وفیات

Maarif - - نبأ -

مولانا محمد ایوب اصلاحی اشتیاق احمد ظلی

قلم صاحب اور دین عالم معروف استاد، نامور کے الاصلاح مدرسۃ گذارنے سال ۹۰ میں گل و ابٓ عالمِ اس نے صاحب اصلاحی ایوب محمد مولانا لبیک کو اجل داعی میں اسپتال سنجیونی کے دہلی دن بجے دو جون ؍۳۰ بعد کے طلحہ ابو بیڻے اپنے لیے کے علاج اور تھے علیل سے عرصہ ایک وه کہا۔ روشن ایک کا مدرسہ سے انتقال کے ان تھے۔ مقیم میں دہلی ساتھ کے اصلاحی میں یادگاروں آخری چند ان کی زریں دورِ کے اس وه پہنچا۔ کو اختتام اپنے عہد کی ان تھی۔ کردی وقف لیے کے گاه درس مادر زندگی اپنی نے جنہوں تھے یہ لیے کے جن تھا اتٓا نظر پرتو بہترین کا صفات اور اقدار افکار، ان میں ذات وه ہیں۔ رہی امتیاز نشانِ کا اس جو اور ہے رہی جاتی پہچانی اور جانی گاه درس داری، وضع شرافت، داری، دین شخصیت کی ان تھے۔ مربی اور استاد بہترین تھی۔ مجموعہ نادر ایک کا مزاجی شگفتہ اور توکل قناعت، سادگی، تواضع، ہے۔ ملتا کو دیکھنے کم السعدین قران ایسا کا نوازی دل اور وقار

نگرم می کہ کجا ہر قدم بہ تا فرق ز

جاست ایں جا کہ کشد می دل دامنِ کرشمہ

آنکھ میں گہنی کونره وںٴگا خیز مردم کے گڑھ اعظم میں ء۱۹۲۸

سے وہاں میں ء۱۹۵۱ اور لیا داخلہ میں الاصلاح مدرسۃ میں ء۱۹۴۰ کھولی۔ کو ہی گاه درس مادر نے انہوں تھا۔ ہوچکا انتقال ہی پہلے کا والدین ہوئے۔ فارغ نثار پر اس صلاحیتیں تر تمام اور زندگی پوری اپنی اور سمجھا مادر اغٓوش اتالیقی کی بچوں چھوڻے بعد کے گذارنے میں دفتر اور مکتب دن کچھ کردیں۔ سوزی دل اور سلیقہ بڑے اسے تک مدت ایک اور سنبھالی داری ذمہ مشکل کی کا ان جو ہوگئے منتقل میں تدریس شعبہ پاس آس کے ء۱۹۶۵ دیا۔ انجام سے طلبہ اور تدریس و تعلیم تھے۔ معلم ایک پر طور بنیادی وه تھا۔ کار میدانِ اصل خوب جوہر کے ان میں میدان کے سازی ذہن اور تربیت فکری اور علمی کی مربی استاد اچھا ہیں۔ رخ دو کے سکےّ ہی ایک مربی اور استاد دراصل کھلے۔ کو طلبہ وه کرسکتا۔ نہیں نظر صرف سے تربیت کی طلبہ وه اور ہے ہوتا بھی اور ہے کرتا بھی سازی ذہن اور تربیت کی ان بلکہ دیتا نہیں ہی تعلیم صرف ان لیے کے داریوں ذمہ کی مستقبل سے حیثیت کی شہری اور انسان اچھے ایک اس علم جو کہ ہوتی نہیں اتنی صرف داری ذمہ کی استاد ہے۔ کرتا بھی تیار کو

محنت، ذاتی اپنی نے اس جو دانش وعلم وه اور کیا اکتساب سے اساتذه اپنے نے کی اس بلکہ کردے منتقل تک طلبہ اپنے اسے کیا حاصل سے تحقیق اور مطالعہ پیدا شوق کا علم حصولِ اندر کے ان وه کہ ہے شامل بھی یہ میں داریوں ذمہ پر مسائل اندر کے ان کرے، بیدار جذبہ کا کرنے محنت لیے کے اس کرے، کاموں اچھے کے ان کرے، پیدا ملکہ کا فکر و غور سے نظر نقطہ معروضی اصلاح سے دانائی اور حکمت کی غلطیوں اور کرے افزائی حوصلہ کی ان پر کی کرنے تنگ کو اساتذه کو طلبہ سے ہی ابتداء میں الاصلاح مدرسۃ کرے۔ محمد مولانا ہے۔ رہی حاصل ازٓادی کی مباحثہ و بحث اور کرنے سوال حدتک اور سوال کے طلبہ جو تھا ہوتا میں اساتذه ان شمار کا صاحب اصلاحی ایوب کرتے افزائی حوصلہ کی طلبہ ایسے اور تھے ہوتے خوش سے مباحثہ و بحث سمجھ بات کوئی اگر اور تھے کرتے غور پر مسائل سے ذہن کھلے جو تھے سے کرنے سوال تو ہو نہ اتفاق انہیں سے اس ہے رہا بتا جو استاد یا ائٓے نہ میں غور تو ہے ہوتا داخل میں عمل میدانِ بعد کے تعلیم علم طالب جب گھبرائے۔ نہ

ہے۔ آتی کام کے اس صلاحیت یہی کی فکر و مضامین جو تھے۔ استاد مثالی ایک صاحب اصلاحی ایوب محمد مولانا وسیع نہایت مطالعہ تھی۔ مضبوط بہت گرفت کی ان پر ان تھے پڑھاتے وه بھی سرہانے کے ان بھی میں بیماری رہا۔ جاری تک اخٓر مشغلہ کا بینی کتب اور تھا سلسلہ کا مطالعہ تو ہوتی بہتر قدر کسی طبیعت بھی جب اور رہتا ڈھیر کا کتابوں انداز موثر بات اپنی سے وجہ کی رس دست گہری پر بیان و زبان ہوجاتا۔ شروع اور الحکیم آصف امثال تھے۔ قادر طرح پوری پر کرنے منتقل تک طلبہ میں کے مدرسہ پر جن ساتھ ساتھ کے داری پاس کی امور ان تو پڑھاتے دمنہ و کلیلہ کہ پڑھاتے طرح اس کو حکایت درس زیر ہے، استوار اساس کی تدریس منہاجِ سی تصویر کی مناظر والے جانے کیے بیان میں قصوں ان سامنے کے انٓکھوں گذشتہ کرتے۔ اہتمام بہت سے طور خاص میں درس کے مجید قرانٓ جاتی۔ کھنچ تدبر پر قرانٓ میں دماغ و دل کے طلبہ نے اساتذه جن میں عرصہ کے سال پچاس کے فراہیؒ حمیدالدین مولانا جو ہے کی آبیاری کی تصور اور منہاج اس کے ہے۔ سرِفہرست نامی نام کا مولانا میں ان ہے مستفاد و ماخوذ فکرسے انقلابی میں سلسلہ اس انہیں پڑھایا۔ مجید قرانٓ کو طلبہ تک مدت طویل ایک نے انہوں بھی رہنمائی کی اساتذه نئے سے شوق و ذوق اور دلچسپی بڑی وه تھا۔ اہتمام بڑا

جائے۔ دیا انجام پر طور بہتر طرح کس کام یہ کہ کرتے اور کو اس نے مطالعہ کثرت تھا۔ ذوق اچھا بہت کا ادب و زبان اردو حصہ ایک کا شبلی دبستان سے ہی شروع الاصلاح مدرسۃ تھا۔ کردیا صیقل بھی ملتی جِلا سے فراہی فکر جہاں کو نظر و فکر کے فارغین کے یہاں ہے۔ رہا رہا منت مرہون کا شبلی دبستان ذوق کا ادب و زبان اندر کے ان وہیں ہے رہی

کوئی اگر تھے۔ بولتے اور لکھتے زبان فصیح اور پاکیزه شستہ، بڑی مولانا ہے۔ میں کمیت سرمایہ تحریری کا ان کرتے۔ تنبیہ تو بولتا یا لکھتا زبان معیاری غیر ادبی اور علمی کی ان ہے۔ خوب بہت ہے جو لیکن ہے نہیں تو زیاده بہت ابھی ہے۔ ہوچکا مقبول ہوکر شائع سے نام کے قلم‘‘ متاع’’ مجموعہ کا نگارشات پر صفحات ۴۶۲ مجموعہ یہ ہے۔ آیا پر عام منظر ایڈیشن دوسرا کا اس ہی جلد ماہنامہ تحریریں ابتدائی کی ان ہے۔ معیاری اشاعت کی اس اور ہے مشتمل نکلتا میں ادارت کی سبحانی شبنم سیدعبدالباری جو ہوئیں شائع میں ڻانڈه دوام‘‘’’ تحقیقی اور علمی کئی والے ہونے شائع میں جرائد معیاری کے عربی تھا۔ ہوئے۔ شائع میں معارف‘‘’’ ترجمے سلیس اور رواں عمده، کے مضامین کی سرپرست کے طلبہ انجمن تو ہوا شروع مجلہ سالانہ کا طلبہ سے ء۱۹۸۸ کی مجلہ اس تحریریں کی ان سے عنوان کے گفتنی‘‘ سخنہائے’’ سے حیثیت دل اور خوبصورت نہایت بعض نے انہوں تحت کے عنوان اس رہیں۔ بنتی زینت ماہی سہ سے مدرسہ میں ء۲۰۰۰ کیں۔ قلم سپرد تحریریں والی لینے چھو کو سے ت حیثی یک مدیر کے س ا وت یہوئ عشرو ت اشاع کی القرآن‘‘ نظام’’ رہا۔ چلتا تک ریڻائرمنٹ کے ان میں ء۲۰۱۱ سلسلہ یہ رہے۔ لکھتے شذرات‘‘’’ ان لیکن رہا چھپتا نام کا ان تک اخٓر پر سرِورق کے رسالہ مدیر بحیثیت اگرچہ اس الاصلاح، مدرسۃ شذرات یہ سکا۔ ره نہ قائم سلسلہ کا شذرات‘‘’’ سے قلم کے اور ملی اہم کے وقت اور اساس فکری کی اس تاریخ، کی اس امتیازات، کے ہیں خطبات کئی ہیں۔ مشتمل پر تحریروں کی درجہ اعلیٰ نہایت پر مسائل ملکی پیش پر طور کے خطبہ صدارتی یا خطبہ کلیدی کے مجالس علمی مختلف جو چھپے اندر کے ان لیکن ہیں کم گو تخلیقات منظوم ہیں۔ وفیات چند گئے۔ کیے تو ہوتی دی توجہ طرف اس نے انہوں اگر ہیں۔ کھاتی چغلی کی شاعر ہوئے ادبی صرف نہ نگارشات یہ شامل میں مجموعہ قیمتی اس ہوتے۔ شاعر اچھے اور ہے بلند بھی سطح فکری کی ان بلکہ ہیں حامل کی اہمیت بڑی سے حیثیت میں ان ہے۔ ہوتا اندازه کا نظر گہری پر مسائل اور مطالعہ وسیع کے ان سے ان

ہیں۔ متعلق سے مجید قرآن تر زیاده جو ہیں شامل بھی مسائل علمی خالص پر عرصہ طویل کے سال ستر تعلق عملی کا ان سے الاصلاح مدرسۃ

اس کو صلاحیتوں جملہ اپنی اور ہوئے وابستہ سے اس میں ء۱۹۴۰ ہے۔ محیط کے جانے کیے دوش سبک سے اس میں ء۲۰۱۱ کردیا۔ صرف میں خدمت کی اس تو ہے معاملہ کا تعلق قلبی تک جہاں پہنچا۔ کو اختتام اپنے سلسلہ یہ ہی بعد مراحل سخت کے بیماری رہی۔ قائم تک اخٓر سرخوشی اور جوشی گرم وہی میں میں انٓکھوں تو اجٓاتا کوئی سے وہاں یا اجٓاتا ذکر کا گاه درس مادر اگر بھی میں جس جائے۔ دی مثال کہ ایسی عادات و اخلاق اڻھتا۔ کھل چہره اور اجٓاتی چمک ہوجائے۔ معطر جان مشام سے خوشبو کی گفتار اور جائینکردار بیڻھ میں محفل اور ناسازگاری کی حالات تک مدت ایک گذرے۔ سے دونوں یسر اور عسر

زبان ہو رہی گذرتی بھی جو پر دنیا کی میندل دور اس رہے۔ ازٓما نبرد سے شدت نہیں بھنک کی اس بھی کو لوگوں ترین قریب اور ایٓا نہیں کبھی شکایت حرفِ پر دیکھی نہ بھی نے خانہ اہل کے ان شاید کبھی تو شکن پر چہرے پائی۔ لگنے پر اس کہ کی حفاظت ایسی کی نفس عزت اپنی میں حالات سخت ان ہوگی۔ سے جبینی کشاده جتنی کا والوں آنے بھی میں حالات ان جائے۔ کیا رشک وه کرتے ادا سے شوق و ذوق جس آداب کے نوازی مہمان اور کرتے استقبال اظہار کا مسرت اور طمانیت سے بشرے چہرے تھی۔ رکھتی تعلق سے دیکھنے رہتی چاشنی ایسی کی اخلاص میں اس بناتے، سے ہاتھ اپنے ہمیشہ چائے ہوتا۔ اور کہیں ہی شاید لذت ایسی تھا۔ سکتا ره نہیں بغیر کیے محسوس والا پینے کہ کے ان مہمان کے رہےمدرسہ حیات صاحب احسن اختر مولانا تک جب ہو۔ ملی ذمہ یہ بعد کے ان کرتے۔ وہی تواضع کی ان سے چائے اور تھے ہوتے مہمان کی گھر طرح اس سنبھالی۔ نے صاحب اصلاحی ایوب محمد مولانا مدتوں داری

رہی۔ میں ہی گھر بات کے زندگی رہیں۔ حساب بے اوپر کے ان بھی نوازشیں کی تعالیٰ لله

اسی میں بعد رہے تھامے سے مضبوطی جس دامن کا صبر میں مرحلہ پہلے ان میں مرحلوں ہی دونوں ان کو ادٓمی عام ایک رہے۔ سپاس وشکر سراپا طرح فراہی تلمیذِ اہلیہ ایٓا۔ نہیں نظر فرق سا معمولی کوئی میں اطوار و انداز کے صالح لائق، چار نے تعالیٰ لله تھیں، صاحبزادی کی صاحب احسن اختر مولانا ڈاکڻر اصلاحی، اجمل محمد ڈاکڻر کیے۔ عطا بیڻی ایک اور بیڻے نثار جاں اور اختر۔ نیره بیڻی اور اصلاحی ہریره ابو اصلاحی، طلحہ ابو اصلاحی، محمدراشد قارئین کے معارف اور ہیں قلم اہل اور محقق معروف اصلاحی اجمل محمد ڈاکڻر احفاد اور اولاد کی ان دوران کے بیماری طویل کی ان ہیں۔ واقف سے ان کا داری تیمار اور خدمت نے خانہ اہل کے ان اور اصلاحی ابوطلحہ بالخصوص سے مرحلے سخت اس سے استقامت اور صبر جس مولانا خود کردیا۔ ادا حق تکلیف سخت دوران کے بیماری طویل گی۔ ملے ہی کم بھی مثال کی اس گذرے ایٓا۔ نہ پر زبان شکایت حرف کوئی شکوه، کوئی کبھی لیکن گذرے سے اذیت اور نیم ہوا۔ نہیں مظاہره معمولی سے معمولی کا جھنجھلاہٹ اور صبری بے کبھی نامناسب کوئی کبھی پڑا، واسطہ بار بار سے جس بھی میں عالم کے ہوشی بے اس اور کا ریاضت کی بھر زندگی تھا ثمره یہ نکلا۔ نہیں سے زبان لفظ ناملائم یا

ہے۔ سے طرف کی لله کچھ سب کہ کا یقین طرف کی ان ہے۔ سانحہ بڑا ایک یہ پر طور ذاتی لیے کے حروف راقم صدی نصف تعلق یہ کا عقیدتو محبتسے طرفاسِاور شفقت و عنایت سے لہ اغفر اللہم گے۔ ملیں کہاں اب لوگ ایسے ہے۔ محیط پر عرصہ زیاده سے

جناتک۔ فسیح وادخلہ وارحمہ

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.