معارف کی ڈاک

تاریخ یا افسانہ؟

Maarif - - ۳۸۳ ء۲۰۱۸ مئی معارف ۵/۲۰۱ -

ء۲۰۱۸ ؍۳ ؍۲۸ اونڻاریو، وھڻبی،

کینڈا

صاحب ظلی احمد اشتیاق محترمی و مکرمی

ادھار پر مجھ خط کا آپ گیا نکل مہینہ مقرون۔ نیاز مسنون سلام شماره تیسرا تو اب بلکہ ، آگیا بھی شماره نیا کا معارف میں اثناء اس رہا۔ تھا، چاہتا کرنا عرض کچھ پر شذرات کے ء۲۰۱۸ فروری ہوگا۔ والا آنے بھی ذکر کا قلم گئی۔ ڻلتی بات کہ آئیں آڑے مصروفیات قلمی ایسی کچھ مگر paper-less ) سماج کاغذ بے اس ورنہ ہے گیا ره محاوره بطور اب زندگی ثقافتی رواں ہماری الفاظ جیسے لوح اور قرطاس قلم، میں ( society جاتی ہوتی بہره بے سے ہی روایت اس نسلیں نئی ہیں۔ چکے کھو معنی میں کرتی مربوط پر طور ذہنی سے معراج لقاء اور تحریر و تقدیر انہیں جو ہیں

علم اہل جیسے آپ شک تھی۔بے اید کرده بندی تختہ دریا قعر درمیان

کو مساعی کی آپ ہے۔لله دیتا ساتھ دور کتنی سفینہ یہ دیکھیے

میں بات یہی کیا مگر دے۔ خیر جزائے میں دارین کو آپ اور کرے کامیاب ہوں؟ سکتا کہہ بھی میں بارے کے تاج) علی امتیاز اور( جائسی محمد ملک

فرمائے۔ مغفرت کی ان لله نہیں۔ شاید جھوٹ، دونوں شک ہیں۔بے کہانیاں فرضی انارکلی اور پدماوت

کیا مگر پیداوار۔ کی ذہن زرخیز کے کار قلم ہیں۔ پلندے کے افترا کذب، فریب، لکھنے طرح کی افسانوں تو تھے لکھنے افسانےتھے؟ زرخیز واقعی ذہن وه بیہوده کو شخصیات تاریخی دانستہ نے انہوں کہ تھی مانع شے کیا میں اپنے اور کردیا داغدار کو تاریخ دامندیا، چڑھا بھینٹ کی مفروضات افسانوی الاباﻟﻠہ، قوة ولا لاحول دیا۔ بنا کاشکار تمسخر و تذلیل کو نسلوں والی انٓے بعد باتیں وه برملا آج ذہن مسلم جدید ہوئے بنائے کے مفروضات اصل بے انہی کے اجٓ حال صورت تو بنیں فلمیں بعد سالپچاسبیس دس پر جن ہیںرہے کہہ

احفظنا۔ اللھم گی۔ ہو انگیز ذلت اور اندوہناک زیاده سے سانحہ نثار حسن ہیں کار‘‘ تجزیہ سینئر’’ کے ویژن ڻیلی پاکستانی ایک

ہے ہوتا یقین تو سنیے تقاریر وائی ڻیلی والی ہونے نشر روزانہ کی ان صاحب۔ کے ہندوستان مسلمان بھی جتنے تک ظفر شاه بہادر سے ایبک الدین قطب کہ

حکمراں ہوئے ہیں وه سب انتہائی جاہل، ملت فراموش، مسلمانوں اور باقی ملک میں جہالت، غربت و افلاس پھیلانے والے خود غرض عیاش بادشاه تھے۔ دانشوری کے اسی قبیلہ کے ایک اور مقابلتا اسلامی ذہن رکھنے والے سینئر’’ تجزیہ کار‘‘ صحافی ہیں جاوید چودھری صاحب جنہوں نے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک پاکستانی اخباری تجزیہ میں قوم کو مطلع فرمایا تھا کہ شاه جہاں قومی خزانہ کو تاج محل جیسی عمارتوں پر ضائع کرنے کا مجرم تھا غالبا( سزائے موت کا مستحق تھا)، اور اسے توفیق نہ ہوئی کہ ہندوستان میں اکٓسفورڈ( کی

طرح کی نہ سہی) سرسید کے انداز کی ایک یونیورسڻی قائم کردیتا۔ ان دانشوروں کے پاس جائسی( اور تاج کی مانند) تختے بھی نہیں ہیں

کہ ڈوبتے سفینے کو بچانے کی سعی کریں۔ انا ﻟٰﻠہّ وانا الیہ راجعون۔ مگران دانشوروں کوچند حقائق کا علم نہیں ہے۔ ایک یہ کہ تاج محل، جامع مسجد دہلی، لال قلعہ دہلی، چاندنی چوک دریاگنج کی تمام حویلیوں وغیره کے ارٓکیڻیکٹ، انجینئر، مستری اور مزدور کوئی بھی اکٓسفورڈ اور کیمبرج کا گریجویٹ نہیں تھا۔ سب اتفاق اور بدقسمتی سے مسلمان تھے اور ہندوستانی تھے اور مولویوں کے مدرسوں کے پڑھے ہوئے تھے جنہوں نے مہرولی کا قطب مینار، ڻھڻہ کی ہٴعجوب روزگار مسجد، احمد ابٓاد کے مسجد مینار لرزاں، حیدرابٓاد کا چار مینار، بیجاپور کا گول گنبد جیسی ہزاروں یادگار عمارتیں تاریخ و تہذیب کے حوالہ کردی تھیں۔ اس سے بحث نہیں کہ شاه جہاں کے ہٴزمان حکومت سےخودمیںجنتھےنہیںویسےکیمبرجاوراکٓسفورڈمیںء)۱۶۵۸-۱۶۲۸) برگشتہ ہندستانی اشرافیہ بصد شوق پڑھنے جاتے اور بصد عزت ہندستان واپس آتے تھے اور اکٓر ملک کا بڻواره کردیتے۔غم کی بات یہ ہے اسلام میں علم کی فرضیت کا اعلان تھے، قوم نے اس سے علم میں مفروضیت کا نکتہ پیدا فرما دیا۔ ایک ارسطوئے ثانی نے فرمایا تھا کہ شاه ولی لله کو حجۃ لله البالغہ جیسی کتابوں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے چاہیے تھا کہ انگلستان جاتے اور دیکھتے کہ وه قوم ہندوستان پر حکومت کرنے کے قابل کیوں بن گئی۔ شاید سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ شاه جہاں آباد کی تعمیر کرنے والے جاہل ہندوستانی مسلمانوں کو اکٓسفورڈ وغیره کی ڈگری حاصل کرنے کا خیال تک نہ ایٓا کہ دنیا

میں کوئی اچھاکام کرسکتے۔ دوسری بات جو جدید دانشوروں کے علم میں نہیں ہے یہ کہ دہلی کی شاه جہانی مسجد سے ملحقہ یونیورسڻی کانام دار البقا تھا جس کے اخٓری وائس چانسلر یا ڈین مرزا صدر الدین ازٓرده تھے جن سے مولانا رشیداحمد گنگوہی نے صحاح ستہ کے سوا دیگر کتب حدیث کی سماعت کی تھی اور سند لی تھی

محمد( طارق الانصاری غازی۔ تذکار الانصار۔ ص ۲۸۸ اور ۔)۳۰۲ اس یونیورسڻی کو ۱۸۵۷ ء میں زمیں بوس کردیا گیا تھا۔ تیسری بات یہ کہ انگریز مورخین مثلا( ایڈورڈ تھومپسن: دی ادر سائڈ آف دی میڈل TheOther Sideof the Medal- ( اور ہندو مورخین مثلا( راجہ شیو پرشاد۔ اتہاس تمر ناشک/ ائٓینہ تاریخ نما) کے مطابق ء۱۸۵۷ میں ۲۴،۰۰۰ سے ۴۴،۰۰۰ تک علمائے اسلام قتل کیے گئے تھے اور دہلی اور نواح میں ایک لاکھ سے زیاده عمارتیں منہدم کی گئی تھی جن میں اس خطہ کے تمام مدارس برطانوی( اصطلاح میں کالج اور یونیورسڻیاں) بھی شامل تھیں۔ ظاہر ہے نہ پڑھانے والے رہے نہ تعلیم کے ادارے تو قوم کا کیا حال ہونا تھا۔ یہ صورت حال بنی توایک اسطوره سچ بنا کر پیش کیا گیا کہ انگریزوں کے انٓے سے پہلے برصغیر میں ایک جاہل محض قوم رہتی تھی اور تاریخ میں پہلی بار یہاں علم کا رواج انگریزوں کے انٓے کے بعد پڑا۔ اس طویل ہٴجمل معترضہ کا مقصد یہ ہے کہ اجٓ کے دانشور بھی ملک

محمد جائسی اور امتیاز علی تاج کی طرح تاریخ کو فسانہ بنانے میں مشغول ہیں اورکون جانے انٓے والی نسلوں کو ان کی اسطوره طرازیوں کا کیا خمیازه بھگتنا پڑے۔ الامان الحفیظ۔ آگ کی بارش ہورہی ہے تو آگ بھی تو ہماری ہی لگائی ہوئی ہے۔

ابرباراں کی دعا بھی کی جائے اوراس کے ساتھ جتنی ہمت ہے اس حد تک لوگوں تک حق پہنچانے کی کوشش جائے۔ کوئی سنے نہ سنے انقلاب کی اوٓاز

پکارنے کی حدوں تک تو ہم پکار ائٓے

اسی مد میں ایک مضمون نما عبارت حاضر کررہا ہوں۔ اگر کسی قابل

ہے تواس کا ثواب پا کو ملے گا، کیونکہ یہ تحریر اپٓ کے کےشذرات ذیل ہی میں مرتب ہوئی ہے۔ فجزاکم لله احسن الجزاء۔ والسلام مع الاکرام۔ طالب خیر و دعا

محمد طارق غازی

مولانا سید سلیمان ندوی چند گزارشات

بہار استھانواں، وبرکاتہ لله ورحمۃ علیکم السلام معارف مدیر محترمی مولانا جناب میں شماره کے اپریل ہوگا۔ بخیر گرامی مزاج کہ ہے امید

کا استفاده سے اس اور گزرا سے نظر مکتوب کا صاحب اصلاحی ایوب اجمل

موقع ملا، ان کے اس علمی افاده کا ممنون ہوں۔ اس خط کا عکس ارسال کرچکا ہوں اگر مناسب سمجھیں تو ان کے مشوره کے مطابق آینده شماره میں شائع کردیں، حیرت ہے کہ وه مکتوب، ذخیره دارالمصنفّین میں نہیں ملا حالانکہ میں نے اس کا عکس وہیں سے لیا تھا۔ اس مکتوب کے علاوه سید صاحب کے نام جو ممتاز اہل علم کے مکاتیب ہیں خصوصا عربی، فارسی اور انگریزی کے مکاتیب جو بیرون ہند کے فضلاء کی جانب سے ارسال کیے گئے ان کی عکسی اشاعت بھی مفید ہوگی یا ان عکسوں کا کوئی مجموعہ ہی شائع ہوجائے۔ تھیکرنیعرضیہباتایکمیںسلسلہکےتصانیفکیصاحبسید

کہ انہوں نے اپنی بعض تصانیف پر کراچی کے دوران قیام نظر ثانی اور ان میں حذف و اضافہ کیا تھا ، مصنف کی نظر ثانی کے بعد سابقہ ایڈیشن کو منسوخ سمجھا جاتا ہے لیکن کم از کم میرے علم میں سید صاحب کی دو کتابوں کے پہلے ہیایڈیشن تکاب ہورہےشائعسےدارالمصنّفین ہیں۔ پہلی کتاب رسالہ اہل اضافہوحذفجگہکئیمیںایڈیشناخٓرینےصاحبسیدہے،والجماعتسنت کیا ہے اور مولانا غلام محمد صاحب کے مقدمہ کے ساتھ کراچی سے یہی ایڈیشن شائع ہورہا ہے جس میں بہت سے مباحث نئے ہیں جو پہلے ایڈیشن میں شامل نہیں۔ دوسری کتاب نقوش سلیمانی ہے جس میں کراچی کے ایڈیشن میں سید صاحب کا طویل مقدمہ ہے اور مقدمات کا باب شامل نہیں۔ شذرات سلیمانی میں اگر الندوه )۱۹۴۰( کے سید صاحب کے چند شذرات بھی ایٓنده ایڈیشن میں

شامل کرلیے جائیں تو بہتر ہوگا۔ دارالمصنّفین کی کتابوں کے املا کے سلسلہ میں گذارش ہے کہ اس نے املا کے سلسلہ میں جناب رشید حسن خان صاحب کے چند سفارشات کو قبول کرتے ہوئے اعلی ادنی جیسے الفاظ کا املا یا کے بجائے الف سے اعلا اور ادنا لکھنا شروع کیا ہے، لیکن دیگر ماہرین املا کو جناب رشید حسن خان صاحب کی ان سفارشات سے اتفاق نہیں ہے۔ خود اردو بیورو دہلی نے بھی ان کی ارٓاء کو مسترد کردیا تھا اور اجٓ بھی عام کتابوں میں مروجہ املا ہی نظر اتٓا ہے اور اردو کے ماہرین اسی کو ترجیح دیتے ہیں، پھر معلوم نہیں دارالمصنّفین نے ان کی سفارشات کیوں کر قبول کرلیں، سید صاحب نے اپنی تحریروں میں املا کی تسہیل کی طرف جو توجہ دلائی تھی وه ملک کی تقسیم سے قبل اور ملک کو اس سے محفوظ رکھنے کے پیش نظر تھا تاکہ اردو اور ہندی کا بعد دونوںاورہوختم زبانیں ایک سےدوسرے ہوسکیں۔قریب لیکن جبکہاب ملک تقسیم ہوچکا شاید املا کی تسہیل کی اس قدر ضرورت نہیں جس سے اردو کی

روحمتاثرہوجائے۔ والسلام مولوی)( طلحہ نعمت ندوی

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.