�ا���وى�ن�ق��� ���ىا آن: �ر

د�جو��) (��رو���د�ى مولانا محمد فرمان ندوی

Maarif - - NEWS -

علامہ سید سلیمان ندویؒ کی قرآن فہمی کا صحیح اور بین ثبوت

وہ حواشی ہیں، جو انہوں نے دوران تلاوت قرآن کے اپنے ذاتی نسخہ پر رقم فرمائے ہیں۔ یہ حواشی اپنی ایجاز بیانی اور اثر آفرینی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان تفسیری شذرات کی متعدد قسمیں ہیں، کچھ سورتوں کے عمود سے تعلق رکھتی ہیں اور کچھ استنباط نتائج سے متعلق ہیں اور کچھ توضیحی نوٹس کی قبیل سے ہیں۔ ذیل کے صفحات میں چند حواشی کو قدیم و جدید تفسیری مراجع کے تقابلی مطالعہ کی روشنی میں پیش کیا ا�جار ے،� تاکہ علامہ مرحوم کی علمی عبقریت کی ایک اور تصویر نگاہوں کے سامنے آئے اور یہ بات واضح ہو کہ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے آیات قرآنی کی تفسیر میں سلف کے اصول تفسیر کی پیروی کی ے� اور نکتہ سنجی کے ذریعہ آیات کی مراد کو سمجھانے کا اسلوب اختیار کیا ے۔� مقاطع آیات: آیتوں کے اخیر میں جو جامع کلمات ذکر ے�ک جاتے ہیں

ان کا سابق سے گہرا ربط ہوتا ے۔� علامہ سید سلیمان ندویؒ نے ان مقاطع کی دلنشیں تفسیر کی ے:�

ُ ْ َ ْ َ َ َّ

قاًِّصدَ

لنزَعلیََْ حقَِّم

۔۱ آل عمران کی ایک آیت ے:� ک کالِ تبٰباِل

لمِّاَبنَدََیی نََالْزالتََّ ْ َ ً ُ ْ َ َ َ ْ لِّلنَّاس واَنَْزَ لرقَاالْفُن

ِنْجِیْواْلال ن قَبْل دیھُ

َ َ ْ َ ْ

ی ہِو ۃورٰ مِ

نا نْیذال کفرَ لھَمُ ذَعَاب ٌدْیدش وَاللہ عزْیزَ وذ قتْاناَم ۔

ُ ٌ ِ ُ ٌ َ ْ ُ َ َ َّ َّ

وْا باِیتِٰاللہِ ِ ِ ِ ٍ

ِ ِ

و َاللہ ع یزْزَ وذ قتْان اَ ۔

ُ ٌ ُ

اسکامقطعے:� ِ ِ ٍم --------------------------------------------------------------------------------

منہ انتقم یقال: العقوبۃ، الانتقام یغلب، لا الذي الغالب والعزیز نقمت حتی عنہ أرض لم یقال اللیث: وقال عاقبہ، أي انتقاماً إلی إشارۃ والعزیز صنعہ، بما عقوبۃً کافأہ إذا وانتقمت، منہ، فاعلاً کونہ إلی إشارۃ الانتقام ذو و العقاب، علی التامۃ القدرۃ أعلم واللہ الفعل صفۃ والثاني الذات، صفۃ فالأول للعقاب،

)۱( ۔ ہیں، کے سزا معنی کے انتقام ہو، نہ مغلوب جو غالب ایسا کہتے لیث اور دیا، سزا یعنی انتقاماً منہ انتقم ے:� جاتا کہا تک جب ہوا، نہیں خوش تک وقت اس سے اس میں ہیں: عزیز اور دینا سزا مماثل انتقام اور لیا لے نہیں انتقام نے میں معنی کے ذوالانتقام ے،� قدرت مکمل پر دینے سزا معنی کے دوسری اور ے� ذات صفت صفت پہلی والا، دینے سزا مکمل

عارضی۔ صفت

ابو حیان اندلسی لکھتے ہیں:

منتصر أو یغلب، لا غالب أو ممتنع أي انتقام ذو عزیز واللہ صفات من ھي التي التامۃ القدرۃ إلی بالعزۃ وأشار عقوبۃ، ذو من وھي للعقاب، فاعلاً کونہ إلی انتقام بذي وأشار الذات، )۲( ۔ الفعل صفات اور قوی معنی کے اس ے،� والا دینے سزا اور زبردست اللہ ذو ے،� والا دینے سزا اور یاب فتح ے،� والا غلبہ زبردست صفت عارضی یہ اور والا دینے سزا وہ کہ ے� اشارہ سے انتقام ے۔�

علامہ آلوسی تحریر فرماتے ہیں:

یرید، ما ویحکم یشاء ما یفعل آمرہ، علی غالب أي عزیز واللہ والتنوین والتسلط، السطوۃ وھي النقمۃ من افتعال انتقام ذو لأنہ اختصارہ مع منتقم علی الترکیب ھذا واختار للتفخیم، لا القتل یکثر لمن إلا سیف صاحب یقال لا إذ منہ، أبلغ للوعید مقرر تذییلي اعتراض والجملۃ مطلقا، السیف معہ لمن

)۳( ۔ لہ مؤکد ے� کرتا ے� چاہتا جو ہیں، کے غالب معنی کے عزیز واللہ کے افتعال انتقام ذو اور ے� فرماتا فیصلہ ے� چاہتا جو اور تنوین ہیں، کے تسلط اور غلبہ کےمعنی جس ے،� پر وزن

کے ساتھ آنا اس کی فخامت کو بیان ا�کرر ے،� منتقم کا صیغہ استعمال نہ کرکے ذو انتقام کا کلمہ استعمال کرنا صرف اس ے�ل ے� کہ یہ ترکیب زیادہ موثر ے،� کیونکہ صاحب السیف کی ترکیب اسی کے ے�ل استعمال کی جائے گی جو کثرت سے قتل و خون کرتا ہو، نہ کہ جس کے پاس صرف تلوار ہو، جملہ ذیلی طور پر معترضہ کی شکل میں آیا ے،� وعید

کی تاکید در تاکید ے۔� علامہ ابن کثیر دمشقی اس حصہ کی تفسیر میں رقم طراز ہیں: واللہ عزیز: منیع الجناب عظیم السلطان، ذو انتقام أي ممن کذب بآیاتہ وخالف رسلہ الکرام وأنبیاءہ العظام ۔ (�( قوی ے�در والا اور غلبہ والا ے،� ذو انتقام کے معنی اس سے انتقام لینے والا ے،� جو اس کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں، اس کے معزز رسولوں اور جلیل القدر نبیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ علامہ شوکانی تحریر فرماتے ہیں: واللہ عزیز لا یغالبہ مغالب، ذو انتقام عظیم ۔ )۵( ایسا ے�غل والا جس کو کوئی شکست نہ دے سکے اور بڑا انتقام لینے والا ے۔� امام زمخشری لکھتے ہیں: ذو انتقام: لہ انتقام شدید لا یقدر علی مثلہ منتقم ۔ ۶() ایسا انتقام لینے والا جس طرح انتقام لینے پر کوئی دوسرا قادر نہیں۔ ان مفسرین کے اقوال کے اجمالی تذکرہ کے بعد سید صاحبؒ کا

حاشیہ برلفظ انتقام‘‘ سے مذکورہ مقطع آیت کی پوری وضاحت ہوتی ے:� أخذ الحق من الظالم للمظلوم مظلوم( کے حق کو ظالم سے لینا ہی انتقام ۔ے)� اس مفہوم سے یہ بات معلوم ہوتی ے� کہ اگر انسان مامورات کو ادا نہیں کرتا تو ظالم کہلائے گا اور احکام الٰہی کی حیثیت حق مغصوب کی ہوگی، اللہ رب العزت ایسے منصف اور عدل پرور ہیں کہ وہ ناحق سزا نہیں دیتے ہیں، بلکہ انسان کو اس کے برے اعمال کی وجہ سے ابتلائی مراحل سے گذارتے ہیں، تاکہ وہ تائب ہوکر صحیح راستہ کی طرف آئے، دیگر مفسرین کے تشریحی افادات سے یہ بات مترشح ے� کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ سخت گیر ہیں لیکن سید صاحب نے انتقام کی جو توضیح کی ے� اس سے عدل

و مساوات کی صحیح شکل سامنے آتی ے۔�

ربیٰ الْقُْ یذب َّ و ناًاَ سْحا ندیْ َّ شَیْئًا ب ْاکوُرِْ

َ َ َ ُ

ِ ِ وبِالْ

ِ ِ والِ ہِ شُت لاََو

اللہ وا دُبْ َاعو

نَْاب و بْنَباِلجْ والصَّاحِ

َ ب الْجُنُ ر والْجَاَ ربیٰ الْقُْ ذی ر والْجَاَ ن والْمَسکِٰیْ والْیَتمٰیٰ

َ َ ِ بِ ً ِ ِ ِ ِ ِ

)۳۶ :۴ النساء( ۔ راَو فَخُْ لا تْاَ خَُم ن ْکاَ نَم ُّ بحَُیَلا ِ اللہ ن ْا کمُُاَن مْایَ تکملَاَ مَ ْلالسَّبِی َّ ْ َ َ

ِ ِو الخیلاء ذو والمختال ہیں: لکھتے میں تفسیر کی آیت اس رازی امام

الذي نفسہ في العظیم بالمختال المراد عباس: ابن قال والا)، تکبر( والکبر ایسا معنی کے مختال ے:� قول کا عباسؓ ابن حضرت( أحد بحقوق یقوم لا ذکر وإنما الزجاج: قال ۔کرے) ادا نہ حقوق کے دوسروں جو پسند خود إذا جیرانہ ومن فقراء، کانوا إذا أقاربہ من یأنف المختال لأن ھھنا، الاختیال یہاں تذکرہ کا اختیال ے:� کہنا کا زجاج( عشرتھم یحسن فلا ضعفاء کانوا کمزور پڑوسی اور فقیر دار رشتہ کے اس اگر متکبر کہ ے�ل اس ے:� گیا کیا ومعنی کرتا) نہیں معاملہ اچھا ساتھ کے ان ے،� کرتا ناپسند کو ان تو ہیں بڑائی معنی کے فخر( وتطاولا کبرا مناقبہ یعدد الذي والفخور التطاول: الفخر: تذکرہ کا فضائل و مناقب اپنے جو ے� شخص وہ فخور اور ہیں کے اظہار کے )۷( ۔کرے) تفسیر و تائید کی تشریح بالا مذکورہ قول کا توحیدی حیان ابو یخول المتکبر خال ویقال: اختال، من فاعل اسم وہو المتکبر المختال ے:� المناقب عد والفخر ، فخر من فعول والفخور: بنفسہ، أعجب و تکبر إذا خولا طرف اپنی فخور اور پسند خود مختال یعنی( ۔ والتطاول الشغوف سبیل علی )۸( ۔والا) کرنے اظہار کا خوبیوں ے�ل کے کرنے مائل ہیں: لکھتے وہ ے،� کی تشریح مماثل کے اسی بھی نے کثیر ابن

فہو منہم خیر أنہ یری الناس، علی فخورا متکبرا، معجبا نفسہ: في مختالا

ّ

ما دیع یعني فخورا بغیض، الناس وعند حقیر، اللہ عند وہو کبیر، نفسہ في )۹( ۔ جل و عز اللہ یشکر لا وہو أعطي الإحسان یتبعہ والتلقي بالعبادۃ اللہ إفراد ے:� لکھا نے قطبؒ سید تعالیٰ اللہ( ۔ والفخر الاختیال یصاحبہ الآخر وبالیوم باللّٰہ

والکفر البشر، إلی پیدا مزاج کا کرنے سلوک حسن ساتھ کے انسانوں کرنا تسلیم کو عبودیت کی ہوتا خیمہ پیش کا غرور و کبر انکار کا آخرت اور اللہ کہ جب ے،� کرتا )۱۰( ۔ے)� کوئی اور ے� کی تشریح کی الفاظ صرف بھی نے طبری امام

ے۔� نکالا نہیں نتیجہ

اب علامہ سید سلیمان ندویؒ کا یہ حاشیہ �پڑھے: الفخروالاختیال ہوالذي یمنع عن الإحسان ۔ غرور و تکبر احسان شناسی میں مانع ہوتا ے۔� سورۂ نساء کی اس آیت میں حقوق العباد کی مکمل فہرست ے۔�

ان میں سب سے پہلے اللہ کی عبادت اور اس کے سامنے سر بہ سجود ہونا ے� اور شرک و کفر سے بالکلیہ اجتناب کرنا ے،� اس کے بعد والدین، پڑوسیوں وغیرہ کے حقوق کی ادائی کا حکم ے۔� علامہ سید سلیمان ندویؒ نے اپنے حاشیہ کے ذریعہ امام رازیؒ کی اول الذکر رائے کی دوسرے قالب میں ایسی وضاحت کی کہ مفہوم فہم سے قریب ہوگیا، مزید یہ نکتہ معلوم ہوا کہ ے� جا فخر اور تکبر سے احسان شناسی کی دولت چھن جاتی ے،� انسان خودپسند ہوجاتا ے۔� چنانچہ وہ صرف لوگوں ہی کے حقوق کا انکار نہیں

کرتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بھی سرتابی کرتا ے۔� ِّ ُ ُ ویََُ ُ َ ْ لایُحَِّ ُّ اَثِیْ ۔۳ یَمْحَق ہالل ربوٰاال ربِی الصَّتِٰدق ہواللَ ب کُل کَفَّارٍ ۔ مٍ البقرہ:( )۲۷۶ علامہ سید سلیمان ندویؒ اس مقطع سے یہ اصول مستنبط فرماتے ہیں: أخذ الربا کفر النعمۃ أی کفر نعمۃ ربہم سود( خوری رب کی نعمتوں

کی ناشکری سے عبارت ۔ے)� ربا کیوں کفران نعمت ے؟� اس کا جواب ے� کہ مال اللہ کی امانت ے،� اس کا صحیح استعمال اللہ کی دایت� کے مطابق شکر ے� اور اس کے خلاف عمل کفران نعمت ے۔� یہیں سے یہ اصول بھی معلوم ہوگیا کہ شکر سے مال میں اضافہ ہوتا ے� اور ناشکری سے مال میں

کمی آتی ے۔� اور ایسا شخص اللہ کی نگاہ میں مبغوض ہوجاتا ے۔� اس تشریح اور نکتہ آفرینی کو بغور پڑھنے کے بعد تشریحات ذیل

کو بھی ے�دیکھ تو معلوم ہوگا کہ علامہ سید سلیمان ندویؒ نے آیتوں سے کیسا زبردست استنباط کیا ے۔� ابن کثیر کا قول ے:� لا یحب کفور القلب أثیم القول والفعل۔ ۱۱() یعنی اللہ تعالی دل سے ناشکرے اور قول و عمل کے گنہگار کو پسند نہیں کرتا۔

صاحب التفسیر المحیط لکھتے ہیں: واللہ لا یحب کل کفار أثیم:

فیہ تغلیظ أمر الربا و إیذان أنہ من فعل الکفار لا من فعل ل�أ الإسلام۔ )۱۲(

اس میں ربا کی حرمت اور اس کو کافروں کا عمل بتایا گیا۔ التفسیر الکبیر میں مذکور ے:� واللہ لا یحب ..... فاعلم أن الکفار فعال من الکفر، ومعناہ من کان ذلک منہ عادۃ، والأثیم فعیل بمعنی فاعل، وہو الأثیم وہو أیضا مبالغۃ في الاستمرار علی اکتساب الآثام والتمادي فیہ۔

)۱۳( یہ کافروں کا عمل ے،� اثیم کے معنی گناہ کا عادی۔ امام طبری نے سابق مفسرین کی طرح تشریح کی ے،� وہ لکھتے

ہیں: قال أبو جعفر: وأما قولہ: ’’واللہ لا یحب کل کفار أثیم‘‘ فإنہ یعني بہ: واللہ لا یحب کل مصر علی کفر ربہ مقیم علیہ، یعنی( اللہ کسی ناشکرے کو پسند نہیں کرتا، أثیم)، متماد في الإثم فیما نہاہ عنہ من أکل الربا والحرام وغیر ذلک من عاصیہ گناہ( میں ڈوبا ہوا، منہیات میں لت پت) ۔ )۱۴( سید قطب اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: وھذا التعقیب ہنا قاطع في اعتبار من یصرون علی التعامل الربوي بعد تحریمہ من الکفار الأثمین، الذین لا یحبہم اللہ۔ یہ( مقطع حکم قطعی ے� ان لوگوں کے سلسلہ میں جو سودی کاروبار کو پوری جرأت کے ساتھ بڑھاوا دیتے ہیں، یہ ایسے گنہگار

اور نافرمان ہیں جو اللہ کی نگاہ میں مبغوض ۔ہیں) )۱۵( امام نسفیؒ فرماتے ہیں: واللہ لا یحب کل کفار .... عظیم الکفر

باستحلال الربا، ’’أثیم‘‘ متماد في الإثم بأکلہ۔ ربا( کو جائز سمجھنا بڑی

ناشکری اور اس کو استعمال میں لانا بڑا ۔گناہ) )۱۶( امام بغوی کا قول ے:� واللہ لا یحب کل کفار ...) بتحریم الربا، أثیم)(

فاجر بأکلہ۔ اللہ( کسی ناشکرے کو پسند نہیں کرتا، کیونکہ اس نے ربا کی حرمت کو حلت سے تبدیل کردیا اور وہ اس کو استعمال کرکے گنہگار ا�ہور

۔ے)� )۱۷( عمود سورت: ر� سورت کا مرکزی مضمون ہوتا ے،� جس سے اس سورت

کے مشمولات کی وضاحت ہوتی ے۔� علامہ سید سلیمان ندوی کی قرآن فہمی

کا ایک منظر یہ بھی ے۔� سورۂ رعد کا عمود بھی علامہ سید سلیمان ندویؒ کے نزدیک دو

لفظی ے،� یہاں بھی علامہ نے جمہور کے مسلک کو اختیار کرتے ہوئے ایسی

مناسب اور درست بات کہی ے� جو لائق تحسین ے۔�

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.