نشید کعبہ

Maarif - - ۳۹� ء ۲۰۱۸ مئی معارف ۵/۲۰۱ - جناب محمد طارق غازی

لله کا گھر ہر مسجد ہے اور ان میں کامل کعبہ ہے پوچھو تو صنم بھی بول اڻھیں توحید کی منزل کعبہ ہے تکوین کے دفتر کا حاصل چھ دن٭ کی کرشمہ کاری تھی اس دور فکاں میں القصہ تقدیر کا حاصل کعبہ ہے

گلزار و چمن ، جیہون و جمن ، سب کوه و دمن ، سب سر و سمن یہ د نیا محفلِ رونق ہے ، اور رونقِ محفل کعبہ ہے یہ کاہکشاں ، یہ کون و مکاں ، اک ہستی مثال ماه رخاں اس عالم ہست کے مرکز میں مرے دل کے مماثل کعبہ ہے امت کی محبت کا محور ، امت مرکوز مدینہ پر

بے مثل ہے شہر نبیؐ ، گویا اس میں ہر اک دل کعبہ ہے ہم کو ہے ره و منزل کی خبر ، بس قافلہ بننا باقی ہے ہے اپنی حدی فرمان نبیؐ اور اپنا محمل کعبہ ہے

جب لوگ وںٴہوا کے رخ پر چل کر فرقوں میں بڻتے ہیں اس دم انکار کے طوفاں میں ایمان کا ساحل کعبہ ہے

انساں نے بنائے لاکھ خدا ، پھر جھوٹ کو سچ کا نام دیا باطل کو نگوں سر حق نے کیا ، اس حق کا حاصل کعبہ ہے سب ہیکل و معبد نذر بتاں ، بے نام و نشاں ، بس وہم و گماں تصدیق یقیں ، وحدت کا علم ان سب کے مقابل کعبہ ہے

ترجماں کے عمل و فکر کے للهؒ ولی اے ہندوستاں نازشِ ، دانش و علم امام اے یاب فیض سے چمن کے نبوت علم قاسمؒ تاب و آب کی آگہی جہانِ تھی سے تجھ کہ اے بعد کے جانے سے ہاتھ کے قاسمی گلستانِ بعد کے انٓے میں ہوش سجایا گلشن نیا اک چمن تیرا گیا بنتا نظر اہلِ مرجعِ انجمن تیری اجٓ ہے کہن شیرازِ رشک

کیا کھایا غم کا علمی مادر تو مگر ، ہاں کیا سمجھایا کو حکمت کی عفو سے غم ضبطِ رہا گاتا رضا و صبر ہٴنغم پر دل سازِ

رہا بہلاتا کو دل سے تقنطوا لا ایٓتِ شعار تیرا رہی دم ہر ذریؓ بو خوے کہ اے اشٓکار سے ادا ہر تھا غنیؓ عثمانِ حلمِ پوچھ سے ظالم کسی کر مل ذرا ہے؟ شے کیا ظلم پوچھ سے سالم ! نوا ہم لیکن بات کی درگزر کناں نوحہ وارثِؔ اے میں انتالیس چوده جناں سوے جاچکے بھی بیاں شیریں سالمِ ھ۱۴۳۹

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.