کو مالک بن دخشم نے اسیر کیا تھا۔ بلاذری نے سہیل کے متعلق قدرے تفصیل سے لکھا ہے۔ یہ حضرت سودہؓکے عزیز تھے، جب ان کی نگاه ان پر پڑی تو ابن ہشام میں ہے کہ وه بے ساختہ بول اڻھیں ، تم نے بھی عورتوں کی طرح چوڑیاں پہن لیں، یہ نہ ہوسکا کہ لڑکر مرجاتے ۔)۴( بلاذری لکھتے ہیں کہ حضرت سودهؓ نے جب ان کو قید میں اس حال میں دیکھا کہ ان کا ہاتھ پیچھے گردن میں تھا تو خود کو روک نہیں پائیں اور کہا تم لڑکر شریفانہ مر نہیں سکتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا اے سوده! لله اور اس کا رسول بڑا ہے۔ تو سودهؓ نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس کو اس حالت میں دیکھ کر پائی۔نہیںروک اے لله کے رسولؐ معاف

کردیجیے، آپؐ نے فرمایا لله تمہیں معاف کرے۔ ص( (۳۰۳ بدر کے بعد کے غزوات: هٴغزو بدر کے بعد هٴغزو بنی قینقاع، هٴغزو

سویق، هٴغزو قرقرة الکدره، هٴغزو بنی غطفان ذی امر، هٴغزو بجران نام سے

غزوات کی تفصیل ہے۔ جن کے وقوع کے سنین کا تذکره اوپر کیا جاچکا ہے۔ یہاں ہر غزوه کے ان اصلی اسباب کا تذکره مختصرا کیا جائے گا جن کی نشان دہی بلاذری نے کی ہے۔ اسباب بالعموم وہی لکھے ہیں جو اور ارباب سیر نے تحریر کیے ہیں یعنی هٴغزو بنی قینقاع کا اصلی سبب یہودیوں کی جانب سے نقض عہد اور ایک انصاری عورت کی سر بازار بےحرمتی، هٴغزو سویق کا سبب جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لیے مدینہ پر ابو سفیان کی چڑھائی اور آنحضورؐ کا تعاقب، هٴغزو کدر کا سبب بنی غطفان و بنی سلیم کا حملہ کے لیے قرقرة الکدر کے پاس اکڻھا ہونا، هٴغزو بنی غطفان کا سبب بھی مقام ذی امر میں بنی ثعلبہ و بنی محارب اور هٴغزو

بجران کا سبب بنی سلیم کا مقام بجران میں اجتماع تھا۔ ص( ۔۳۱۰ (۳۱۱ هٴغزو احد: هٴغزو احد کی تفصیلات ۲۸ صفحات میں ہیں۔ بدر کے بعد

احد کا معرکہ غزوات میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بلاذری کے مطابق ؍۷ شوال ھ۳ میں سنیچر کے روز پیش آیا ص( ۔)۳۱۳ یہ دراصل کشتگان بدر کی انتقامی جنگ تھی جو بدر سے بھی زیاده تیاری کے ساتھ لڑی گئی تھی۔ بعض اشراف قریش اسود بن مطلب، جبیر بن مطعم، صفوان بن امیہ، عکرمہ بنی ابی جہل، حارث بن ہشام ، عبدلله بن ابی ربیعہ، حویطب بن عبدالعزی ابو سفیان کے پاس گئے اور کہا کہ یہ اہل مکہ کے اموال ہیں، اس کو محمدؐ پر چڑھائی کے مصرف میں خرچ کریں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابوسفیان خود ان لوگوں کے پاس گئے تھے اور مدینہ پر لشکر کشی کی تحریک کی تھی۔ فدعاہم الی توجیہ جیش الی رسول لله صلی لله علیہ وسلم۔

ص( (۳۱۲ احد کے اہم واقعات: احد کے اہم واقعات میں خاتونان حرم کی شرکت

بھی تھی۔ علامہ شبلی نے لکھا ہے کہ لڑائیوں میں ثابت قدمی اور جوش جنگ کا بڑا ذریعہ خاتونان حرم تھیں۔ جس جنگ میں خواتین ہوتیں، عرب عورتوں کی بے حرمتی اور بے عصمتی کا خیال کرکے اپنی جان پر کھیل کر لڑتے تھے۔ علامہ شبلی نے معزز گھرانوں کی آڻھ خواتین ہند بن عقبہ، ام حکیم، فاطمہ، برزه، ریطہ، خناس کے علاوه حاشیہ میں سلافہ بنت سعد اور عمیره بنت علقمہ کا طبری اور زرقانی کے حوالہ سے نام تحریر کیا ہے ۔)۵( بلاذری نے کل ؍۱۳ خواتین کے نام لکھے ہیں، جن میں ریطہ اور عمیره نہیں ہیں۔ ان کے علاوه بلاذری نے جن اور عورتوں کے نام لکھے ہیں ان میں امیمہ بنت سعید کنانی، بغوم بنت المعذّل کنانی، ہند بنت منبہ بن حجاج سہمی، رملہ بنت طارق، ام حکیم بنت طارق بن علقمہ، قتیلہ بنت عمرو بن ہلال، مسک الذئب الکنانی کی بیوی دغینہ اور عمره ہیں جس نے

(۳۱۳ ص( تھا۔ لیا اڻھا دلیرانہ کر بڑھ کو قریش علم نے عباس میں جس آنحضورؐ بنام عباس مکتوب علاوه کے اس قریب کے مدینہ کا مشرکین یعنی تھی، دی اطلاع کی تیاریوں کی قریش چھوڑنا، لیے کے چرنے میں کھیتوں کے انصار کو اونڻوں اپنے اور پہنچنا تین کی قریش کرنا، ماتم پرجوش لیے کے بدر مقتولین کا قریش خواتین دوسو اونٹ، ہزار تین پوش، زره سو سات میں جن جمعیت، مشتمل پر ہزار

(۳۱۳ ص( ۔ گھوڑے آنحضورؐ کا خواب و خطاب: آنحضورؐ کا خطاب اور خطاب میں اپنے

خواب کا ذکر کہ آپ ایک مضبوط زره پہنے ہوئے ہیں، آپؐ کی تلوار ذوالفقار دھار کے پاس سے ڻوٹ گئی ہے۔ ایک گائے ذبح کی جارہی ہے اور ایک مینڈھا اس کے پیچھے ہے۔ آپؐ سے اس کی تعبیر پوچھی گئی تو آپؐ نے فرمایا کہ محفوظ زره مدینہ ہے، تلوار کا ڻوٹ جانا مجھ پر مصیبت ہے، مذبوحہ گائے میرے اصحاب کا شہید ہونا ہے، مینڈھے کے تعاقب سے مراد لشکر کفار ہے جن کو انشاءلله ہم قتل کریں گے ۔)۳۱۴( صاحب طبقات نے لکھا ہے کہ رسول للهؐ کے اس خواب کی وجہ سے رائے ہوئی کہ مدینہ سے نہ نکلیں اور آپؐ بھی چاہتے تھے کہ آپؐ کی رائے کی موافقت کی جائے۔ اس لیے آپؐ نے صحابہ سے مشوره کیا، عبدلله بن ابی اور اکابر مہاجرین و انصار نے یہی رائے دی۔ فکان رای رسول لله صلی لله علیہ وسلم ان لا یخرج من المدینۃ لہٰذه ویاٴالر فاحب ان یوافق علی مثل رایہ فاستشار اصحابہ فی الخروج فاشارعلیہ عبدلله بن ابی بن سلول ان لا یخرج

وکان ذلک رای الاکابر من المہاجرین والانصار۔ (۶( عبدلله بن ابی کا واپس ہونا: عبدلله بن ابی کی رائے بھی شہر سے

باہر نکل کر لڑنے کی نہ تھی، چنانچہ بلاذری کے مطابق اس کے منافق ساتھیوں نے اس سے کہا کہ تمہاری رائے قبول نہیں کی گئی جبکہ آنحضورؐ نے اپنے ساتھ کے چھوڻے بچوں کے مشوره کو قبول کرلیا، اس لیے وه تین سو ساتھیوں کے ساتھ واپس ہوگیا۔ فلم یقبل منک واطاع ولاءٴہ

الغلمان الذین معہ فانصرف فی ثلاث ماٴة ۔ ص( (۳۱۵ صحابہ کرامؓ کی تعداد: آپؐ نے محمد بن مسلمہ کو پچاس آدمیوں کے

ساتھ پہره داری کے لیے مقرر کیا اور مشرکین سے مقابلہ کے لیے روانہ ہوئے ۔)ًایضا( مسلمانوں کے پاس جنگ احد میں صرف دو گھوڑے تھے۔ ایک آنحضورؐ کے پاس اور دوسرا ابی برده بن نیار البلوی کے پاس۔ مسلمانوں کی کل تعداد ایک ہزار تھی، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے

پاس جتنی قوت اور ساز و سامان جنگ بدر میں تھا اتنا اس میں بھی تھا،

ویقال کانوا منعتہم یوم بدر ص۔( (۳۱۶ معاملہ رافع و سمره: ان میں سو آدمی زره پوش تھے۔ جب مقام

شیخین پہنچے تو آپؐ کے سامنے عبدلله بن عمر، زید بن ثابت، اسامہ بن زید، زید بن ارقم، براء بن عازب، اسید بن ظہیر، عرابہ بن اوس بن قیظی، ابو سعید الخدری، سمره بن جندب، رافع بن خدیج پیش کیے گئے۔ رافع کا بیان ہے کہ میں لمبا ہونے کی کوشش کرنے لگا اور رسول للهؐ کو یہ بتایا کہ میں تیر انداز ہوں۔ چنانچہ مجھے آپؐ نے اجازت دے دی ۔)۷( سمره کی بات آئی تو ان کے والد مری بن ثابت نے آنحضورؐ سے کہا کہ آپؐ نے میرے بیڻے کو واپس کردیا حالانکہ میرا بیڻا رافع کو پچھاڑ سکتا ہے تو پؐآ نے دونوں میں مقابلہ کرایا، سمره غالب آئے تو ان کو بھی اجازت مل گئی ۔)ًایضا( انہ فقال رسول لله صلی لله علیہ وسلم تصارعا فصرع سمره رافعا فاجازه ۔بلاذری نے واقدی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ سمره کو جنگ احد میں ایک تیر لگا جس کے سبب ان کی ہنسلی ہنستے وقت باہر آجاتی تھی اور ان کوعجیب محسوس ہوتا تھا تو رسول للهؐ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم کہو تو میں لله سے دعا کروں، تو تم اس سے نجات و،ٴپاجا اگر چاہو تو رہنے دو۔ اس لیے کہ جب تم اس حالت میں انتقال کروگے تو شہید ہوگے۔

چنانچہ رافع نے اس کو ویسے ہی رہنے دیا۔ )ًایضا( مشرکین اور آنحضورؐ کی صف آرائی: مشرکین نے میمنہ پر خالد بن

ولید، میسره پر عکرمہ بن ابی جہل کو مقرر کیا، سواروں کا دستہ صفوان بن امیہ اور ایک روایت کے مطابق عمرو بن العاص کی کمان میں تھا اور

عبدلله بن ابی ربیعہ کو سو تیر اندازوں کا افسر مقرر کیا تھا۔ )ًایضا( آنحضورؐ نے مسلمانوں کی صفوں کو درست کیا، میمنہ اور میسره بنایا، خطبہ دیا۔ جہاد کی ترغیب دی، صبر، یقین اور جد و جہد اور سرگرم رہنےکی تلقین کی ۔)ًایضا( مہاجرین کا علم حضرت علیؓ کو عنایت کیا۔ مشرکین کے علم کے متعلق پوچھا تو اپٓؐ کو بتایا گیا کہ طلحہ بن ابی طلحہ کے ہاتھ میں ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہم اس وفائے عہد یعنی مقابلہ کے زیاده مستحق ہیں۔ پھر علم مصعب بن عمیر کے حوالہ کیا۔ اوس کا علم اسید بن حضیر اور خزرج کا سعد بن عباده اور ایک روایت کے مطابق حباب بن منذر کے پاس تھا۔ تیراندازوں کا افسر عبدلله بن جبیر کو مقرر کیا۔ مدینہ کو سامنے اور احد کو پشت پر رکھا اور تیر اندازوں سے جن کی تعداد پچاس تھی فرمایا کہ دیکھو اسی مقام پر ڈڻے رہنا، یہاں سے ہڻنا نہیں۔ ہماری پشت

کی حفاظت کرنا اگر ہماری شکست بھی ہورہی ہو تب بھی تم اسی جگہ ثابت قدم رہنا، یہاں سے کسی بھی صورت ہڻنا نہیں۔ مسلمان تیر برسانے لگے اور کوئی تیر ایسا نہیں تھا جو کسی آدمی یا گھوڑے پر نہ لگتا رہا ہو۔

ص( (۳۱۷ خاتونان قریش کا دف بجانا اور رجزیہ اشعار پڑھنا : تمام مصادر

سیرت بالخصوص ابن ہشام نے ابن اسحاق کے حوالہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ خواتین قریش دف پر اشعار پڑھتی ہوئی نکلیں اور انہیں برانگیختہ کرنے لگیں ۔)۸( بلاذری نے بھی لفظ قالوا‘‘’’ سے یہی بات لکھی ہے فجعل’’ نساء قریش یضر بن یوم احد بالدفوف و یقلن‘‘ ص( )۳۱۷ لیکن ابن ہشام کے مطابق ابوسفیان کی بیوی آگے تھی اور اس کے ساتھ کچھ عورتیں تھیں۔ قامت ہند بنت عتبہ فی النسوة الاتی معہا ۔)۹( صاحب سیرة النبی نے ابن ہشام کے حوالہ سے اسی روایت کو نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ ہند کے ساتھ چوده عورتیں تھیں )۱۰( جب کہ اصل روایت میں عورتوں کی تعداد نہیں ہے۔ ابن اسحاق اور ابن سعد وغیره میں سے کسی نے بھی

اس روایت کے ذیل میں تعداد تحریر نہیں کی ہے۔ مسلمانوں کی فتح و شکست: تقریبا تمام سیرت نگاروں نے اس جنگ

میں پہلے مسلمانوں کی فتح و غلبہ کا حال لکھا ہے اور مسلمانوں کو فاتح قرار دیا ہے۔ مسلمانوں کے بے پناه حملوں اور ان کے شجاعانہ کارناموں کے سبب قریشیوں کے وںٴپا اکھڑ گئے۔ خواتین قریش جو مسلسل ان کا حوصلہ بڑھا رہی تھیں، حواس باختہ ہوکر پیچھے ہٹ گئیں اور بلاذری کے بیان کے مطابق انہوں نے اپنے مردوں پر یہ عظیم مصیبت دیکھی۔ ورای النساء برجالہن امرا عظیما ۔ ص( ۔۳۱۷ )۳۱۸ مشرکین شکست سے دوچار ہوگئے، فانہزم المشرکون )ًایضا( اس کے بعد مسلمان مشرکین کی فوج میں داخل ہوکر غنائم کے حصول میں لگ گئے یہاں تک کہ وه پچاس تیر انداز جو پشت پر مقرر تھے وه بھی غنیمت کی طرف جھکے اور حضرت عبدلله بن جبیر کی بات نہ مانی۔ اور کہا کہ رسول للهؐ نے یہاں جنگ جاری رہنے تک رکنے‘‘’’ کہا تھا۔ فقال قائلہم انما امر رسول لله صلی لله علیہ وسلم بالوقوف ما دامت الحرب ص( )۳۱۸ ۔ مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر مشرکین نے ان پر حملہ کردیا، خالد بن ولید نے پہاڑ کی پشت کی جانب سے حملہ کیا اور مسلمان جیتی ہوئی جنگ ہار گئے اور زیاده تر مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا اور صرف ؍۱۵ اشخاص آپؐ کے اصحاب میں بچے جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر آپؐ کا دفاع کیا ۔)ًایضا( اور حملے کے اپٓؐوقت حفاظتکی لگےمیں فلم)ًایضا(رہے یثبت مع رسول صلیلله

لله علیہ وسلم الا خمسۃ عشر رجلا فکانوا لا یفارقونہ وحموه حین کر المشرکون ۔ صاحب سیرة النبی نے ان جاں نثاروں کی کل تعداد گیاره تحریر

یک ےہ نج ںمی حضرت ،علیؓ تحضر ،ابوبکرؓ تحضر دسع نب ابی وقاصؓ، حضرت زبیر بن العوامؓ، حضرت ابو دجانہؓ اور حضرت طلحہؓ کا نام بطور خاص لکھا ہے۔ اور صحیح بخاری کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ آنحضورؐ کے ساتھ صرف حضرت طلحہؓ اور حضرت سعدؓ ره گئے تھے۔ (۱۱) یعنی مہاجرین آڻھ میں روایت اپنی نے بلاذری برخلاف کے اس بن سعدعوفؓ، بن عبدالرحمٰن علیؓ، حضرت عمرؓ، حضرت ابوبکرؓ، حضرت اور الجراحؓ بن عبیده ابو العوامؓ، بن زبیر عبیدللهؓ، بن طلحہ الوقاصؓ، ابی افلح، بن ثابت بن عاصمؓ ، دجانہؓ ابو المنذرؓ، بن حباب صحابہ انصاری سات نام کے معاذ بن سعد حضیر، بن اسید حنیف، بن سہل الصمہ، بن حارثؓ انصاری سات اور مہاجر سات نے سعد ابن ۔)۳۱۸ ص( ہیں کیے تحریر اصحابہ من عصابۃ معہ ثبت )۱۲( ہے لکھی تعداد کی ؍۱۴ کل یعنی صحابہ میں میں احد جنگ الانصار۔ من وسبعۃ المہاجرین من سبعۃ رجلا عشر اربعۃ ان تھی، کی بیعت پر ہاتھ کے آپؐ کی ہونے قربان پر آپؐ نے صحابہ آڻھ جن بن عاصم منذرؓ، بن حباب صمہؓ، بن حارث ابودجانہؓ، طلحہؓ، زبیرؓ، علیؓ، میں نہیں نصیب شہادت بھی کو کسی سے میں ان تھے۔ حنیفؓ بن سہل ثابتؓ، ثمانیۃ الموت علی احد یوم وسلم علیہ لله صلی لله رسول بایع ۔)ایضا( ہوئی

منہم۔ احد یقتل فلم .... آپؐ پر حملہ کی تفصیل: عام ارباب سیر نے جنگ احد میں مسلمانوں

بالخصوص آپؐ پر حملہ کی تفصیل کا بہت دردناک نقشہ کھینچا ہے اور لکھا ہے کہ دونوں فوجیں بدحواسی میں اس طرح باہم مل گئیں کہ خود مسلمان مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔ واختلط المسلمون فصاروا یقتلون علی غیر شعار۔ )۱۳( مسلمانوں نے اس جنگ سے بہت کچھ سیکھا اور غالبا پوری اسلامی تاریخ میں شاید ہی اس کے بعد کوئی ایسی جنگ ہوئی ہو جس میں مسلمانوں کی ایسی بدحواسی ظاہر ہوئی ہو کہ وه اپنے اور غیر میں تمیز نہ کرسکے ہوں۔ کتب احادیث میں ہے کہ حضرت مصعب بن عمیرؓ کے قتل کے بعد یہ شور مچ گیا کہ آپؐ شہید ہوگئے۔ لیکن بلاذری نے اس روایت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ آپؐ پر حملہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی صفیں ڻوٹ گئیں، نحضورؐآ کے

اگلے چار دانتوں پر ضرب آگئی، ہونٹ چہره، اور پیشانی پر زخم آگیا۔ عبدلله بن شہاب زہری، عتبہ بن ابی وقاص، ابن ہٴقم ادرمی، ابی بن خلف جمحی، عبدلله بن حمید نے اپٓؐ کو قتل کرنے کا اپٓس میں عہد کیا تھا۔ چنانچہ ابن شہاب نے آپؐ کی پیشانی پر اور عتبہ نے چار پتھر پھینکے، جس سے آپؐ کے اگلے چار دانت زخمی ہوگئے، ابن ہٴقم نے چہره مبارک پر تلوار ماری جس کے صدمہ سے مغفر کی کڑیاں چبھ گئیں، اپٓؐ گر پڑے اور اپٓؐ کا زانو چھل گیا۔ ابی بن خلف نے آپؐ پر نیزه مارا، لله نے آپؐ کی مدد فرمائی اور آپؐ کے ہاتھوں اس کا قتل ہوا۔ عبدلله بن حمید آپؐ پر حملہ کے لیے بڑھا تو ابو دجانہ نے اس کا کام تمام کردیا۔ اور کہا یہ لو، میں ابن خرشہ ہوں تو آپؐ نے فرمایا اے لله! ابن خرشہ سے راضی ہوجا، اس لیے کہ اسمیں سے راضی ہوں۔ ارضاللہم خرشہابنعن فانی عنہ راض۔ ص(

(۳۲۰ آنحضورؐ کا اپنے حملہ آوروں کے لیے بددعا :کرنا واقدی کی روایت

ہے کہ لله کے رسولؐ نے ان قاتلوں کے لیے بددعا کی تھی کہ اے لله ان میں سے کسی پر سال نہ گزرنے پائے۔ چنانچہ عتبہ اور ابن ہٴقم تو اسی جنگ میں مارے گئے۔ بقیہ کے متعلق واقدی خاموش ہیں۔ اس پر بلاذری لکھتے ہیں کہ واقدی نے ابن شہاب اور اس کی ہلاکت کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے۔ اس سلسلہ میں میرا خیال ہے کہ ان کو وہم ہوا ہے احسب ذلک بالوہم منہ۔ ص( )۳۲۴ جہاں تک ابی اور ابن حمید کا معاملہ ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عبدلله بن حمید جنگ بدر ہی میں مارا جاچکا تھا، حالانکہ صحیح یہ ہے کہ اس کا قتل احد میں ہوا۔ عبدلله ابن شہاب کے متعلق کچھ قریشی لوگوں سے معلوم ہوا کہ مکہ جاتے وقت راستہ میں اس کو اژدھے نے ڈس لیا اور وه مرگیا۔ بعض بنی زھره نے بھی اس کے متعلق اس بات سے انکار کیا کہ رسول للهؐ نے اس کے لیے بددعا کی یا اس نے آنحضورؐ پر حملہ کیا۔ لوگوں نے بتایا کہ آپؐ پر

عبدلله ابن حمید اسدی نے حملہ کیا تھا۔ )ًایضا( بعض اور واقعات: حضرت فاطمہؓ کا آپؐ کے چہره پر جاری خون کو

دھونا، خون نہ رکنے پر چڻائی کا ڻکڑا جلا کر اس کی راکھ کا زخم پر رکھنا، والد محترم کی حالت دیکھ کر آنسو بہانا، حضرت علیؓ کا پانی لانا، حضرت صفیہ کا یہودی پر حملہ، انٓحضورؐ کا حضرت حمزهؓ کے بارے میں پوچھنا ۔)ًایضا( حضرت عمرو بن ثابت کا جنگ احد کے دن قبول اسلام اور ان کی شہادت اور ایک وقت کی بھی نماز کا موقع نہ ملنا اور آپؐ کی بشارت ’’ وانہ لمن اہل الجنۃ ۔‘‘ یہودی عالم مخیریق کا آنحضورؐ کے لیے

لڑنا اور قتل ہونے پر اپنی جائداد کے متعلق یہ کہنا کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو میرے اموال محمدؐ کو دیے جائیں، وه لله کی مرضی کے مطابق جس کو چاہیں دے دیں گے۔ ان اصبت فاموالی لمحمد یضعھا حیث اراه لله ۔)۱۴( نسیبہ بنت کعب ام عماره کی شرکت اور آپؐ کے لیے عین مشرکوں کے حملہ کے وقت سینہ سپر ہوجانا، آنحضورؐ کا دفاع کرتے وقت ابن ہٴقم کی تلوار سے ان کے کندھے پر زخم آنا ۔)ًایضا( وہب بن قابوس اور ان کے بھتیجے حارث بن عقبہ کی احد میں شرکت و شہادت اور حضرت عمرؓ کا

ان دونوں کی شہادت پر رشک کرنا وغیره کا ذکر بھی ہے۔ ص( (۳۲۶ احد میں پیچھے ره جانے والے صحابہ: جنگ احد میں پیچھے ره

جانے والوں میں حارث بن حاطب، ثعلبہ بن حاطب، سواد بن غزیہ، سعد بن عثمان، عقبہ بن عثمان، خارجہ بن عامر، اوس بن قبطی اور حضرت عثمان

بن عفان کا نام لیا ہے ۔)ًایضا( اختتام جنگ پر ابو سفیان و حضرت عمرؓ کے مابین مکالمہ: کےجنگ

بعد جب دونوں فوجیں الگ ہوگئیں تو ابو سفیان سامنے آیا اور کہا کہ ابن کبشہ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر کہاں ہیں؟ یہ بدر کا انتقام ہے۔ جنگ کا پانسہ پلڻتا رہتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ یہ رسول للهؐ ہیں ، یہ ابوبکر اور یہ میں ہوں۔ اس کے بعد اعل’’ ہبل‘‘ والی مشہور روایت نقل کی ہے۔ عام طور پر لله’’ مولٰنا ولا مولی لکم‘‘ پر سیرت نگاروں نے اس رجزیہ گفتگو کو ختم کردیا ہے لیکن بلاذری نے آنحضورؐ کے اس قول پر لا’’ سواء قتلانا فی الجنۃ احیاء یرزقون وقتلاکم فی النار یعذبون‘‘ یعنی دونوں برابر نہیں ہیں، ہمارے مقتول جنت میں ہوں گے، وه زنده ہیں اور انہیں لله کی طرف سے رزق پہنچایا جاتا ہے اور تمہارے مقتول جہنم میں ہوں گے

ص( )۳۲۷ پر ختم کیا ہے ۔ (۱۵( شہدائے احد کی تعداد: مولانا سید سلیمان ندوی نے بخاری کے حوالے

سے شہدائے احد کی کل تعداد ستّر تحریر کی ہے )۱۶( ۔ ابن سعد کے مطابق صرف انصاری صحابہ کی تعداد ستّر تھی ۔)۱۷( بلاذری نے ستّر کے ساتھ ساتھ ؍۷۳ ۷۴ کی تعداد کا بھی ذکر کیا ہے لیکن نام ؍۷۲ افراد کے لکھے ہیں ص( ۔۳۲۸ ۔)۳۳۴ انداز یہ اختیار کیا ہے کہ کس صحابی نے کس کے ہاتھ سے جام شہادت نوش کیا، زیاده تر ان کے نام بھی لکھ دیے ہیں۔ بلاذری کے مطابق مہاجرین میں حضرت حمزه وحشی حبشی اور شماس بن عثمان بن شریک، عبدلله بن جحش اسدی، ابوالحکم بن اخنس بن شریق، حضرت سعد مولی حاطب ابن ابی بلتعہ، حلیف زبیر ان( کے بارے

میں کہا جاتا ہے کہ یہ جنگ بدر میں شہید ہوئے ، حالانکہ یہ غلط ہے ذلک غلط) ابی بن خلف، ابو سلمہ بن عبدالاسد جراح یہ( زخمی ہوئے لیکن انتقال احد کے بعد ہوا)، حضرت مصعب بن عمیر، ابن ہٴقم کے ہاتھوں اور حبیب کے دونوں لڑکے عبدلله اور عبدالرحمٰن ، وہب بن قاموس اور حارث

بن عقبہ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ ص( (۳۲۸ بلاذری نے شہدائے احد میں انصاریوں کے ناموں کی جو فہرست

نقل کی ہے اس کو شمار کرنے سے معلوم ہوا کہ قبیلہ اوس کے ؍۲۴ اور قبیلہ خزرج کے ؍۴۰ افراد شہید ہوئے۔ اس طرح انصاری صحابہ کی کل

تعداد ؍۶۴ اور مہاجرین کی ؍۸ ہے۔ اوپر گذر چکا ہے کہ جب خالد بن ولید نے پیچھے سے حملہ کیا تو

بدحواسی میں خود مسلمان ایک دوسرے پر حملہ آور ہوگئے اور دوست و دشمن کی تمیز نہ رہی۔ بخاری میں ہے کہ حضرت حذیفہ کے والد یمان کی جان اسی میں گئی۔ حذیفہ چلاتے رہے لیکن ان کی چیخ کا کوئی اثر نہ ہوا اور وه شہید ہوگئے۔ حضرت حذیفہ نے کہا لله تمہیں بخش دے ۔)۱۸( یمان حذیفہ کے والد کا لقب تھا، ان کے نام کی صراحت حاشیہ میں بھی نہیں کی گئی ہے، صرف اتنا لکھا ہے کہ یمان حذیفہ کے والد تھے، مسلمانوں نے ان کو کافر سمجھ کر شہید کردیا۔ کان الیمان والد حذیفۃ فی المعرکۃ وظن المسلمون انہ من عسکر الکفار فقصد واقتلہ ۔)۱۹( بلاذری نے ان کا نام حسیل بن جابر بن ربیعہ اور ان کو حلفائے بنی عبدالاشہل میں لکھا ہے اور یمان کے لقب کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے قبیلہ یمانیہ سے معاہده کیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عتبہ بن مسعود نے ان کا قتل کافر سمجھ کر کیا تھا۔ سماه قومہ الیمان‘‘’’ لانہ حالف الیمانیۃ قتلہ المسلمون خطاٴ ویقال قتلہ عتبہ بن مسعود خطاٴ وہو یظنہ کافرا ص( ۔)۳۲۹ ابن ہشام میں ہے کہ آنحضورؐ نے ان کو اور حضرت ثابتؓ کو بچوں اور عورتوں کی حفاظت میں مدینہ کے پاس قلعونمیں بھیج دیا تھا لیکن مسلمانوں کی شکست کی خبر سن کر یہ احد کی طرف بڑھے اور خود مسلمانوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کیا۔ (۲۰( مقتولین احد کی تعداد: ابن سعد لکھتے ہیں کہ مشرکین میں سے ۲۳

مقتول ہوئے لیکن صرف ؍۱۰ لوگوں کے نام گنائے ہیں ۔)۲۱( بلاذری نے صراحتا کوئی تعداد تحریر نہیں کی، البتہ جو نام لکھے ہیں ان کو شمار کرنے سے ۲۲ کی تعداد سامنے آتی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کس صحابی کے ہاتھوں کس کافر کی موت ہوئی ص( ۔۳۳۴ )۳۳۵ عبدلله بن حمید کو ابو دجانہؓ، طلحہ بن ابی طلحہ کو علیؓ، اس کے بھائی عثمان کو

حضرت حمزه بن عبدالمطلبؓ، سعد بن ابی طلحہ کو سعد بن ابی وقاص، مسافع بن طلحہؓ، حارث بن طلحہ کو عاصم بن ابی الافلحؓ، کلاب بن طلحہ کو طلحہ بن عبیدللهؓ، قاسط بن شریح بن عثمان کو حضرت علیؓ، ان( کے علاوه کسی اور کے قتل کرنے کی بھی روایت ہے)، ارطاة بن عبد شرحبیل کو حضرت علیؓ، ابو عزیز یعنی زراره بن عمیر کو قزمانؓ )۲۲( حلیف بنی ظفر، ابوالحکم بن ابو حنس بن شریق کو حضرت علیؓ، سباع بن عبدالعزی کو حضرت حمزهؓ، ہشام بن امیہ اور ولیدبن العاص کو قزمانؓ، امیہ بن ابی حذیفہ کو حضرت علیؓ، خالد بن الاعلم عقلی کو قزمانؓ، عثمان بن عبدلله کو حارث بن الصمہؓ، عبید بن حاجز عامری کو ابو دجانہؓ، شیبہ بن مالک کو طلحہ بن عبیدللهؓ، ابی بن خلف کو آنحضورؐ نے ابو عزه )۲۳( عمرو بن عبدلله کو آپؐ کے حکم سے عاصم بن ثابت بن ابی الافلحؓ نے موت کے گھاٹ اتارا ۔ ص( ۔۳۳۴ )۳۳۵ ابن ہشام نے بھی ابن اسحاق کے حوالہ سے مشرکین کی تعداد ۲۲ لکھی ہے۔ انہ وقال ابن اسحاق فجمیع من قتل لله

تبارک و تعالی یوم احد من المشرکین اثنان و عشرون رجلا (۲۴۔( اس کے بعد شہدائے احد پر جنازه اور انہیں قبروں میں اتارنے اور

دفن کرنے کا ذکر ہے ص( ۔)۳۳۶ حضرت حمزهؓ کے بارے میں ہے کہ وه پہلے شخص ہیں جن پر آپؐ نے چار مرتبہ تکبیر فرمائی، پھر آپؐ کے پاس دیگر شہدا اکڻھا کیے گئے، جب کوئی شہید لایا جاتا تو حمزهؓ کے پہلو میں رکھ دیا جاتا، پھر آپؐ ان پر اور اس شہید پر نماز پڑھتے تھے۔ اس طرح آپؐ نے حضرت حمزهؓ پر ۷۰ مرتبہ نماز پڑھی، حتی صلی علیہ سبعین مرة ص( )،۲۳۶ حضرت حمزهؓ کے مثلہ کا ذکر ہے لیکن ہند کے کلیجہ چبانے

کی مشہور روایت اس ہٴسلسل بیان میں نظر سے نہیں گذری۔ غزوه حمراء الاسد: بعض مصادر سیرت میں واقعہ حمراء الاسد کا

مستقل ایک غزوه کی حیثیت سے ذکر کیا گیا ہے۔ ابن سعد نے اس کو الگ غزوه تسلیم کیا ہے اور غزوه احد کے بعد اسی غزوه کا ذکر ہے ۔)۲۵( بلاذری نے بھی اس کو الگ غزوه کی حیثیت سے اپنی کتاب میں جگہ دی ہے اور لکھا ہے کہ یہ ؍۸ یا ؍۹ شوال ھ۳ میں ہوا۔ حمراء الاسد مدینہ سے ۸ یا ۹ میل کے فاصلہ پر ہے، مشرکین وہاں تک پہنچ چکے تھے کہ آپ نے منادی کرادی کہ دشمن کی تلاش میں نکلیں اور وہی شخص جائے گاجو احد میں ہمارے ساتھ نہیں تھا ص( )۳۳۸ لا یخرج من کان باحد اس کے باوجود شوق جہاد میں زخمی افراد بھی نکلے اور آپؐ کے ساتھ جم غفیر ہوگیا۔ حضرت جابرؓ نے کہا کہ اے لله کے رسول کل میں نکلنے سے اس لیے محروم رہاکہ میرے والد نے مجھے منع کیا تھا اور بہنوں کی نگہداشت

پر مامور کیا اور کہا لڑکیوں کو تنہا چھوڑنا مناسب نہیں اور میں اس کو بھی مناسب نہیں سمجھتا کہ میں آنحضورؐ کی معیت میں جہاد کرنے کے لیے اپنے اپٓ پر تجھ کو ترجیح دوں، اب مجھے اجازت دیجیے، چنانچہ اپٓؐ نے مجھ کو اجازت دے دی، یہ بھی کہا جاتاہے کہ اپٓؐ کے ساتھ جو جنگ احد میں شریک تھا اور جو نہیں تھا، سب شریک ہوئے ص( ۔۳۳۸ )۳۳۹ یا بنی انہ لا ینبغی لی ولالک ان نترک ولاءٴہ النسوة لا رجل فیہن ولست بالذی اوثرک بالجہاد مع رسول لله صلی لله علیہ وسلم اخرج معہ من کان باحد

ومن لم یکن ۔ ابن ہشام اور طبری وغیره نے اس واقعہ کا ضمنا ذکر کیا ہے۔

صاحب سیرة النبی بھی اس واقعہ کو الگ غزوه کی حیثیت نہیں دیتے، وه لکھتے ہیں مورخین’’ نے تکثیر غزوات کے شوق میں ایک نیا غزوه بنالیا ہے اور حمراء الاسد کا ایک نیا عنوان قائم کیا ہے ۔)۲۶( آپؐ مدینہ سے پانچ روز باہر رہے اور عبدﻟﻠہ ابن مکتوم کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ ص( (۳۳۹ بعض دوسرے غزوات: غزوه بنی نضیر ربیع الاول اور ایک روایت

کے مطابق جمادی الاول ھ۴ میں ہوا، اس کا سبب معاہده کی خلاف ورزی اور درپرده آپؐ کے قتل کی سازش تھی۔ آپؐ بنی کلاب کے دو آدمیوں کے خوں بہا کے مطالبہ کے لیے بنی نضیر کے پاس گئے، لیکن انہوں نے آپؐ پر پتھر گراکر ہلاک کرنا چاہا، آپؐ واپس آگئے اور عہد شکنی کے نتیجہ میں ان پر لشکر کشی کا حکم دیا اور پندره روز تک ان کا محاصره کیا، بالاخٓر صلح اس پر ہوئی کہ جس قدر مال و اسباب اونٹ پر لے جاسکیں لے جائیں اور شہر سے نکل جائیں ص( )۳۳۹ ۔ جب آپؐ بنی نضیر کے پاس گئے تو آپؐ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمر اور اسید بن حضیر تھے اور اپنی غیر موجودگی میں آپؐ نے اپنا جانشین عبدلله بن مکتوم کو

مقرر کیاتھا۔ ۔)ًایضا( غزوه بدر الموعد: ابو سفیان نے جنگ احد میں آپؐ سے قرار کیا تھا

کہ اگلے سال کے شروع میں ہماری پھر ملاقات ہوگی۔ چنانچہ آپؐ ذیقعده ھ۴ میں ایفائے عہد کی خاطر بدر تشریف لے گئے لیکن ابوسفیان نہیں آیا ۔)۲۷) نعیم بن مسعود اشجعی نے مدینہ جاکر مسلمانوں کو ڈرانے کے لیے مشرکین کی تعداد اور تیاری کی خبر دی تو مسلمانوں نے کہا کہ ہمارے لیے لله کافی ہے، چنانچہ مسلمان بدر الصفراء میں آڻھ روز مقیم رہے اور عبدلله بن رواحہ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا ص( ۔)۳۴۱ بلاذری کے مطابق یہ سفر اس لحاظ سے کامیاب رہا کہ مسلمانوں نے تجارتی لحاظ

سے خوب نفع کمایا۔ فتجر المسلمون فربحوا )ًایضا( ابن سعد کے مطابق

مسلمانوں کی تعداد پندره سو اور گھوڑے صرف دس تھے۔ (۲۸( غزوه ذات الرقاع : یہ محرم ۵ ھ میں ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپؐ کو

خبر ملی کہ انمار اور ثعلبہ کے قبائل آپؐ پر حملہ کے لیے اکڻھا ہوئے ہیں۔ چنانچہ جب آپؐ ان سے قریب ہوئے اور انہوں نے آپؐ کے لشکر کو دیکھا تو پیڻھ پھیرکر پہاڑوں کی چوڻیوں پر چڑھ گئے۔ آپؐ واپس آگئے۔ آپؐ نے حضرت عثمانؓکو مدینہ کا جانشین مقرر کیا تھا ، اسی غزوه میں آپؐ نے صلوٰة خوف ادا کی ۔)ًایضا( اس کے بعد عبدللهؓ بن عمر سے مروی دو روایتیں سندا نقل ہیں، جن سے صلاة خوف کی کیفیت معلوم ہوتی ہے ۔)ًایضا( ابن سعد نے مسلمانوں کی تعداد کے متعلق لکھا ہے کہ ۴ یا ۷ سو

تھے۔ (۲۹( هٴغزو دومۃ الجندل: ربیع الاول ھ۵ میں ہوا۔ آنحضورؐ کو معلوم ہوا کہ

قضاعہ اور غسان کے لوگوں نے حجاز پر حملہ کا اراده کیا ہے۔ آپؐ نے ایک ہزار مسلمانوں کو لیا، اس مقام پر پہنچے تو وه منتشر ہوگئے اور بھاگ گئے آپؐ نے اونٹ اور بکریوں کو پکڑلیا اور واپس لوٹ آئے۔ اس بار

مدینہ میں اپنا جانشین سباع بن عرفطہ کو مقرر کیا تھا۔ ص( (۳۴۱ هٴغزو مریسیع: مریسیع خزاعہ کی شاخ بنی مصطلق کا کنواں تھا۔ یہ

غزوه شعبان ھ۵ میں ہوا۔ خزاعہ کے سردار حارث بن ابی ضرار نے اپنی قوم اور اپنے زیر اثر لوگوں کو انٓحضورؐ سے جنگ کی دعوت دی۔ اپٓؐ کو معلوم ہوا تو مسلمانوں کو لےکر چلے، مریسیع پہنچے تو آپؐ نے حضرت عمرؓکو ان کے سامنے دعوت توحید پیش کرنے کا حکم دیا، انہوں نے قبول نہیں کیا تو آپؐ نے ان پر حملہ کا حکم دیا۔ بہت سے قتل اور بہت سے قید کیے گئے، مال غنیمت بھی ہاتھ آیا۔ حارث ابن ضرار کی بیڻی جویریہ بھی قید ہوئیں، آپؐ نے ان کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرلیا۔ ان کا نام برّه تھا۔ اپٓؐ نے جویریہ رکھا، کہا جاتا ہے کہ اپٓؐ نے ان کی قوم کے سو ادٓمیوں کو شادی کے بدلے آزاد کیا ص( ۔)۳۴۲ سنن ابی ودٴدا میں ہے کہ اسی شادی کے سبب تمام اہل فوج نے اسیران جنگ کو دفعۃً رہا کردیا اور کہا کہ رسول للهؐ نے جس خانواده میں شادی کرلی وه غلام نہیں ہوسکتا کتاب( العتق باب فی بیع المکاتب الخ، ج ،۲ ص ۔)۱۹۲ اس کے بعد تقسیم غنائم اسی غزوه میں ہٴواقع افک پیش آنے، حضرت عائشہؓ کی براٴت، حملہ سے قبل دعوت دینے کے متعلق ابی عون کا استفسار اور ان کا جواب کہ آپؐ نے ان پر غفلت میں حملہ کیا اور وه اپنی بکریوں کو پانی پلارہے تھے، الزام

لگانے والے عبدلله ابن ابی اور الزام سے متاثر ہونے والوں میں حضرت حسن بن ثابتؓ، حمنہؓ بنت جحش، مسطحؓبن اثاثہ ور نزول براٴت کے بعد ان حضرات پر حد جاری کرنے سے متعلق روایات نقل کی ہیں۔ ص( ۔۳۴۲ (۳۴۳ اس غزوه سے متعلق محدثین اور سیرت نگاروں میں اختلاف ہے۔ بخاری )۳۰( اور مسلم )۳۱( میں ہے کہ آپؐ نے بنو المصطلق پر بے خبری اور غفلت کے عالم میں حملہ کیا تھا، جب وه اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ ابن سعد اور خود بلاذری نے جو بیانات نقل کیے ہیں، ان سے صاف ظاہر ہے کہ آپؐ نے حارث بن ضرار کی آپؐ کے خلاف جنگ کی تیاری کی خبر سنی، تصدیق کے لیے باقاعده حضرت زیدؓبن خطیب کو بھیجا، اس کے بعد مریسیع پہنچ کر حضرت عمرؓ کے توسط سے ان کے

سامنے دعوت پیش کی، نہ ماننے پر آپؐ نے حملہ کیا۔ یہ ایک معمولی غزوه تھا لیکن اس میں بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے جن کے سبب اس کو اہم غزوات میں شمار کیا گیا۔ اس جنگ کی ایک خاص بات یہ تھی کہ مال غنیمت کی لالچ میں بہت سے منافقین بھی اس میں شریک ہوگئے اور متعدد ناخوشگوار واقعات جن کو ہوا ملی، ان کے پیچھے ان ہی کا رول تھا۔ مثال کے طور پر واقعہ افک وغیره، جس کی طرف بلاذری نے اشاره کیا ہے تاہم چشمہ سے پانی لینے پر جو تکرار ایک مہاجر اور انصاری کے مابین ہوئی اور جس میں دونوں فریق کی جانب سے تلواریں کھنچ گئیں اور آنحضرتؐ نے اس کو خوبصورتی سے

سلجھایا۔ بلاذری کے یہاں اس واقعہ کا ذکر نہیں ہے۔ هٴغزو خندق؍ احزاب: مصادر سیرت میں اس غزوه کی بڑی تفصیلات

وارد ہیں۔ بلاذری نے اس کے متعلق مجاہد، زہری، ابی نجیح، ابن قتاده اور ہشام بن عروه کے والد سے مروی کل چھ روایتیں سندا اور ایک روایت لفظ قالوا‘‘’’ سے نقل کی ہے۔ اس کے مطابق ذیقعده ھ۵ میں یہ غزوه ہوا۔ اس کا سبب بنی نضیر کا اہل خیبر، کفار مکہ اور بعض دوسرے قبائل سے مل کر آنحضورؐ پر حملہ کرنا تھا۔ کنانہ بن ابی الحقیق اور حی بن اخطب وغیره مکہ گئے اور انہوں نے ابو سفیان اور اہل قریش کو آنحضورؐ کے خلاف جنگ پر اکسایا اور ان کو پوری مدد کا یقین دلایا، غطفان کے پاس گئے، انہوں نے بھی ہاں میں جواب دیا، عیینہ بن حصن الفزاری نے بھی حمایت کا وعده کیا، پھر بنی سلیم کے پاس گئے اور ان سے بھی اسی قسم کی مدد مانگی اور انہوں نے بھی مدد کا وعده کرلیا۔ مختصر یہ کہ تمام قبائل عرب

سے لشکر گراں تیار ہوکر آپؐ پر حملہ کے لیے چل پڑا۔ آپؐ کو اطلاع ملی تو آپؐ نے صحابہ کرام کو بلایا۔ مسلمانوں کے لشکر کو ایک جگہ طلب کیا۔ حضرت سلمانؓ کے مشوره سے خندق کھودی گئی ص( ۔)۳۴۳ عبدلله بن عمرؓ، زید بن ثابتؓ، براء بن عازبؓ، ابوسعید خدریؓ کو کم سنی کے باوجود اجازت ملی، بنو قریظہ بھی معاہده کے خلاف ، حی بن اخطب اور اس کے اصحاب کی مسلسل کوششوں سے بنو نضیر کے ساتھ ہوگئے۔ ان حملہ آوروں کی کثرت تعداد سے مسلمانوں میں خوف و ہراس مزید بڑھ گیا

۔)۳۴۴) واشتد خوف المسلمین ممن جاش علیہم من الاحزاب لکثرتہم۔ ابو سفیان کا آنحضورؐ کے نام خط اور اس کا جواب: ابو سفیان نے

آنحضورؐ کے نام خط میں لکھا: اے’’ لله تیرے نام سے۔ میں لات، عزی، ساف، نائلہ اور ہبل کی

قسم کھاتا ہوں میں تمہیں تباه و برباد کرنے کے لیے آیا ہوں، میں دیکھتا ہوں کہ تم نے خندق سے اپنی حفاظت کرلی ہے اور ہم سے مقابلہ کرنا نہیں چاہتے حالانکہ آج کا دن تمہارے لیے احد کے دن کی طرح ہونے والا ہے۔ ولک منی یوم کیوم احد ۔ یہ خط اس نے ابی اسامہ جشمی کے ہاتھ بھیجا تھا۔

ابی بن کعب نے خط پڑھ کر آپؐکو سنایا تو آپؐ نے جوابا لکھا:

تمہارا’’ طخ ںہمی ملا۔ ےا یبن بغال ےک ےب وقوف، تم وک لله غرور کی طرف سے ہمیشہ دھوکہ ہوا ہے، تمہارے اور تمہاری چاہت کے درمیان لله حائل ہوگا اور انجام ہمارے حق میں کرے گا۔ اے سفیہ بنی غالب تمہارے سامنے ایک دن ایسا ضرور آئے گا جس دن میں خود اپنے ہاتھوں سے لات، عزی، ساف، نائلہ اور ہبل کو توڑوں گا۔ ولیاتین علیک یوم اکسر

فیہ اللات و العزی و ساف و نائلہ و ہبل یا سفیہ بنی غالب۔ ص( (۳۴۴ بعض دوسرے واقعات: اگلی روایت میں مشرکین کا محاصره،

مسلمانوں پر تیر اور پتھر کی بارش، ایک دن ایک ساتھ مل کر حملہ کرنے کی تجویز پر ان کا اتفاق، کفار کے ایک لشکر کی خندق عبور کرنے کی کوشش، اس میں نوّے سالہ عمرو بن ودّ کا ہونا، حضرت علیؓ سے مبارزت، ان کے سر پر زخم، حضرت علیؓ کا ان کو قتل کرنا، عمرو کے ساتھیوں کا فرار ہوجانا، ایک شخص کا خندق میں گرنا اور مسلمانوں کا اس پر حملہ کرنا، پھر تیز و تند ہوا کے ذریعہ لله کی مدد، مشرکین کی شکست اور ان کی پسپائی، نعیم بن مسعود اشجعی کا قبول اسلام اور حملہ آوروں میں پھوٹ اور غطفان و سلیم کا یہ کہنا کہ بخدا محمد ہمارے نزدیک یہود

سے بہتر اور زیاده عزیز ہیں، پھر ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم ان کو اور اپنے آپ کو اذیت پہنچا رہے ہیں۔ ولله لمحمد احب الینا واولی بنا من یہود فما بالنا نواذیہ وانفسنا ۔)۳۴۵( اور ان کا واپس ہوجانا، خندق میں پندره دن تک مسلمانوں کا محاصره اور ابن مکتوم کو اپنا جانشین مقرر کرنا ۔)۳۴۵( اگلی روایت میں ہے کہ محاصره کو دس روز ہوچکے تھے، تمام مسلمان سخت کرب میں تھے کہ لله کے رسولؐ نے دعا فرمائی کہ اے لله میں تیرے عہد و پیمان کا طلب گار ہوں، اے لله اگر تو چاہے تو تیری عبادت نہ کی جائے۔

(۳۴۶) ختم محاصره کے لیے اپٓؐ کی تجویز اور انصاری صحابہ کا رد عمل: اپٓؐ نے عیینہ بن حصن رئیس غطفان کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر وه احزاب کو جنگ بندی پر امٓاده کردے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس چلا جائے تو مدینہ کے باغات کا ایک ثلث دے دیا جائےگا۔ اس نے جوابا کہلوایا کہ میرا حصہ مقرر کردیں تو میں یہ کام کردوں گا، بل اعطنی ثمرہا حتی افعل ذلک )۳۴۶( ۔ اس کے بعد یہ تجویز اپٓؐ نے حضرت سعد بن معاذؓ اور سعد بن عبادهؓ کے سامنے پیش کی اور کہا کہ عیینہ نے جنگ بندی کرانے اور اپنے ساتھیوں کے ہمراه واپس جانے کے لیے اس شرط پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وه تمہاری پیداوار کا نصف چاہتا ہے۔ تم دونوں کا کیا خیال ہے، دونوں نے کہا کہ اگر یہ خدا کا حکم ہے تو اپٓؐکر گزریں۔ اپٓؐ نے فرمایا اگر خدا کا حکم ہوتا تو میں تم سے رائے نہ لیتا، یہ میری تجویز ہے جو میں نے تم دونوں کے سامنے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تو پھر ہم تلوار کے سوا انہیں کچھ نہ دیں گے۔ آپؐ نے فرمایا بہتر ہے ۔)ًایضا( فقال صلی لله علیہ وسلم لو امرت لم استامر کما ولکن ہذا رای اعرضہ علیکما، قالا : فانا لا نری ان

نعطیہم الا السیف، قال رسول لله صلی لله علیہ وسلم، فنعم ۔ حضرت صفیہؓ کا یہودی پر حملہ : اخٓری روایت ہشام بن عروه

کے والد سے مروی نقل کی ہے کہ اپٓؐ نے جنگ احزاب میں مستورات وک مدینہ ےک کای قلعہ ںمی تحضر حسانؓ ےک ھسات ےکرک ہقلع کا دروازه بند کردیا۔ ایک یہودی قلعہ کے دروازه تک پہنچ گیا، عورتوں میں سے کسی نے حسانؓ سے کہا، اتر کر اس کو قتل کردو۔ انہوں نے معذرت کی، تو اس نے چادر اوڑھی، ایک پتھر لیا، اتر کر اس کے پاس گئیں اور اس کے سر پر کاری ضرب لگائی ۔)۳۴۷( فاتزرت بکساء

واخذت فہرا ونزلت الیہ ففلقت راسہ ۔

یہ مشہور واقعہ مصادر سیرت ابن ہشام، زرقانی بحوالہ

طبرانی، بزار و ابو یعلیٰ وغیره میں مفصلا ملتا ہے ۔)۳۲( جس میں حضرت صفیہؓ کا خیمہ کی ایک چوب اکھاڑ کر یہودی کا سر پھاڑنے کا ذکر ہے لیکن بلاذری کی اس مختصر روایت میں یہاں مارنے والی عورت کا نام نہیں ہے اور لکڑی کے بجائے نکیلے پتھر سے وار کرنے کا ذکر ہے۔ لیکن اسی کتاب کے )۳۲۴ص( پر بلاذری نے حضرت صفیہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے تلوار سے اس کی

گردن ماری۔ فقلت: شد السیف علی یدی ففعل فضربت عنقہ۔ ںیہا اس اک رذک ضروری ےہ ہک یبلاذر ےن سا غزوه کی تفصیل میں بعض اہم اور بنیادی باتوں کا تذکره نہیں کیا ہے مثلا حملہ اوٓروں کی تعداد کتنی تھی، صحابہ کرام کتنے تھے، خندق کتنی عریض اور کتنی گہری کھودی گئی، کھودنے میں کتنے دن لگے، مشہور ہے کہ آپؐ نے بہ نفس نفیس مزدور کی طرح کام کیا، فاقے ہوئے، بخاری میں ہے کہ کھدائی کے دوران ایک سخت چڻان آگئی کسی کی ضرب کام نہ ائٓی، اپٓؐ نے وڑاٴپھا مارا اور چڻان ریزه ریزه ہوگئی، اپٓؐ نے فاقہ کے سبب اپنے پیٹ پر دو دو پتھر باندھے تھے وغیره وغیره۔ بلاذری

کے یہاں یہ تفصیلات نہیں ملتیں۔ هٴغزو بنو قریظہ : بنو قریظہ نے معاہده کے خلاف علانیہ احزاب

میں شرکت کی تھی۔ آپؐ احزاب سے فارغ ہوئے تو ان کے خلاف آپؐ کو کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ہی تھا۔ چنانچہ اپٓؐ نے مشیت ایزدی کے مطابق ان پر لشکر کشی کا اراده کیا۔ بلاذری کے مطابق یہ واقعہ ذیقعده و یذ ہالحج ھ۵ اک ۔ہے سا غزوه ےک قمتعل یبلاذر ےن حضرت عائشہؓ، ابن شہاب اور مجاہد سے مروی تین روایتیں بالاختصار نقل کی ہیں۔ روایات نقل کرنے سے پہلے اپنے بیان میں لکھتے ہیں کہ اپٓؐ خندق سے لوڻے اور بنی قریظہ پر لشکرکشی کی۔ ان کا محاصره کیا، یہاں تک کہ معاملہ اپٓؐ کے فیصلہ پر طے ہوا۔ سعدؓ بن معاذ کو حکم دیا گیا، حضرت سعد نے شریعت موسوی کے مطابق ان کے مردوں کو قتل، بچوں اور عورتوں کو قید اور مال و اسباب کو مسلمانوں میں تقسیم ےکرن اک فیصلہ ۔کیا آپؐ نے فرمایا ہک مت ےن محک الٰہی کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران مدینہ میں اپنا جانشین عبدلله بن مکتوم کو

مقرر کیا۔ ص( (۳۴۷ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ اپٓؐ احزاب سے فارغ ہوئے۔

غسل کے لیے جارہے تھے کہ حضرت جبرئیلؑ تشریف لائے، فرمایا: آپؐ نے ہتھیار رکھ دیے۔ ہم نے نہیں رکھا، بنی قریظہ کی جانب کوچ کریے۔ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے دروازے کے شگاف سے دیکھا کہ آپؐ کا سر مڻی سے اڻا ہوا تھا ۔۳۴۷( ۔)۳۴۸ لقد رایتہ من خلل الباب

وقد عصب التراب راسہ ۔ اس غزوه میں بھی بلاذری نے بعض بنیادی باتیں مثلا واقعہ ریحانہ، مقتولین کی تعداد، مدت محاصره وغیره کے متعلق کوئی تفصیل نہیں دی ہے۔ اس غزوه کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ بنو قریظہ کی ایک عورت جس( نے خلاد بن سوید خزرجی کو قلعہ سے پتھر گراکر شہید کردیا تھا) کو قصاص میں قتل کیا گیا تھا۔ بلاذری نے اس کا تذکره نہیں کیا ہے۔ البتہ انہوں نے مجاہد سے مروی جو آخری روایت لکھی ہے اس کے مطابق بنو قریظہ نے خلاد پر پتھر گرادیا تھا، جو ان سے بات کرنے گئے تھے۔ والقی بنو قریظہ علی خلاد بن سوید خزرجی رحی وقد دنا لیکلمہم ص۔( )۳۴۸ اس میں واضح نہیں ہے کہ پتھر گرانے والا کون تھا، جبکہ

ابن ہشام )۳۳( اور ابو ودٴدا )۳۴( وغیره میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ ذکر هٴغزو بنی لحیان و ذی قرد: اس کے بعد غزوه بنی لحیان اور غزوه

ذی قرد یا غزوه غابہ کا مختصرا ذکر ہے۔ یہ غزوات ربیع الاول ہی میں پیش آئے اور دونوں ہی غزوات میں آپؐ نے مدینہ پر اپنا جانشین عبدلله بن مکتوم کو بنایا۔ بنی لحیان پر حملہ کا سبب نہیں لکھا ہے۔ البتہ ذی قرد پر حملہ کی وجہ یہ تحریر کی ہے کہ عیینہ بن حصن دھوکہ سے حملہ کرکے اس جنگل سے آپؐ کی اونڻنیوں کو بھگا لے گیا تھا، جو مدینہ سے صرف ؍۱۲ میل کے فاصلہ پر تھا۔ اپٓؐ نے مقداد بن عمرو اور ایک قول کے مطابق سعد بن زید اشہلی کو چند مسلمانوں کے ساتھ تعاقب میں بھیجا، انہوں نے دس اونڻنیوں کو چھڑا لیا۔ یہ چوبیس تھیں۔ سعده بن حکمہ اور حبیب بن عیینہ مارے گئے۔ پھر آپؐ نکلے اور ان لوگوں سے ذی قرد میں ملاقات ہوئی اور وه لوگ وہاں سے جاچکے تھے۔ آپؐ نے پیچھا کرنے سے منع فرمایا۔ آپؐ وہاں ایک رات اور ایک دن مقیم رہے۔ صلوة خوف ادا کی۔ اسی غزوه میں یاخیل’’ لله ارکبی‘‘ کے الفاظ کے ذریعے ندا دی گئی، فیھا نودی!

یا خیل لله ارکبی ولم یقل ذلک قبلہا ۔ ص( (۳۴۹ صاحب سیرة النبی نے اس غزوه کا سن وقوع محرم ھ۷ لکھا ہے

۔)۳۵) اور حاشیہ میں لکھا ہے کہ اس کی تفصیل زیاده تر ابن سعد اور ابن ہشام سے لی گئی ہے۔ حالانکہ ابن سعد میں اس کے ماه و سن وقوع کے

ہیں۔ وارد الفاظ کے )۳۶( مہاجره‘‘ من ست سنۃ الاول ربیع شہر فی’’ متعلق حملہ نے جنہوں تھے، الاکوع بن سلمہ ہیرو اہم سے سب کے غزوه اس اور وار کر چھپ چھپ میں پرجھاڑیوں ان اور کیا تعاقب تنہا کا آوروں لیاہے۔ نہیں نام کا ان نے بلاذری تھا۔ کردیا پریشان و حیران کو دشمنوں

باقی)( -----------------------------------------------------------------------

حواشی

(۴( ۔۲۳۵ ص اول، النبی سیرة )۳( ایضا۔ً )۲( ۔۱۱ ص اول، قسم ثانی، ج سعد، ابن )۱) ص اول، قسم ثانی، ج )۶( ۔۲۶۲ ص النبی، سیرة )۵( ۔۲۳۵ ص ،۲ ج النبی، سیرة بحوالہ (۹( ۔۶۹ ص ،۲ ج ، ہشام ابن )۸( ہے۔ لکھی بات بھی پر ۲۹ ص ،۲ ج زرقانی، )۷( ۔۲۶ حولہ سعد ابن )۱۲( ۔۲۶۷ ص ایضاً، )۱۱( ۔۲۶۴ ص ، اول النبی سیرة )۱۰( ایضا۔ً صفحہ کے کتاب اسی نے بلاذری متعلق کے مخیریق )۱۴( ایضا۔ً )۱۳( ۔۲۹ ص مذکور، میں احد جنگ کیا، قبول اسلام نے انہوں تھے، میں یہود عظمائے یہ کہ ہے لکھا پر ۲۸۵ کردیا۔ وقف کو اس نے اپٓؐ دیا، دے کو آپؐ مال سارا اپنا اور ہوئے شریک ساتھ کے آپؐ موجود میں اسحاق ابن سیرت ساتھ کے فرق بہت تھوڑے کے الفاظ روایت پوری یہ )۱۵) نئی ، پریس پرنڻنگ گلوریس ایڈوکیٹ، الٰہی نور ترجمہ ، حمیدلله محمد ڈاکڻر تحقیق ہے، سعد ابن )۱۷( ۔۲۷۲ ص اول، النبی سیرة بحوالہ )۱۶( ۔۴۵۲ -۵۳ ص ء،۲۰۰۹ دہلی ،۲ جلد )۲۰( حاشیہ۔ دیکھیے ایضا،ً )۱۹( ۔۵۸۱ ص ،۲ ج )۱۸( ۔۳۰ ص مذکوره، حوالہ بن خالد کو جن ہیں قزمان وہی یہ )۲۲( ۔۳۰ ص مذکور، حوالہ سعد ابن )۲۱( ۔۸۱ ص نکل خون سے بدن ڈالیں، کاٹ سے تیر رگیں اپنی سے تکلیف شدت کیا، زخمی نے ولید اپٓؐ آیا، ہوکر قید میں بدر جو ہے شخص وہی یہ )۲۳( ۔)۳۳۵ صہوگئی( وفات اور گیا خلاف کے اپٓؐ وه کہ کیا ازٓاد کو اس پر معاہده اس نے اپٓؐ تو کی درخواست کی رحم سے نے اپٓؐ کی، درخواست کی احسان سے اپٓؐ پھر تو ہوا قید میں احد لیکن گا، کرے نہ خروج اور جائے واپس مکہ کہ ہے چاہتا تو جاتا، ڈسا نہیں دوبار سے سوراخ ایک مومن فرمایا عاصم پر حکم کے اپٓؐ چنانچہ دیا، دے دھوکہ بھی بار دوسری کو محمدؐ نے میں کہ کہے (۲۵( ۔۱۰۸ ص ،۲ ج ، ہشام ابن سیرت )۲۴( ۔)۳۳۵ ص( کردیا تمام کام کا اس نے ابن لیکن )۲۷( ۔۲۷۳ ص اول، النبی سیرة )۲۶( ۔۳۴ ص مذکور، حوالہ سعد ابن دیکھیے خشک کہ تھا پہنچا مجنۃ نکلا، ہمراه کے قریشیوں ہزار دو سفیان ابو کہ ہے لکھا نے سعد مجنۃ الی انتہوا حتی )۴۳ ص مذکور، حوالہ دیکھیے( ہوگیا واپس کرکے بہانہ کا سالی ۔۴۳ -۴۲ ص ایضا،ً )۲۸( جدب۔ عام ہذا عامکم وان .... ارجعوا قال ثم مرالظہران وہی (۳۱( ۔۳۴۵ ص ،۱ ج العرب، من ملک من باب العتق فی باب )۳۰( ۔۴۳ ص ایضا،ً )۲۹) بحوالہ زرقانی )۳۲( ۔۶۱ ص ،۲ ج الکفار، علی الاغارة جواز باب والسیر الجہاد کتاب ۔۱۶۴ ص ،۲ ج ہشام، ابن و ۱۲۹ ص ،۲ ج ، حسن)( سند بہ یعلی ابو بزار و طبرانی ص ،۲ ج النساء، قتل فی الجہاد کتاب ودٴدا ابو سنن )۳۴( ۔۱۷۲ ص ،۲ ج ہشام، ابن )۳۳)

۔۵۸ ص مذکور، حوالہ سعد ابن )۳۶( ۔۳۴۱ ص ،۱ ج )۳۵( ۔۶

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.