نبوی سیرت اور مصنّفین مسلم غیر

ڈاکڻر شمس بدایونی

Maarif - - نبأ -

اسلامی علوم فنون پر یورپ کے مصنّفین با لخصوص مستشرقین

کی قابل ذکر خدمات ہیں، ہمارے ملک ہندوستان کے غیر مسلموں نے بھی ان علوم و فنون پرتوجہ کی ہے اور اسلامی وعلم فن کے مختلف شعبوں پر لکھنے لکھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے، لیکن وه بالعموم معیار کی اس سطح تک نہیں پہنچ سکے جہاں یورپ کے مصنّفین اور مستشرقین پہنچے اور علمی تاریخ کی ضرورت اور اس کا حصہ بن گئے۔ اگرچہ( نیت ان کی ڻھیک نہ تھی) زیر نظر مضمون میں سیرت رسولؐ سے متعلق غیر مسلموں

کے صرف تین رسائل کا تعارف مقصود ہے۔ سیرت رسولؐ کی طرف ہندوستانی غیر مسلموں کی دلچسپی کی

متعدد وجوه جوہیں، ان رسائل کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہیں: اول: ایک بڑے عالم گیر مذہب کے پیغمبر، ان کے لفظوں میں

بانی اسلام، اوتار یا انقلابی پُرُش، جنہوں نے ۲۳ سال کی مختصر مدت میں سماج سے برائیوں کے مڻانے اور نیکیوں کی طرف راغب کرنے کا کام انجام دیااور ایک پرماتما کو ماننے کی تلقین کی، جو کسی حد تک ویدک

ہٴفلسف توحید کے قریب تر ہے۔ دوم : ایک ایسے پُرش جنہوں نے انسان کو اعلی اخلاق کی تعلیم

دی ، عورتوں کے ازدواجی اور وراثتی حقوق بحال کیے، لڑکیوں کو زنده در گور کرنے اور انسانوں کو غلام بنانے کی پرتھا کو ختم کیا اور سارے

دوسرے مذاہب کا احترام کرنا سکھا یا۔ سوم: مذہبی یکجہتی ےک لحصو ےک لیے ضروری ہے کہ دوسرے مذاہب پر بھی فراخ دلی سے لکھا جائے اور ان کی اچھی تعلیمات کا دل کھول کر اعتراف کیا جائے۔ ہندو مسلم منافرت کے سیلاب پر باندھ

،۵۸ نیو ازٓاد پورم کالونی، عزت نگر، بریلی، یوپی، ۔۲۴۳۱۲۲ (Mob:09837092245(

جائے۔ کیا زنده سے کوپھر تہذیب جمنی گنگا قدیم اور جائے باندھا محرک کااصل لکھنے کے ان ہیں، کتابیں تین جو نظر پیش ہمارے ہے ہوجاتی پیدا گنجائش بھی کی دوم و اول شق لیکن ہے ہی شق تیسری تو اور ووںٴہند وه گئیں لکھی میں دور جس یہ کہ ہے ظاہر بھی وجہ کی اس اور عیسائی کشمکش یہ تھا۔ دور کا کش کشا مذہبی سخت درمیان کے مسلمانوں اکھل ء)،۱۸۷۵ قیام( تحریک سماج ارٓیہ ء)،۱۸۲۳ عمل حرکت( مشنریز ارٓ اور ء)۱۹۲۳ قیام( سنگڻھن شدھی ء)،۱۹۱۵ قیام( مہاسبھا ہندو بھارتیہ و کتب آمیز ہتک اثر زیر کے جس تھی، ثمره کا ء)۱۹۲۵ قیام( ایس ایس کھول دروازه کا ارٓائی محاذ خلاف کے اسلامؐ پیغمبر اور اسلام کر لکھ رسائل عیسائیوں کرلی۔ اختیار صورت مناظراتی ایک نے اس میں بعد تھا۔ گیا دیا قاسم مولانا ء)،۱۸۹۱ ف( کیرانوی لله رحمت مولانا کا اعتراضات کے مولانا منگلوری، علی رحم مولانا خاں، وزیر ڈاکڻر ء)،۱۸۸۰ ف( نانوتوی ف( مونگیری علی محمد سید مولانا ء)،۱۹۰۳ ف( چڑیاکوڻی رسول عنایت پور کابھر سازشوں کی ان اور رد نے علماء دوسرے بعض اور ء)۱۹۲۷ ‘‘نصاریٰ هٴمناظر’’ میں ء)۱۹۶۱ کراچی( اول جلد الکتب قاموس کیا۔ دفاع تحت کے ‘‘نصاریٰ هٴمناظر رد’’ اور کتب۵۵ )۷۹۹ تا ۷۹۴ ص( تحت کے

ہے۔ ملتا اندراج کا )۸۲۸ تا ۸۰۰ ص( ورسائل کتب ۲۷۵ تھے پائے نہیں بھی نکل سے نرغے کے عیسائیوں ابھی مسلمان نے انہوں دیا، بول حملہ پر ان نے سماجیوں آریہ پر شہ کی عیسائیوں کہ کی ان اور پیغمبر کے ان عقائد، نکے مسلمانو تحت کے بندی منصوبہ منظم غیر اور مسلمانوں میں نتیجے کے سی ا بنایا۔ ملامت ہٴنشان کو کتاب آسمانی قاموس گئے۔ بڑھتے فاصلے اور چڑھی پروان نفرت درمیان کے مسلموں )۸۳۱ تا ۸۲۹( کتب ۲۷ تحت کے عنوان آریہ‘‘ مناظره’’ میں ۱ ج الکتب اندراج کا )۸۳۸ تا ۸۳۲( کتب ۸۲ تحت کے عنوان آریہ‘‘ هٴمناظر رد’’ اور عمل کے کرن‘‘ یھ شد ’’ میں عرصے کے بعد کے ء۱۹۲۳ ہے۔ ملتا پر بلووں نے جی گاندھی ہوگئے۔ شروع بلوے میں ملک ساتھ کے میناضافہ عارضی میں نتیجے کے جس کی کشی فاقہ کی دن ۲۱ لیے کے پانے قابو ہوسکی۔ نہ ختم لیکن ہوئی تو کم کچھ چپقلش کی مسلمانوں اور ہندو پر طور اور مہاشے یعنی مبلغ کے تحریک سماج ریہ ا میں ء۱۹۲۴

اے) بی کرشن رادھا( ‘ کرشن‘ مہاشے’’ مدیر کے لاہور پرتاپ‘‘’’ روزنامہ ء)۱۹۲۴ لاہور مطبوعہ( رسول‘‘ رنگیلا’’ نے ء)۱۹۶۳ فروری ؍۲۵ ف( بقول کے کتاب اس تھا۔ کردیا پار کو حدود کی پرستی انتہا مذہبی کر لکھ

مولانا جواب معروف گئے، لکھے جوابات باره دس کاندھلوی راشد مولانا امرتسر حدیث اہل دفتر ناشر( ‘‘رسولؐ س مقد’’ باسم کا امرتسری لله ثناء بجھی۔ سے قتل کے پال راج ناشر کے کتاب اس اگٓ یہ لیکن ہے، ء)۱۹۲۵ بڑے سراغ کا مصنف لہٰذا تھا ہوا نہیں شائع نام کا مصنف پر کتاب چونکہ دوسرے جو قلم اہل ہندو وه میں ماحول ایسے سکا۔ لگ بعد کے عرصے دین کے مسلمانوں تحت کے جذبے اسی اور تھے کرتے احترام کا مذاہب قرطاس و قلم نے انہوں تھے، رکھتے رائے مثبت ایک بھی میں بارے کے سبھائیوں مہا سماجیوں، ارٓیہ متعلق کے اسلام مذہب درمیان کے ہند اہل سے دوسرے اسلام، اشاعت جبری( ںفہمیو طغل هکرد اپید یک ںشدھیو راو شہوت نعوذباﻟﻠہ کی اسلامؐ پیغمبر ، گری غارت و قتل کی لوگوں کے مذاہب کے کرانے متعارف سے تعلیمات صحیح کی اسلام اور ازالے کے پرستی) کا لکھنے پرکتب اس اور کیا تصور ذریعہ بہتر ایک کو رسولؐ سیرت لیے

کیا۔ شروع سلسلہ بقول کے دخال دمحمو رانو ڈاکڻر قمطاب کے تدریاف یک کت با لالہ کتاب نثری مینپہلی اردو کی مصنف مسلم غیر ہندی پر رسول سیرت جو ہے، ء)۱۸۹۲( ‘‘محمدؐ عمری سوانح’’ یک یگولاڻ مرا ارلی پنڈت)( نثر اردو( ہے۔ ترجمہ اردو کا LifeofMahomet کتاب کی ارونگ واشنگڻن ۔)۴۶۸ ص ء۱۹۸۹ لاہور پاکستان، اکادمی اقبال ناشر رسولؐ، سیرت میں رام رلیا پنڈت تھی۔ ہوئی شائع میں ء۱۸۵۰میں انگریزی کتاب کی ارونگ ایک میں ء۱۸۸۶ سے نام کے پرچارک‘‘ دھرم سناتن’’ سرسے امرت نے

تھا۔ کیا جاری بھی اخبار پر عام منظر کتابیں متعدد اور ہوا دراز سلسلہ یہ میں صدی بیسویں

و ہوئے دستیاب نام جو سے سیرت‘‘’’ عنوان کے اول جلد الکتب ائٓیں۔قاموس اضافہ کا ناموں چند بھی نے الحروف راقم میں فہرست اس ہیں۔ ذیل حسب ه

ہے۔ کردی تصریح کی اول طبع اور ہے کردیا پرکاش شردھے اسلام، بانی صاحب محمدؐ حضرت عمری ۔سوانح۱

طبع دارا، سنگھ گرودت ، عربیؐ ۔رسول۲ ء۔۱۹۰۷ لاہور اول طبع جی، دیو جنڈ دایا گووند محمدؐ، ۔حیات۳ ء۔۱۹۲۴ غالبا ندارد، سنہ گڑھ، اعظم اول ء۔۱۹۳۲لاہور برادرز، اینڈ ساہنی لال چمن ناشر بیکانیری)،( ہوک مطبوعہ( ء۱۹۳۳ آباد، الہ پریس سلیمی سندرلال، پنڈت اسلامؐ، ۔پیغمبر۴ لکشمن سوامی چاند، کا عرب یعنی حقانیت ۔افٓتاب۵ ۔)۳۳ ص تقریر، سلیمانی دارالکتب دیگر بار ،۴۳۲صفحات ء،۱۹۳۴ پنجاب، روڈی پرشاد،

حصار۔ ۔حضرت۶ محمدؐ اور اسلام، ڈاکڻر پنڈت سندر لال، طبع اول الٰہ ابٓاد ء۔۱۹۴۲ ۔حضرت۷ محمدؐ اور اسلام، بابو کنج لال ایم اے، جید برقی پریس دہلی۔ ۔پیغمبر۸ اسلامؐ، رگھو ناتھ سہائے، یہ( در اصل میلاد نامہ ۔ہے) ۔چار۹ مینار، گوبند رام سیڻھی پرشاد، اتحاد پریس لاہور ء،۱۹۴۳ صفحات ۔۲۲۱ رام( جی،چندر حضرت صاحب،محمدؐ عیسیٰؑحضرت اور گرونانک جی کے حالات و ۔تعلیمات) ۔حضرت۱۰ محمدؐ صاحب کی سوانح عمری، پروفیسر لاجپت رائے نیر۔ ۔پیغمبر۱۱ صحراؐ، کے ایل گابا، دہلی ء،۲۰۰۴ انگریزی سے ترجمہ پروفیسر احمد الدین مارہروی، یہ The prophet of the desert اک وارد ہترجم ۔ہے ہی بکتا فمصن ےن ماسلا ںمی داخل ہوجانے کے بعد لکھی ہے۔ مصنف نے اس کو اپنے مسلم نام خالد لطیف گابا K.L.GAUBA)) کے نام سے شائع کیا ہے، لہٰذا اس کو غیرمسلم مصنّفین

کی کتب میں شمار نہیں کر نا چاہیے۔ ان کے علاوه تین مضامین کے مجموعوں کابھی پتہ چلتا ہے جو غیر

مسلم مصنّفین کے مضامین کے انتخاب پر مشتمل ہیں۔ ۔۱ سرور کونینؐ۔ اغیار کی نظر میں مرتبہ: بشیر احمد سید کتاب، مرکز گوجرانوالہ۔،

۔پیغمبر۲ اسلامؐ۔ غیر مسلموں کی نظر میں مرتبہ: ظل عباس عباسی، اداره نئی راه بمبئی ء۔۱۹۵۶

۔محمد۳ رسول للهؐ۔ غیر مسلموں کی نظر میں مرتبہ: محمد حنیف یزدانی ۔ مذکوره بالا کتب و انتخاب آج عام طور پر دستیاب نہیں ہیں،

حالانکہ ان کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے تھے۔ راقم الحروف نے مذکوره بالا فہرست سے تین کتب منتخب کی ہیں، جو بیسویں صدی کے نصف اول میں لکھی گئی تھیں ۔ان کے مصنفّین اپنے دورکے معروف اہل قلم تھے اور ان کو پڑھنے والوں کا حلقہ بھی میسر تھا۔ وه ایک دوسرے سے فکری طور پر مختلف ہو تے ہوئے بھی اس امر میں متحد نظر اتٓے ہیں کہ اہل وطن کے دل میں مسلمانوں کے مذہب ، ان کے پیغمبر کے بارے میں جو غلط فہمیانواقع ہوگئی ہیں ان کو ایسے انداز سے رفع کیا جائے جس میں صحیح معلومات و اطلاعات کا عنصر غالب ہو، جس کا مواد تاریخی سچائی رکھتا ہو اور سرو دھرم سم بھاو ییعن( بس مذہبوں وک تعز کی رنظ ےس دیکھو) لاصو ےس رس مو انحراف نہ کرتا ہو۔ یہ کتابیں علمی ہٴنقط نظر سے نہیں لکھی گئیں اسی لیے

یہ کسی علمی جائزے کی متحمل نہیں ہوسکتیں، لہٰذا سطور ذیل میں تینوں کتب کا سر سری تعارف پیش کیا جارہا ہے۔ ان میں سے شروع کی دو کتب کا ڈاکڻر انور محمود خالد نے اپنے علمی مقالے اردو’’ نثر میں سیرت ‘‘رسولؐ میں جائزه لیا ہے۔ اس لیے میں صرف ان امور کت گفتگو کو

محدود رکھوں گا جن کی طرف ڈاکڻر انور محمود متوجہ نہیں ہوسکے۔ سوانح عمری حضرت محمدؐ صاحب بانی اسلام: یہ کتاب پہلی مرتبہ

لاہور سے ء۱۹۰۷ میں چھپ کر شائع ہوئی تھی۔ راقم الحروف کے پیش نظر طبع سوم و چہارم ہے۔ طبع سوم ء۱۹۱۰ میں نول کشور پرنڻنگ ورکس لاہور سے ۱۳۶ صفحات پر چھپ کر شائع ہوا تھا۔ طبع چہارم کا سر ورق غائب ہے، لیکن صاحب‘‘’’ کے عنوان سے جو تحریر محمد’’ اعظم‘‘ کی اس کتاب میں شامل کی گئی ہے اس پر جولائی؍۱۴ ء۱۹۱۳ مندرج ہے لہٰذا اسے ء۱۹۱۳ کا مطبوعہ قرار دیا جاسکتاہے۔طبع سوم کی تین ہزار کاپیاں چھاپی

گئی تھیں ساده کاپی کی قیمت پانچ انٓہ تھی اور مجلد کی قیمت سات انٓہ ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طبع اول دوم، اور سوم کی اشاعت کے بعد

مسلمانوں کی جانب سے یہ اعتراض کیا گیا ہوگا کہ آنحضورؐ کے نام کے ساتھ لفظ صاحب‘‘’’ کا استعمال درست نہیں۔اس اشکال کو رفع کرنے کے لیے ضلع سیالکوٹ کے محمد اعظم کی دو صفحے کی ایک تحریر طبع چہارم کے شروع میں شامل کی گئی ہے، جس میں لغات عربی، قرانٓ کریم، احادیث مبارکہ اور اثٓار سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ حضور کے نام کے ساتھ صاحب‘‘’’ کا لفظ استعمال کرنا جائز ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ شاه اسماعیل شہید کی تقویۃ’’ الایمان‘‘ اور ڈپڻی نذیر احمد کے ترجمہ قرانٓ میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ لہٰذا اعتراض باطل ہے۔ محمد اعظم کون تھے میری کم اگٓاہی اس کا پتہ نہیں لگا سکی۔ راقم الحروف نے مولانا راشد کاندھلوی سے فون پر اس بابت سوال کیا ، انہوں نے فرمایا ، لفظ صاحب‘‘’’ زمانہ قدیم میں احترام کے کل معانی و عظمت کو محیط تھا۔ حضرت مولاناشاه عبدالقادردہلوی ف( ء)۱۸۱۵ نے اپنے ترجمہ قرآن میں خدا کے

نام کے ساتھ لفظ صاحب لله( صاحب) استعمال کیا ہے۔ قاموس الکتب جلد اول میں اس کی دو اشاعتونمنجانب نرائن دت

سہگل لاہور اور الناظر بک ایجنسی وٴلکھن ء۱۹۲۲ کابھی ذکر ملتا ہے۔ اس کتاب کی ہر اشاعت کے شروع میں چند سطری نیادیباچہ بھی

دیا گیا ہے اور، طبع اول کے دیباچے کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ڈاکڻر انور خالد محمود نے اس کی ایک اشاعت شردھے’’ پرکاش دیو کا ہٴنذران عقیدت

میں ء۱۹۷۹ سے لاہور شاہکار مکتبہ سے عنوان کے اسلام‘‘ بانی بحضور ان اشاعت یہی اور )۴۷۱: رسولؐ سیرت میں نثر اردو( ہے۔ لکھا ہونا جاری

ہے۔ رہی بھی نظر پیش کے ۔ ہیں عنوانات ذیلی چند کے باب ہے۔ہر مشتمل پر ابواب سات کتاب یہ لکھنے مینکتاب جس ، ہے اول طبع ہٴدیباچ کا صفحات چھ تقریبا میں شروع

ہیں: لکھتے وه ہے۔ گیا کیا تذکره کا غایت و غرض کی کرنے پیش اور کے زندگی اعلی کی ان جوہیں، لوگ کم ہی بہت ایسے’’ لوگوں ےایس ہزاروں ںسینکڑو کو ہم ۔ہیں واقف سے تحالا کہتے مسلمان پکا تئیں اپنے جو ہے ہوا اتفاق اکثر کا ملنے سے کچھ بابت کی حالات کے صاحبؐ محمد سے ان اگر لیکن ہیں، لوگ وہی حالانکہ ہیں۔ جاتے ره دیکھتے منھ تو کرو استفسار ۔ہیں‘‘ سکتے سنا ازبر افسانے تمام کے نظیر بے اور عالم جان

)۵ص( وه مسلمانوں کی سیرت رسولؐ سے ناواقفیت کا سبب، سیرت کی

عام فہم کتابوں کی عدم موجودگی قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ہینوه گئی لکھی کتابیں جتنی میں حالات کے انٓحضرتؐ’’ خواں اردو تک جن ہیں گئی لکھی ہی میں زبان عربی تر زیاده کتابیں جو مینبھی عربی علاوه کے اس ہے۔ نہیں دسترس کی پبلک خوش بجائے کے تنقید و تحقیق کی واقعات میں ان ہیں گئی لکھی اگر کو کتابوں ان ہے۔ گیا لیا کام زیاده سے توہمات اور اعتقادی دیگر سوا کے اسلام اہل بھی تب جائے کیا بھی ترجمہ میں اردو میں انگریزی سکتے۔ اڻھا نہیں فائده سے کتابوں ان پیرو کے مذاہب لکھی عمریاں سوانح بڑی بڑی نے لوگوں اکثر میں حال ہٴزمان البتہ اس ہیں سے تالیف کی والوں مذہب دوسرے وه چونکہ مگر ہیں، ہیں۔ لائق کے قدر کچھ ہینجو ایسی ہی ایک دو صرف میں ان لیے نکالا بخار کا دل اپنے سے تعصب محض تو نے بعضوں ورنہ لگا ہاتھ سے ادُھر ادِھر کرکٹ کوڑا کچھ جو نے بعضوں اور ہے،

)۵ ص۔(ہے‘‘ دیا بھر میں اس سب ہیں کرتے تذکره کا سیرت مصنفہ کی علی امیر سید وه بعد کے اس

اہل سے اس لیے اس ہے گراں اور ہے میں انگریزی لیکن ہے، اچھی وه کہ تذکره بھی کا احمدیہ‘‘ خطبات’’ کے سید سر ۔ سکتے اڻھا نہیں فائده ہند قاری عام بھی اسے سبب کے رخ دفاعی اور اجمال کے اس مگر ہیں کرتے

کے لیے مفید مطلب نہیں سمجھتے۔ اگٓے لکھتے ہیں: ہر اور ملک ہر کو لوگوں کے ملک اپنے کہ ہے خواہش ہماری’’ کیا فواق سے تحالا ےک زندگی یک اشخاص گبزر ےک مذاہب بھی لکھنا کا عمری سوانح کی صاحب محمدؐ پر ہم لیے اس جاوے۔ لکھنے عمری سوانح کی ان ہم کہ تھا یہی تردد کو ہم مگر تھا، فرض کچھ بہتسےکتابوںانگریزیاگرچہگے؟ ہوںکامیاب طرحکسمیں لیکن ہوتا، نہیں اطمینان ہمارا سے اس تاہم ہے۔مگر سکتی مل مدد اپنے کو داری ذمہ کی کام اس نے دوست ایک ہمارے کہ ہے شکر حضرت نے انہوں بعد کے تلاش اور محنت بڑی آخر اور لیا اوپر اگر ہے۔ دیا کے کر بند قلم حال کچھ کا عمری سوانح کی صاحب محمد کو لوگوں جن کہ ہے ایسا بھی پھر مگر ہے، مختصر بہت حال یہ چہ کو ان نہیں، واقفیت کچھ سے حالات کے ریفارمر بڑے اس کے دنیا کر دیکھ کو اس کہ نہیں تعجب کچھ گی۔اور ہوجائے اگٓاہی تو کچھ ہم میں زمانے ہی تھوڑے اور ہو پیدا تحریک کو صاحب اور کسی کے خانوں اردو کیصاحب محمدؐ عمری سوانح عمده اور مفصل ایک

)۷ ص( ۔ہے‘‘ ارٓزو دلی ہماری جو دیکھیں، میں خانے کتب اردو پر سیرت میں دہے پہلے کے صدی بیسویں کہ ہے حقیقت تقریبا کی صدی انیسویں لیکنتھیں، نہیں دستیاب پر طور عام کتابیں میں حبیب تواریخ کتابیں دو میں جنتھیں، موجود مطبوعہ کتابیں اردو بھر درجن کشور نول منشی دوم ء۱۸۵۸ اول طبع( کاکوروی احمد عنایت مفتی الٰہ، کرزن ، دہلوی حیرت میرزا محمدیہؐ، سیرت اور ء)۱۸۸۷ کانپور پریس دا’’ کتاب انگریزی کی علی امیر ہیں۔سید معروف ء۱۸۹۵ دہلی پریس ‘‘الاسلامؐ شارع احوال فی الکلام تنفیذ’’ باسم ترجمہ کا اسلام‘‘ افٓ اسپرٹ ایک کی دہلوی حیرت میرزا تھا، ہوچکا شائع میں ء۱۸۸۵ سے وٴلکھن بھی میں ء۱۹۰۳ سے دہلی پریس کرزن اول جلد کی الرسولؐ سیرة کتاب طویل چھپ سے پریس اسی میں ء۱۹۰۵ غالبا سوم جلد اور ء۱۹۰۴ دوم جلد اور تھی کرتی نہیں احاطہ کُلی شاید کا سیرت کتابیں تمام یہ لیکنہوئی، شائع کر کو کار قلم مسلم غیر ایک صورت بایں تھی۔ باہر سے دسترس کی مصنف یا اس ہوگا، پڑا کرنا سامنا کا دشواری یقینا میں کرنے جمع مواد پر سیرت نے انہوں کردیالیکن حل نے دوست ایک کے ان تک حد کسی کو دشواری ہوجاتا محسوس یہ سے مواد کے کتاب کیا، نہیں مطلع سے نام کے دوست کیونکہ نہیں۔ مسلمان گے، ہوں رہے ہی مسلم غیر کوئی دوست یہ کہ ہے ہے: جملہ پہلا کا دیباچے( سکتا۔ لکھ نہیں اسلام بانی کو حضور مسلمان

حضرت محمدؐ صاحب بانی مذہب اسلام جن کی سوانح عمری کا یہ مختصر سا خاکہ ہے) اپنی کتاب کی بابت لکھتے ہیں: کتابوں عام اور جو حالات ایسے سے بہت کے انٓحضرتؐ اگرچہ’’ کو ناظرین ہم لیکن گے ملیں نہ میں کتاب اس ہیں، جاتے پائے میں میں انداز دوستانہ اور تعصبانہ بے بالکل کتاب یہ کہ ہیں دلاتتے یقین ان ، ہیں گئے کیے درج میں کتاب اس واقعات جو ہے.... گئی لکھی ہے جاسکتا کہا اطمینان با اور ہے گئی کرلی بین چھان خواه خاطر کی ہمیں نہیں۔ کلام کو کسی دشمن و دوست میں صحت کی واقعات ان کہ اس غرض وه ہے گئی لکھی کتاب یہ سے غرض جس کہ ہے امید جو متعلق کے واقعات کے زندگیکیانٓحضرتؐ اور ہوگی حاصل سے اصل اپنی صداقت اور گی ہوجائیں رفع وه ہیں ہورہی مشہور غلطیاں

)۸ ص( ۔گی‘‘ چمکے میں رنگت گئے دیےاقتباسات طویلجو کے دیباچہکے اول طبعمیں بالاسطور کے لکھنے کتاب اور غایت و غرض کی لکھنے کتاب سے مطالعہ کے ہینان یوں کو اندراج کے اقتباسات ان ہے۔ پڑجاتی روشنی کافی پر پیشکش اور انداز مقالے علمی اپنے نے خالد محمود انور ڈاکڻر کہ گیا سمجھا ضروری بھی کا دیباچہ اس ہوئے کراتے تعارف کا کتاب میں ‘‘رسولؐ سیرت میں نثر اردو’’ اس وه، ہے ایڈیشن جو کا ء۱۹۷۹ نظر پیش کے ان غالبا کیا۔ نہیں تذکره مطلق بہت نے انہوں بابت کی مواد کرده پیش میں کتاب البتہ ہے۔ نیاز بے سے دیباچہ کےان یاہیںہوئیغلطیاںتعبیریسےمصنفجہاں اورہےلکھاسےتفصیل اس ۔ ہے کی نشاندہی بھی کی مقامات ایسے ہیں ہوگئے حاوی نظریات مذہبی ہوئے کرتے نظر صرف سے مواد کرده پیش میں کتاب الحروف راقم لیے

: کہ گا کرے پسند کرنا اکتفا پر لکھنے یہ صرف میں انداز دارانہ جانب غیر جو ہے کتاب پہلی یہ پر رسولؐ سیرت انٓحضورؐجوہےاگٓیا جواب شافیبھیکا اعتراضات انمیں اسہے۔گئی لکھی ساتھکےنامکےحضورؐہیں۔رہےکرتےمصنفّینمسلمپرغیرگرامیذاتکی کے نام کے آپؐ بالعموم بلکہ گیا سمجھا نہیں کافی کو صاحب‘‘’’ لفظ صرف

ہے۔ لکھا وسلم علیہ لله صلی میں بعد اور انٓحضرتؐ میں شروع ساتھ ہے۔واقعات دلاوٓیز کس پیش اور موزوں بیان، ساده زبان کی کتاب

اور ہے جاتی چلی بڑھتی گے آ آخر تا اول از کتاب سہارے کے سیرت یا تنگ دائره کا رسول عظمت کہ ہوتا نہیں محسوس یہ بھی کہیں کو قاری

ہے۔ ہورہا محدود

کتاب عام فہم ہے، چھوڻے چھوڻے جملونسے بات کو مکمل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جہاں جہاں آج کاما کی ضرورت ہوتی ہے وہاں وہاں ایک چھوڻے ڈیش سے کام لیا گیا ہے، گویا کہ ترسیل مفہوم کے لیے نہ صرف عبارت کی سادگی ، مضمون کی دلآویزی بلکہ رموز اوقاف کا بھی حتی الوسع خیال رکھا گیا ہے، ہجری تاریخوں کی عیسوی سے تطبیق کی گئی ہے، اس طور انٓحضورؐ کی پیدائش ؍۲۹ اگست ء۵۷۰ اور وفات ؍۸

جون ء۶۳۲ لکھی گئی ہے۔ دبع ےک رغی ممسل نمصنّفی ےک لیے ہی بکتا یبنیاد ماخذ بن

لیکنگئی، کسی نے اس کا حوالہ دینا ضروری نہیں سمجھا۔ کتاب کے اخٓر ی چار صفحات میں معاصرین کی آرا، اورتبصرے یکجا کردیے گئے ہیں۔ ان میں خواجہ الطاف حسین حالی، مرزا غلام احمد قادیانی، مولانا ظفر علی سیدخاں، ممتاز علی اور متعدد انگریزی اور اردو اخبارات کے تراشے دیے گئے ہیں۔ سطور ذیل میں صرف مولانا حالی کی

رائے پیش کردینا کافی ہوگا۔ مولانا حالی لکھتے ہیں: دیکھا میں اخباروں نے میں کچھ جو نسبت کی کتاب اس’’ کوتعریف اس زیاده بہت سے اس تھا، سنا زبانی سے لوگوں اور حق اور سچائی کر لکھ کتاب یہ نے مصنف معزز پایا۔ لائق کے ہندوستانیوں سب ہم کی جس ہے کی قائم مثال ایسی ایک کی پسندی سے طور عام وطن ہم تمام ہمارے تک اب چاہیے۔ کرنی تقلید کو کہ ہیں رہے مبتلا میں خام خیال اس مسلمان، یا ہوں ہندو وه خواه چن اور ڈالیں پرده ہو ممکن تک جہاں میں خوبیوں کی مذہب غیر ہے جاتا کیا اندازه تک جہاں کریں۔ ظاہر برائیاں کی اس کر چن کے غیرمذہب ہینکہ ہوئے پڑے میں غلطی اس مذاہب اہل تمام کرنا اقرار کا خوبی کسی کی اس یا لینا کر تسلیم کو اعتراض کسی دھرم برامھ ہے۔ برابر کے جانے نکل سے دائرے کے مذہب اپنے ہے کرتا تعظیم کی پیشوائوں کے دھرم ایک ہر وه کہ اصول یہ کا سے جس ہےاصول وه یہی اور ہے مطابق کےاسلام اصول بالکل مفقود سے دنیا رفتہ رفتہ شاید جھگڑے مذہبی کہ ہے ہوتی امید یہ نے دیوجی پرکاش سردھے کہ ہے یقین مجھے اگرچہ ہوجائیں۔ صداقت محض نہینبلکہ لیے کے کرنے خوش کے مسلمانوں کتاب کا مسلمانوں چونکہ لیکنہے، لکھی لیے کے کرنے ظاہر کے کی مسلمانوں تمام وه لیے اس ہے، نتیجہ لازمی کا اس ہونا خوش

۔ہیں‘‘ مستحق کے شکریے دلی طرف

کتابیں اہم دو پر سیرت بعد کے کتاب کی دیو پرکاش سردھے

جلد کی للعالمین رحمۃ کی ء)۱۹۳۰ ف( پوری منصور سلیمان محمد قاضی کی النبی سیرة کی ء)۱۹۱۴ ف( نعمانی شبلی مولانا اور میں ء۱۹۱۲ اول کتاب کی دیو کرشن سے کتابوں دونوں ان ہوئی۔ شائع میں ء۱۹۱۸ جلد پہلی کے صدی بیسویں لیکن جاسکتا، کیا نہیں سے لحاظ بھی کسی موازنہ کا

ہے۔ حاصل تقدم تاریخی کو ان میں نگاروں سیرت غیرمسلم کی موحدین ۔ تھے پرچارک کے دھرم مّہ برا دیو پرکاش شردھے

میں عرض طول کے ملک پیغام اپنا ذریعہ کے لڻریچر تنظیم مذہبی یہ سے اس ہے شامل اشتہار جو کا مینکتابوں اخٓر کے کتاب تھی۔اس پہنچاتی بڑی چھوڻی درجن ڈیڑھ تقریبا جی دیو پرکاش شردھے کہ ہے ہوتا معلوم کے ان کتابیں تمام یہ لیکن تھے۔ مترجم و مصنف کے ررسائل او کتب کے ان تھیں۔ آتی میں دائرے کے اشاعت و توسیع کی دھرم کرده اختیار پندره ایک مشتمل پر صفحات ۱۶ سے نام کے پرچارک‘‘ برمھ’’ وه علاوه نام دوسرے والے لکھنے لڻریچر کا تنظیم اس تھے۔ نکالتے بھی اخبار روزه کرپال بھائی اے، بی سہائے رگھوناتھ لالہ ڻھاکر، ناتھ دوندر مہارشی ہیں: یہ طبع اے۔ ایم صاحب لال منشی بشواسی، رائے گردھر پنڈت اے، بی سنگھ تھا، مندر برمھ کوئی میں لاہور کہ ہے چلتا پتہ بھی یہ سے دیباچہ کے اول کے مصنف سوا کے تھے۔اس پاتے انجام کام سارے کے تنظیم اس جہانسے ف( ورمن ل لا برت شیو مہارشی ہوسکا۔ نہیں معلوم کچھ مزید میں بارے کی قتحقی یبھ تشخصی یک ودی شکا رپ ےشردھ حطر یک ء)۱۹۳۹ کا زبان اردو لیے کے پرچار کے مذہب اپنے نے انہوں ہے۔ متقاضی مال مالا دامن کا اردو سے ترجموں کے کتب مذہبی اپنی اور کیا استعمال

کیا۔ اہتمام بہ سے گڑھ اعظم پریس معارف مرتبہ پہلی کتاب یہ :عربیؐ رسول اس محیط پر صفٖحات ۱۲۴تھی، ہوئی شائع کر چھپ ندوی علی مسعود دارا سنگھ گرودت سردار مصنف کے اس تھی، روپیہ ایک قیمت کی کتاب میں کورٹ ہائی لاہور یہ مطابق کے اندراج کے ڻائڻل تھے۔ دارا) ایس جی( یا اخبار کسی کے نام انڈیا‘‘’’ والے ہونے شائع سے لندن اور تھے بیرسڻر و انگریزی مصنف کہ ہے جاسکتا کہا سے طور تھے۔اس مدیر کے جریدے فارسی برمحل جابجا میں تھے۔کتاب واقف بخوبی سے زبانوں دونوں اردو مناسب بھی کی فارسی وه کہ ہے ہوتا معلوم بھی یہ سے استعمال کے اشعار ہٴسلسل کے دارالمصنّفین کتاب یہ اگرچہ گے۔ ہوں رکھتے صلاحیت سے دارالمصنّفین دفتر اشاعت کی اس تاہم تھی نہیں حصہ کا مطبوعات

ہوئی تھی۔ اس کتاب پر سال اشاعت کا اندراج نہیں۔ ڈاکڻر انورمحمود خالد نے دو سنوں ء۱۹۲۴ راو ء۱۹۲۷ اک جاندرا کیا ہے۔ ء۱۹۲۴ نقری صحت

معلوم ہوتا ہے۔ سید سلیمان ندویؒ ف( ء)۱۹۵۲ کی دارا صاحب سے ملاقات لندن

میں فروری تا ؍۳۰ اکتوبر ء۱۹۲۰ کی درمیانی مدت میں ہوئی ۔ اور اسی دوران انہوں نے دارا صاحب کی کتاب کو ملاحظہ فرماکر اس پر دیباچہ بھی لکھا۔ اس دیباچہ نے کتاب کی قدر و قیمت بڑھا دی۔ دیباچہ پر سید صاحب کے نام کے ساتھ مسلم’’ ڈیلی گیشن لندن‘‘ بھی لکھا ہے۔ اس دور کے ہندو مسلم تنازعات میں اس کتاب کی پذیرائی بر محل اور مناسب تھی۔ سید صاحب نے معارف پریس سے اس کی طباعت اور دفتر دارالمصنّفین دوچندکوضرورتاوراہمیتکیموضوعاسماکرفراشاعتکیاسسے کردیا۔ بعد میں سید صاحب کی اجازت سے خواجہ حسن نظامی ف( ء)۱۹۵۵ نے مئی ۱۹۲۵ ء میں حمیدیہ پریس دہلی سے اس کا عکس چھپواکر شائع کیا اور اس کی قیمت اڻٓھ انٓے کردی۔یہ ایڈیشن بہ ہٴسلسل انسداد ارتداد، باسم محمدؐ’’ کی سرکار میں ایک سکھ کا نذرانہ ۔ رسول ‘‘عربیؐ وقف عام کیا گیا۔ ڻائڻل کی پشت پر اطلاع‘‘’’ کے عنوان سے خواجہ حسن

نظامی کی مختصر تحریر ہے، جس میں انہوں نے لکھا ہے: پہلا’’ ایڈیشن فروخت کم ہوا بلکہ مفت تقسیم کیا گیا۔ خیال تھا کہ

مسلمان ثواب کی نیت سے اس کو خرید کر مفت تقسیم کریں گے، مگر بہت کم لوگوں نے توجہ کی۔ اس لیے میں نے ہی اپنے ہٴسرمای تبلیغ سے اس کو

بلا قیمت تقسیم کر ۔دیا‘‘ قاموس الکتب جلد اول میں ۶۹۸۴ ۶۹۹۸اور، اندراج، کے تحت

اس ایڈیشن کا مذکور ہے لیکن اس کا سال اشاعت ء۱۹۲۴ لکھا ہے جو غلط

ہے۔ خواجہ ہیں۔ نظر پیش کے الحروف راقم ایڈیشن دونوں بالا مذکوره

میں بعد تھا۔ کیا شائع میں ء۱۹۲۷ ایڈیشن چوتھا کا کتاب اسی نے صاحب جی نام کا مصنف پر اشاعتوں ان ائٓیں۔ پر عام منظر اشاعتیں متعدد کی اس شائع میں ء۱۹۵۷ نے لاہور اردو مجلس ایڈیشن ہے۔ایک مرقوم دارا ایس

ہے: لکھا نے خالد محمود انور ۔ڈاکڻر تھا کیا اس’’ کتاب کی اشاعت اول کے بارے میں قطعیت سے کچھ

ء ۱۹۲۷ جگہ دوسری اور ء۱۹۲۴ جگہ ہے۔ایک مشکل کہنا ۱۹۰ جو چھپا میں ء۱۹۴۱ ایڈیشن دوسرا کا اس تاہم ہے۔ درج میں نثر اردو( ۔ہے‘‘ دستیاب عام اب اور، ہے مشتمل پر صفحات ) ۴۷۸ ص رسولؐ، سیرت دوم طبع کا کتاب نہیں۔اس درست بیان بالا مذکوره کا صاحب خالد

لہٰذا نہیں، اندراج کا سنہ پر اول طبع تھا۔ ہوا شائع کر چھپ میں ء ۱۹۲۵ ء۱۹۴۱ طور اس ہے۔ ہوتا معلوم صحت قرین وہی ہے درج ء۱۹۲۴ جہاں نظر پیش کے ان جو ہوا سوم طبع لاہور) ون،ٴڻا ماڈل مطبوعہ( ایڈیشن کا سے عنوان کے تقریب نے ء)۱۹۵۰ ف( القادر عبد شیخ پر ایڈیشن اس ہے۔

ہے۔ لکھا مقدمہ لکھی تمہید ایک سے عنوان کے عربی رسول میں ابتدا نے مصنف ابواب تین کو کتاب پوری بعد کے اس ہے۔ اثر پُر و جوش پُر بڑی جو ہے ہیں۔ گئے دیے پر حاشیے عنوانات ضمنی کے باب ہر ہے۔ کیا تقسیم میں

ہے: لکھا بابت کی کتاب اس نے ندویؒ سلیمان سید بے بڑی عمری سوانح کی اسلامؐ پیغمبر نے صاحب دارا’’ حرف کے کتاب ہے۔ لکھی میںرنگکےتعصبی بے اور نفسی ہیں ڻپکتی بوندیں کی کوثر ابٓ کے محبت و عشق سے حرف و جوش کسی)( کس قلم کا والے لکھنے کہ ہے ہوتا معلوم اور شروع کو کتاب اس نے میں ہے۔ جارہا بہتا میں دریا کے خروش کو اس سے حیثیت کی کتاب رواں ایک اور پڑھا تک اخیر سے سے اس سے حیثیت کی تاریخ کتاب یہ کہ تھا ممکن ۔ کیا پسند کوئی کہ تھا ناممکن یہ لیکن ، جاسکتی لکھی پہ پایہ بلند زیاده میں رسالت دربار نذر کی عقیدت و خلوص زیاده سے اس نامسلم

۔ہے‘‘ خصوصیت بہترین کی کتاب اس اوریہی سکتا کر پیش حضرت محمدؐ اور اسلام: اس کتاب کے مصنف ڈاکڻر پنڈت سندر لال

ف( ء)۱۹۸۳ گاندھیائی فلسفہ و فکر کے علم بردار تھے۔انہوں نے اسلامی موضوعات پر متعدد کتابیں لکھیں، معروف کتاب گیتا’’ اور قرانٓ‘‘

ہے۔پروفیسر الٓ احمد سرور نے ان کے بارے میں لکھا ہے: ہیں سے میں رہنمائوں قومی ان کے ملک لال سندر پنڈت’’ ملی دولت انمول کی شعور اور دردمندی ، نظر خلوص جنہیں ، حق اور پرستی حق میں ان نے رفاقت کی جی گاندھی ۔ ہے میں ان نے مطالعے دردانہ ہم کے مذاہب مختلف کی۔ پیدا گوئی

رواداری ، اخلاق اور انسانیت کی قدریں راسخ ۔کیں‘‘ پیش( لفظ، سن ستاون، علی گڑھ، ۱۹۵۷ ء ص ۵) ایک یک نا ےس نام ےک اسلام‘‘ پیغمبر’’ پیشتر سے کتاب اس

یہ تھی۔ ہوئی شائع کر چھپ سے آباد الٰہ پریس سلیمی میں ء۱۹۳۳تقریر حافظ بہادر خان اسے تھی۔ مینکی آباد الہ پر موقع کے النبیؐ یوم تقریر چھپواکر میں تعداد کی ہزار ایک نے جلسہ صدر و سی ایل ایم لله غضنفر اور پائی ۶ قیمت کی اس کیا۔ شائع ذریعہ کے آباد الٰہ تبلیغ انجمن دفتر گڑھ علی لائبریری آزاد مولانا میں حالت ناقص کتاب تھے۔یہ ۳۳ صفحات

ہے۔ محفوظ میں وسوانی میں ء۱۹۴۲ فروری اول طبع کا اسلام‘‘ اور محمدؐ حضرت’’ پبلیشرز کے اس تھا۔ ہوا شائع کر چھپ پر صفحات ۲۲۴ سے ابٓاد الٰہ پریس لکھا تحت کے عنوان بات‘‘ ضروری’’ نے پانڈے تھے۔ پانڈے ناتھ بشمبر

ہے: مذاہب ، دھرم کے دنیا سے سال کئی جی لال سندر پنڈت’’ سے وجہوں کئی جو ہیں، رہے لکھ کتاب بڑی ایک پر کلچر اور ایک کا اس اسلام‘‘ اور محمدؐ حضرت’ ہوسکی۔ نہیں پوری ابھی کی اس اور پر کہنے کے دوستوں کچھ ہے۔ حصہ سا چھوڻا نکالا رک پچھا ےس گال ےاس ےہوئ ےدیکھت وک تضرور سمجھ بس ہک ہے یگئ رکھی نآسا بولی یک اس ۔ہے اجارہ بولی ہی ایک یہ میں لکھاوڻوں دونوں اردو، اور ناگری سکیں۔ یہاں ہمارے میں لکھاوڻوں دونوں کتاب یہ ہے۔ گئی چھاپی میں ابٓاد) الٰہ ء۱۹۴۲ فروری ؍۱۵ ناتھ، بشمبر( ۔ہے‘‘ سکتی مل سے شانتی ناشر کا جس، ہے سوم طبع نظر پیش کے الحروف راقم

لکھا ابٓاد الٰہ سائڻی سو کلچر ہندوستانی پر ورق سر لیکن، ہے ابٓاد الٰہ پریس ۱۷۶ کے سائز کتابی تھی۔یہ چھپی میں ابٓاد الٰہ پریس ہند کتاب یہ جبکہ ہے۔ کی روپے ؍۸۰۰۰ نے بمبئی سبھا پرچار ہندوستانی ہے۔ محیط کو صفحات حضرت’’ و قرانٓ‘‘ اور گیتا’’ وه کہ تھی دی کو ابٓاد الٰہ کلچر ہندوستانی امداد یونیورسڻیوں کالجوں، اسکولوں، کاپیاں ۵۵۰ کی کتاب اسلام‘‘ اور محمد ہندوستانی تحت کے عنوان اطلاع‘‘’’ کرے۔ تقسیم مفت کو اداروں ادبی اور سبھا پرچار ہندوستان نے پانڈے بشمبرناتھ سکریڻری کے سوسائڻی کلچر

)۲ ص( ہے۔ کیا ادا شکریہ لیے کے امر اس کا بمبئی صفحی کای نے مصنف ےس عنوان کے لفظ‘‘ دو’’ میں شروع

دیباچہ لکھا ہے۔اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ پیغمبر’’ اسلامؐ کی زندگی اور قرآن دونوں کو میں نے اپنے معلم ڈاکڻر مرزا ابو الفضل سے پڑھا ہے‘‘ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس کتاب کے پہلے ایڈیشن کا مسوده مولانا ابو الکلام ازٓاد ء)۱۹۵۸ف( ےن ادیکھ رتھااو امولان نحسی داحم یمدن ف( ء)۱۹۵۷ نے بھی ۱۹۴۲( میں جب وه نینی جیل میں تھے) اس کا پہلا ایڈیشن دیکھا تھا اور اس پر مفصل رائے ایک نوٹ بک کی شکل میں لکھ کر ان کو دی تھی، جس سے اس تیسرے ایڈیشن میں پوری طرح استفاده کیا

گیا ہے۔ ص( )۳ دو لفظ کے بعد مقدمہ ہے ص( ۴ تا )۱۳ مقدمہ پنڈت بشمبر ناتھ پانڈے نے لکھا ہے۔ انہوں نے حضور صلى اله عليه وسلم کے افٓاقی پیغام تحفظ’’ انسانیت‘‘ کو موضوع بناتے ہوئے اس ضمن میں دنیا کے مشاہیر کی ارٓا نقل کی ہیں اور لکھا ہے کہ مجھے’’ یقین ہے کہ دیش واسی اس کتاب سے فائده اڻھائیں گے اور اسے پڑھ کر اسلام اور اس کے پیغمبر کے بارے میں صحیح

صحیح رائے بنا سکیں ۔گے‘‘ ص( )۱۳ فہرست بہ عنوان کہاں’’ کیا‘‘ صفحہ ۱۴ پر دی گئی ہے جس، میں

۳۱ عنوانات دیے گئے ہیں، صفحہ ۱۵ سے شروع ہوکر صفحہ ۱۷۶ پر

کتاب ختم ہوگئی ہے۔ کتاب کی زبان سہل اور عام فہم ہے ۔ اسے اس طور قلم بند کیا گیا ہے

کہ ایک عام ہندی و اردو قاری بغیر کسی پڑھے لکھے شخص کا سہارا لیے مطالعہ کرسکے۔ یہ ایک مشکل کام ہے لیکن سندر لال نے اسے بحسن و خوبی انجام دیا۔ کتاب اسی زبان میں ہندی اور اردو رسم الخط میں شائع ہوئی۔ مصنف نے مغربی مورخین اور سیرت نگاروں سے جا بجا استفاده

کیا ہے اور ان کے اقوال بھی درج کیے ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ کتاب بھی

ہندو مسلم یکجہتی کے جذبے سے لکھی گئی ایک بہتر کتاب ہے۔ آخر مینتینوں کتابوں سے کسی ایک عنوان پراقتباسات درج کیے جارہے ہیں تاکہ تینوں کتابوں کے مصنّفین کے انداز تحریر اور تعبیر

واقعات کا اندازه کیا جاسکے: شردھے پرکاش دیو جی، محمدؐ صاحب کا حسب ونسب اور ایام

طفولیت کا ضمنی عنوان قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ہوئی چھائی گھڻا کیجہالت یوں پر عرب وقت جس غرض’’ اور مشہورایک کے عربصاحب محمدؐ حضرت وقت استھی

پردادا کے ہوئے۔ان پیدا میں ہاشم بنی شاخ کی قریش قبیلہ معزز اس تھا، بچایا سے دشمنوں کو مکہ اور کعبہ ہٴخان نے ہاشم کا ہاشمیوں بنی عہده کا کعبہ شریف یا مکہ شریف واسطے ہمیشہ عرب اہل کی جس ہے عہده وه یہ اور تھا حق موروثی صاحب محمدؐ وقت جس ہیں۔چنانچہ ائٓے چلے کرتے قدر سے تھا۔ کعبہ شریف عبدالمطلب دادا کا ان وقت اس تھے ہوئے پیدا وہب بنت امٓنہ میں عمر کی برس ؍۲۴ نے المطلب بن لله عبد کہ تھا ہوا نہ سبز سر مراد نخل کا امٓنہ ابھی اور کی شادی سے کا جانے ساتھ کے تجارت قافلہ ایک میں شام سفر کو لله عبد بقا راه میں مدینہ ہوکر بیمار وقت کے واپسی اور پڑا، اتفاق ہوئے روز ؍۴۵ کو فیل ہٴواقع کہ جب میں زمانے اس کی۔ اختیار حضرت کو ء ۵۷۰ اگست ؍۲۹ مطابق الاول ربیع ؍۱۲ کہ تھے

ہوئے۔ پیدا صاحب محمدؐ مسیحا نوید اور خلیل دعائے ہویدا سے امٓنہ پہلوئے ہوئے خبری خوش کی ہونے پیدا کے بچے المطلب عبد بزرگ اڻھاکر میں گود اپنی کو بچے معصوم اور ائٓے دوڑے ہی سنتے جب کیا.... ادا شکر کا خدا کرکے طواف کا کعبے اور گئے لے نے المطلب عبد موافق کے ملک دستور تو ہوا کا دن سات بچہ منایا جشن سے خوشی بڑی اور کی دعوت کی قبیلے کل اپنے عمری سوانح( ۔رکھا‘‘ محمدؐ کانام بچے سامنے کے سب اور

)۱۷،۱۶ ص اسلام اور صاحب محمدؐ حضرت عنوانات ضمنی کئی کو معلومات بالا مذکوره دارانے سنگھ گرودت کے انٓحضرتؐ امٓد اور غیب صدائے والدین، کے انٓحضرتؐ ، مکہ حکومت

ہیں: کی پیش میں عربیؐ رسول کتاب اپنی تحت ایک پر مکہ اکٓر سے باہر نے غنیم کہ ایٓا پیش واقعہ ایسا دفعہ ایک ایسی اور کیا مقابلہ وه نے ہاشم دادا پر کے انٓحضرتؐ کیا۔ دھاوا دست زبر کے کام نمایاں اس .... ہوئی فاش شکست کو دشمن کہ لڑے کر توڑ جان عہده، اور کردیا مقرر مکہ سردار کو ہاشم بزرگ نے لوگوں میں صلے

دیا۔ دے میں میراث چوبیسواں کا عمر کی لله عبد حضرت ماجد والد کے آنحضرتؐ

کہ تھا ہی ہوا مسرت آغاز ہوئی.....، نسبت سے آمنہ بی بی جب تھا، سال ڻوڻا۔ آ پہ سر کے آمنہ غم کوه قلم ہوگیا۔ایک ہی ساتھ بھی خوشی اختتام مدینہ جب پر واپسی تھے، گئے کو سفر لیے کے تجارت لله عبد بزرگ

بی بی اپٓہنچا.... اجل پیام اگٓھیرا۔ نے قضا دفعۃً ہوگئے.... بیمار تو پہنچے ہوگیا.... رخصت چمن باغبان کہ تھا ہوا نہ آور بار ابھی مراد نخل کا آمنہ کیا تو کا اس گذرا پر دل کے بی بی سے وفات کی شوہر صدمہ و رنج جو ہوگی حالت جانکاه جو کی المطلب عبد دادا کے انٓحضرتؐ مگر، ہے ڻھکانا تھا عالم کا بسی بے اور کسی بے یہ ادھر ہے..... باہر سے بیان حد تو وه کس ہے تو اور دھیان تیرا ہے کدھر ..... تھا: رہا کہہ غیب ہٴفرشت ادھر کے مکہ کو پریتم جس کھول؛ انٓکھ کی عقل اور لے کی ہوش ذرامیں؟ سوچ آکر میں الفت آغوش تیری ابھی وهہے، دکھلانی چھب اپنی میں نگر پریم کردینا اجالا اندھیرا کا عرب سے روشنی اچنبھ اپنی کو شمع جس بیڻھا؛ نہیں

تھا: پر زبان کی فرشتے اس یہ ابھی ..... ہوئی نہیں روشن ابھی وه ہے رحمت ابر قبیس بو جانب بڑھا حرکت کو حق غیرت ہوئی یکایک شہادت دیتے کی جس تھے آتے چلے ودیعت وه کی نے بطحا خاک ادا ہویدا سے امٓنہ پہلوئے ہوئے

مسیحا نوید و خلیل دعائے میں آنن آیو پہ فرش جب ، موہن من باشی کا بطحا

میں مکانن و کون تھی دھوم جو سکھی ری اے میں کہوں سے کا تب نبی سارے اور فلک ہی ساتوں ، بشر و جن ، ملایک حورو سب میں کانن یہی صدا تھی آتی ، مچی دھوم کی علیٰ صل تھی اخٓر وه نیک ساعت ا جسپہنچی، کا اشاره تھا اور وه شبُھ لگن اگٓیا جس کا وعده تھا۔۔۔۔خالق خود خاکی پیرہن پہن ایٓا۔ اوتار( کا تصور): بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش

من انداز قدت را می شناسم

بی بی امٓنہ کے ہاں پوت ہوا ، پوت وه سپوت کہ جس کی امٓد سے عرش فرش پر اس کی مہمانی ہونے لگی: رسول( عربیؐ، ص )۱۱،۱۰،۹

پنڈت سندر لال نے اپنی کتاب میں عنوان قائم کیا ہے : محمدؐ

صاحب کا جنم ۔ وه لکھتے ہیں: گنا میں شہروں پرانے سے سب کے دنیا شہر کا مکہ’’ ساتھ کے یورپ پہلے سال ہزار ایک سے صاحب ہے۔محمدؐ جاتا کے ہی عرب تجارت کی ملکوں ایشیائی دوسرے اور ہندوستان

ان مکہ سے خیال کے تجارت لیے اس تھی.... ہوتی راستے لگائو کا طرح طرح سے تجارت اس تھا۔ چڑھا بڑھا بہت دنوں پاس آس کے اس اور میں مکے لوگ سے بہت والے رکھنے اور گیا بن شہر خوشحال بڑا سے سب کا عرب مکہ ۔ گئے بس

ہوگئی۔ قائم وہاں حکومت کی طرح ایک یہ ہے۔ مندر پرانا کا کعبے سبب دوسرا کا بڑکپن کے مکہ سے پہلے سال ہزاروں کم سے کم سے صاحب محمدؐ بھی مندر تیرتھ بڑا سے سب کا لوگوں کے پاس آس کے اس اور عرب پوجا کی کعبے اور تجارت ہوئی بڑھی کی مکے تھا.... اتٓا چلا دھاک کی اس اور رتبہ کا حاکم کے مکے سبب کے دونوں ان ،

تھی۔ چڑھی بڑھی سے شروع میں عرب دنوں ان قبیلہ والا آبرو و عزت زیاده سے سب میں مکہ سے چھوڻے کے مکے ہی کاسردار قریش تھا۔ قبیلہ کا قریش کرتا بھال دیکھ کی کعبے وہی اور تھا ہوتا یاحاکم مالک کا راج صاحب محمدؐ پر نام کے جس، ہاشم پردادا کے صاحب محمدؐ تھا۔ میں زمانے اپنے تھے، کہلاتے ہاشم بنی لوگ کے خاندان کے سے نظر کی عزت اور محبت کو اس لوگ تھااور حاکم کا مکے کا ہاشم بعد کے مطلب اور مطلب بعد کے ہاشم تھے۔ دیکھتے لڑکے کئی کے المطلب عبد پربیڻھے۔ گدی المطلب عبد بیڻا عمر کی سال پچیس لله عبد لڑکا چھوڻا سے سب میں جنتھے، کے مرنے کے لله عبد مرگیا۔ اندر کے دوسال کے شادی میں ۔دیا‘‘ جنم کو صاحب محمد نے امٓنہ بیوه کی لله عبد روزبعد کچھ

)۵ ،۳۴ اسلام، اور صاحب محمدؐ حضرت( اور کش پیش ترتیب، کی کتابوں ان اقتباسات تینوں بالا مذکوره ضروری اعاده کا امر اس یہاں ہیں۔ کافی لیے کے سمجھنے کو اسلوب سکتیں۔ ہو نہیں متحمل کی جائزے علمی کسی کتابیں یہ کہ ہے ہوتا معلوم

گیا۔ سمجھا کافی لکھانا لکھنا میں انداز تعارفی پر ان لیے اس

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.