کے ندویؒ سلیمان سید مولانا عکس کا مکتوب فارسی

Maarif - - ۳�۹ ء۲۰۱۸ مئی معارف ۵/۲۰۱ - اشتیاق احمد ظلی

نے صاحب ندوی نعمت طلحہ مولوی میں شمارے کے مارچ

یہ اور تھا کیا شائع مکتوب‘‘ فارسی نادر ایک کا ندوی سلیمان سید علامہ’’ گیا لکھا کو ونٴبرا ایڈورڈ مستشرق مشہور خط یہ شاید کہ تھا کیا ظاہر خیال کے خط نے صاحب اصلاحی اجمل محمد ڈاکڻر میں شمارے کے اپریل تھا۔ بجائے کے ونٴبرا الیہ مکتوب کے اس کہ کیا ثابت یہ پر بنیاد کی محتویات بھی تحریر زمانہ کا خط نے انہوں ہیں۔ گویا خاں سرور شاعر افغان ممتاز کہ کی پیش بھی تجویز یہ نے انہوں کیا۔ متعین ء۱۹۳۶ اگست یا جولائی عکس کا ہونان شائع خطوط اہم جو میں باب کے علمیہ‘‘ آثار’’ میں معارف

جائے۔ کیا اہتمام کا چھاپنے بھی یہ کا صاحب سید کہ تھا لکھا نے صاحب ندوی نعمت طلحہ مولوی کے دارالمصنّفین یہ کہ افسوس ہے۔ محفوظ میں دارالمصنّفین خط نادر کہ گئی کی گذارش سے ان چنانچہ ہوسکا۔ نہیں دستیاب میں مکاتیب هٴذخیر مرسلہ کے ان فرمادیں۔ ارسال اسے ہے محفوظ پاس کے ان عکس جو صاف الامکان حتی میں شعبہ کے کمپیوڻر کے دارالمصنّفین کو عکس

ہے۔ ناظرین ہدیہ یہ اب اور گئی کی کوشش کی کرنے تیسرے ہے۔ مسوده یہ کہ ہے ہوتا محسوس سے دیکھنے خط

بعد تاکہ ہے گئی چھوڑی خالی جگہ زیاده سے معمول بعد کے پیراگراف کر کاٹ لفظ ایک ایک پر جگہوں تین رہے۔ موجود گنجائش کی اضافہ میں گیا کردیا زد قلم جملہ پورا جگہ ایک ہے۔ گیا لکھا لفظ دوسرا اوپر کے اس

ہے۔ خط کا جو عکس ہمارے سامنے ہے اس میں کہیں کہیں بعض الفاظ

کے ایک دو حروف دکھائی نہیں دے رہے ہیں تاہم بحیثیت مجموعی ان کی خواندگی مشکل نہیں۔ مولوی طلحہ نعمت ندوی صاحب نے اس خط کی جو نقل مارچ

خط تو گیا کیا سے عکس اس مقابلہ کا اس ہے کی شائع میں شمارے کے اور ضرورت کی چھاپنے کو عکس کے خط اصل ساتھ کے مضمون کے پانچ میں متن کے خط میں نقل کی ان ہوا۔ احساس سے شدت کا اہمیت ہے۔ گیا ره جملہ پورا جگہ ایک ہے۔ گیا چھوٹ لفظ ایک ایک پر مقامات گیا ره بھی وه ہے ہوا چھپا گڈه اعظم دارالمصنّفین دفتر پر پیشانی کی خط کی خط وه ہوگئی انداز نظر سے وجہ کسی جو چیز اہم نہایت ایک ہے۔ میں آخر کے خط نے صاحب سید جو ہے ۱۳۵۵ الثانیہ جمادی ؍۶ تاریخ

ہے۔ واضح میں عکس اور ہے لکھی نیچے کے دستخط اپنے ونٴبرا پروفیسر ہے۔ مطابق کے ۱۹۳۶ اگست ؍۲۴ دوشنبہ تاریخ یہ سوال کا ہونے الیہ مکتوب کے ان لیے اس تھا ہوچکا میں ۱۹۲۶ انتقال کا اندرونی جو میں متن خلاف کے اس علاوه کے اس ہے۔ ہوتا پیدا نہیں ہی کے خط ہے۔ کیا سے تفصیل نے صاحب اجمل ڈاکڻر ذکر کا ان ہیں شہادتیں جمیل ذکرِ کا الیہ مکتوب کہ ہے فرمایا تحریر نے صاحب سید میں آخر طلحہ مولوی اور ہوتی رہی نظر پیش تاریخ کی خط گا۔ آئے میں معارف الیہ مکتوب انہیں میں شذرات تو دیکھتے معارف کا ۱۹۳۶ ستمبر صاحب صاحب اجمل محمد ڈاکڻر ہوجاتا۔ حل باسٓانی عقده یہ اور جاتا مل تذکره کا

پڑتی۔ کرنی نہ کنی کوه اتنی میں سلسلہ کے تعین کے تاریخ بھی کو ڻکڑے کشیده خط میں اس ہے جارہی کی شائع نقل جو کی خط یہاں بعض تھے۔ ہوگئے انداز نظر میں نقل کی صاحب طلحہ مولوی جو ہیں وه خاص ہے گیا کردیا درست اسے تھا ہوگیا تسامح جو میں خواندگی جگہ

مصرعہ: یہ کا حافظ سے طور بود کہ است نشان و نام بدان مہر ہٴحق

ہے گیا لکھا بدون‘‘’’ کو بدان‘‘’’ میں قراٴت کی صاحب طلحہ مولوی مصرعہ کا اس ہے۔ ثانی مصرعہ یہ تھا۔ ہوگیا خبط مفہوم کا شعر سے جس

ہے: یہ اول گوہرِ مخزنِ اسرار ہمان است کہ بود

بعض الفاظ کی قراٴت پوری طرح اطمینان بخش نہیں ہے۔ ان کے

سامنے سوالیہ نشان لگادیاگیا ہے۔ ہم مولوی طلحہ نعمت ندوی صاحب کے شکر گزار ہیں کہ ان کی

توجہ سے سید صاحب کا یہ مکتوب گرامی معارف میں شائع ہوا اور انہی کی عنایت سے یہ عکس بھی آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

دفتر دارالمصنّفین اعظم گڈه

نمبر مورخہ

محبّ ہٴیگان من سلامت باکرامت باشند

تحیت وتسلیم نیازمندانہ قبول فرمایند۔

این یکے از حسن مصادفات است کہ ازان سو مکتوب گرامی

شما بحرکت آمد و ازین سو نیاز ہٴنام من بخدمت شما راہی (؟) شد ۔یاد آوری را سپاس می واینگذارم، کہ فرموده اید کہ بعد از سفر ایران دو مکتوب گران مایہ بمن فرستاده بندهاید، بیکے ازین دو ہم نائل نشد، استغفرلله کہ من سرکار شمارا فراموش کنم ویادِ آں عنایاتِ ہٴصمیمان شما را از لوح دل محو کنم۔ ہٴحق مہر بدان نام و نشان است کہ بود

پیغامیکہ بہ پروفیسورحمیدلله داده بو دید، رسید و کتاب خیام

بخدمت گرامی شما ارسال کرده شد، امید کہ رسیده باشد، اکنون کتابِ سیرة عائشہؓ ارسال می کنم۔ ہٴنسخ دیگرکتابِ خیام بعقب ارسال خواہم کرد۔چون من در عنفوانِ شباب بودم، یکے ہٴمقال من زیر طبع بود۔ سہ چار بار اتفاق حک و اصلاح شد، ناچار صاحب مطبع سرخر (؟) وگفتشد، وچہ خوش گفت: اے مصنفِ تازه غم! مخور کہ ہیچ مصنف را بزندگیش کتاب کامل وصحیح طبع نشد۔بر ہمین منوال می گویم کہ کتاب خیام پس از چندین سال ناقص شد وحاجت حک واصلاح افتاد۔ چون جناب شما می خواہید کہ عیب هٴبند خویش را بکشور دور دور عرضہ نمایید (؟)، می خواہیم کہ تا توانیم بر عیب خویش هٴپرد بیفگنیم، انشاء لله ہٴنسخ مصححہ بنظر ثانی پس از حک و اصلاح بخدمت گرامی شما ارسال کنیم۔ جناب شما را بہ ترجمہ ایں کتاب اجازت کلیّ حاصل است۔ نامہ ہائے حکیم سنائی کہ بدریافت آنہاشما موفق شده اید، اہمیت بزرگ دارد۔ بر جہانِ فارسی منتِ بے اندازه کردید، ذکرِ جمیلِ شمابزبان معارف خواہد آمد۔ والسلام شما مخلص سلیمان ھ۱۳۵۵ سنہ ۲ ج ۶

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.