� ر�ا

ڈاکٹر عارف نوشاہی ترجمہ: ڈاکٹر عصمت درانی *

Maarif - - News -

’’کتب خانۂ مستقبل‘‘ ناروے کے دارالحکومت اوسلو کے نورڈماکہ کے جنگلات میں

سفیدے کے زاروں� درخت اگائے ے�جار ہیں جو آیندہ ۹۶ برسوں بعد ۲۱۱۴ میں کاٹے جائیں گے اور ان کو گودے کے مختلف مراحل سے گذار کر کاغذ بنایا جائے گا۔ پھر یہ کاغذات اسکاٹش آرٹسٹ کیٹی پیٹرسن کی فیوچر لائبریری یعنی کتب خانۂ مستقبل کو ان سو مصنّفین کی کتابوں کی اشاعت و طباعت کے ے�ل مہیا کیا جائے گا جن کی کتابیں ء۲۱۱۴ سے پہلے پڑھی نہیں جاسکتیں۔ یہ کتابیں اسکاٹ لینڈ کی کیٹی پیٹرسن جمع کررہی ہیں۔ فیوچر لائبریری کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی منتخب کردہ سو کتابوں میں ر� سال ایک کتاب شائع کی جائے گی۔ گویا یہ کتب خانۂ مستقبل عصر حاضر کے محافظین ادب کی طرف سے مستقبل کے قاریوں کے ے�ل ایک تحفہ ہوگا۔ بہت سے مشہور ناول نگاروں کی طرح ترکی کی مشہور ناول نگار الف شفق نے بھی اپنی چوتھی کتاب کا مسودہ جنگل میں منعقد ایک تقریب میں لائبریری کے حوالہ کیا ے۔� مسودہ ایک خوبصورت ڈبّے میں مہربند تھا۔ مسودہ لیتے وقت ٹرسٹ کے چیرمین ہونڈ نے شفق کو تنبیہ کی کہ اس کے بارے میں کسی سے بات نہ کی جائے۔ صرف کتاب کا نام بتانے کی اجازت ے۔� چنانچہ شفق نے حاضرین کو اس کا ٹائٹل ’’دی لاسٹ ٹیبو‘‘ بتایا۔ ء۲۰۲۰ میں یہ مسودے اوسلو میں زیر تعمیر نیو ڈیچ مینسکے لائبریری میں رکھے جائیں گے۔ اس کمرے میں ایک سے دو فرد کو جانے کی اجازت ہوگی، جہاں شیشے کے شو کیس میں بند ان مسودوں کی جھلک دیکھی جاسکے گی جو منتظر اشاعت ہیں۔ واضح ہو کہ فیوچر لائبریری ء۲۰۱۴ میں اوسلو کی شہری حکومت کی جانب سے قائم کی گئی ے۔�

انقلاب،( وارانسی، ؍۱۲ نومبر ،۲۰۱۸ ص )۱۱ ’’زمین پر ؍۴ ارب سال پہلے زندگی موجود تھی ‘‘ سائنسی تحقیقی جریدہ ’’نیچر‘‘ میں شائع تازہ ترین تحقیق کے مطابق رین�ما کو کناڈا میں خلیج ڈسن� کے علاقہ میں ایک سمندری معدنی چٹان سے ایسی مائیکرو اسکوپک ٹیوبیں اور حیاتی اجزا کی باقیات ملی ہیں جو اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ زمین پر کم از کم ؍۳ ارب ۷۷ کروڑ برس قبل

بیکٹیریا دراصل مائیکروفوسلز یہ مطابق کے رپورٹ تھی۔ موجود زندگی بھی ہیںجو باقیات قدیم انتہائی ایک کی مائیکروبیس خلیاتی ایک کے طرح کی ہیں کرچکے اختیار شکل معدنی اب میں نتیجہ کے جانے گذر سال اربوں سائنس ہیں۔ جاتی پائی میں تہ کی سمندر میں شکل چٹانی نامیاتی اب اور تھے ملے نہیں د�شوا ٹھوس ایسے پرانے سال اربوں قبل سے اس کو دانوں موجود وقت کس زندگی پر زمین بھی میں حالت ترین قدیم سے قدیم اپنی جو کی بیکٹیریا ایسے فوسلز مائیکرو پرانے سال بلین ۳ء ۷۷ دیں۔ پتہ کا اس تھی، مختلف کے ے�لو میں خطوں تھرمل ائیڈرو� میں تہ کی سمندر جو بنے سے وجہ انسانی عام ایک موٹائی کی ان تھے۔ رہتے زندہ ہوئے کرتے گذارہ پر ایٹموں ہوسکتے پرانے تک سال ارب ۴ ء ۳ یہ مطابق کے محققین ے۔� کم بھی سے بال ۳ ء ۴۶ وہ تھے ملے د�شوا جو کے فوسلز مائیکرو ترین قدیم تک اب ہیں۔

)۳۲ ص ء،۲۰۱۸ اکتوبر حیدرآباد، ٹائمز، احمد( تھے۔ پرانے سال بلین ’’ہوم اسسٹنس کی زبان فہمی میں وسعت‘‘ اب پر منصوبہ کے پھیلانے میں بھر دنیا کو ڈیوائسز ہوم اسمارٹ

پر طور کے معاون کے گھر آلات برقی یہ ے۔� کردیا تیز کام نے کمپنی ایمزون مقبول بہت میں وغیرہ جاپان جرمنی، فرانس، اسپین، اٹلی، ممالک یافتہ ترقی کے انتخاب کے مضامین اور خبروں آلات یہ والے کرنے کام سے آواز ہیں۔ ہیں کرتے معاونت میں پکانے کھانا سے مدد کی تراکیب کی پکانے کھانا ساتھ عام ہیں۔ ے�جار ے�ل اتھ� اتھوں� اور بنتے ضرورت کی گھر گھر یہ اب اور ایمزون ے۔� موجود میں ان صلاحیت کی کرنے تبدیل میں گھر خاص کو گھر شروع سلسلہ کا کرنے فروخت کو آلات اپنے میں اسپین اور اٹلی تک اب نے طے ابھی مرحلہ کا مطابقت ساتھ کے زبانوں کی ممالک ان اور تھا کیا نہیں تجارتی کا اس بعد کے ہونے متعارف میں ممالک مذکورہ ان اب مگر تھا نہیں زبانوں جاپانی اور جرمن اٹالین، ہسپانوی، انگریزی، ے۔� ہوگیا وسیع مزید دائرہ بخوبی داری ذمہ اپنی پر طور کے اسسٹنٹ ہوم آلات یہ کرکے وصول دایات� میں والے کرنے استعمال اور سیکھنے زبانیں زیادہ سے سب وقت اس ہیں۔ ے�ر نبھا تقریباً میں جن ے� آیا سامنے نام کا سری ایپل میں تیاری کی اسسٹنس ہوم سال کہ ے� ارادہ کا کمپنی گوگل ے۔� موجود صلاحیت کی زبانیںسمجھنے ۲۰ چین گی۔ لائے میں رس دست کی آلہ اس کو زبانوں تیس وہ تک آخر کے اخبار( ہیں۔ سمجھتے کو زبان چینی صرف آلات زیامی اور بیڈو وقت اس میں

)۹ ص ء،۲۰۱۸ نومبر ؍۱۱ گلدستہ، میگزین سنڈے مشرق،

’’خلائی مخلوق کا انتباہ‘‘ امریکی ریاست نیو میکسیکو کے ایک تحقیقی مرکز ’’نیشنل سولر آبزرویٹری‘‘ کی جانب سے خلا میں ے�بھی گئے سگنلز یعنی پیغامات کے جواب میں آنے والے طاقتور سگنلز نے رین�ما کو خوف زدہ کردیا ے� اور یہ خدشات ر�ظا ے�ک ے�جار ہیں کہ خلائی مخلوق زمین کے اس خطے پر حملہ کرسکتی ے� یا اپنے جدید قسم کے ہتھیاروں کی مدد سے ارضیاتی مقناطیسی طوفان برپا کرسکتی ے� جس سے زمین کی سطح کا مقناطیسی میدان خاص مدت کے ے�ل اپنا توازن کھو سکتا ے� اور اس کی وجہ سے متعلقہ داف�ا مکمل تباہ ہوسکتے ہیں۔ نیشنل سولر آبزرویٹری کے محققین کے مطابق تین ارب نوری سال کی مسافت پر موجود کئی کہکشاؤں سے ان کو خلائی مخلوق کی جانب سے یہ سگنلز موصول ے�ہور ہیں۔ سائنسی محققین کا کہنا ے� کہ اس سے قبل ایسا ایک شمسی مقناطیسی طوفان ’’جیو میگنیٹک اسٹارم‘‘ ء۱۹۸۹ میں امریکی ریاست ٹیکساس میں بھی آیا تھا جس کے سبب بجلی کی ترسیل کے نیشنل گرڈ کو شدید نقصان پہنچا تھا اور ساٹھ لاکھ امریکی باشندوں کو نو گھنٹہ تک بجلی کے بغیر رہنا پڑا تھا۔ اس کے بعد ؍۱۴ جولائی ء۲۰۰۰ میں بھی ایک ارضیاتی مقناطیسی طوفان آیا لیکن خوش قسمتی سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ اس پُراسرار معاملہ کے بارے میں ایک دلچسپ رپورٹ روسی آن لائن جریدہ ٹائمز آف رشیا میں شائع ہوئی ے� جس میں دعوی کیا گیا ے� کہ نیو میکسیکو میں خلائی مخلوق کے حملوں کا خوف ے� اور امریکی حکومت نے شہریوں کو خلائی مخلوق کے حملوں سے بچانے کے ے�ل عام نقل و حرکت مسدود اور ان کا مقابلہ کرنے کے ے�ل بنائی جانے والی ایف بی آئی سمیت اسپیشل فورسز کو تعینات اور فضا میں جدید طیاروں اور بلیک اک� ہیلی کاپٹرز کی پرواز میں شروع کردی ے� لیکن وہ اس ضمن میں کچھ بتانے سے گریز ے�کرر ہیں۔ بہرحال فوری طور پر تحقیقی مرکز کو بند کردیا گیا ے۔� واضح ے�ر کہ آنجہانی سائنس داں اسٹیفن اکنگ� نے اپنے کم از کم تین مقالوں میں خبردار کیا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں خلائی مخلوق کو سگنل یا پیغام نہ بھیجیں کیونکہ پیغام سمجھنے میں غلطی یا پیغام کو حملوں کا انتباہی سگنل سمجھ کر خلائی مخلوق کی جانب سے زمین کو نشانہ بھی بنایا جاسکتا

ے۔� منصف،( حیدرآباد، ؍۱۵ نومبر ء،۲۰۱۸ ص )۸ ک، ص اصلاحی

زار� ایک تقریباً تاریخ کی ادب فارسی موجودہ سے اعتبار زمانی پھیلی تک بلقان سے بنگالحدود، جغرافیائی کی اس اور ے� محیط پر سال حصہ بڑا ایک کا علاقوں اثر زیر کے فارسی سے لحاظ ہیں۔تاریخی ہوئی پاکستان، ممالک: مختار خود الگ الگ تین آج جو ے� مشتمل پربرصغیر‘‘ زبان فارسی سے سال زار�ے۔�چکا ہو تقسیم میں دیش اوربنگلہ ہندوستان دیگر کے فارسی حصہ، کا برصغیر میں حفاظت ، ترویج آبیاری، کی ادب و کہیںزیادہ النہرسے ماوراء اور خلافت عثمانی خراسان، ،فارس جیسے علاقوں ے� حامل کا امتیازات ایسے بعض برصغیر میں ادب فارسی خصوصاً ے۔�ا�ر

ً: مثلا ۔ ہوئے نہیں نصیب کو علاقوں دیگر کے فارسی جو کشف تذکرہ کا اللہ اولیاء اور کتاب فارسی اولین کی تصوف صدی پانچویں نے بخش) گنج داتا( ہجویری عثمان بن علی ، المحجوب لکھا۔ میں پاکستان)( لاہور میں اول نصف کے عیسوی صدی گیارہویں/ ہجری دستیاب بھی آج جو الالباب، لباب تذکرہ اولین کا شعرا فارسی حملوںسے منگول نے عوفی ے۔� تالیف کی عوفی محمد الدین سدیدے،� رخ کا سندھ کے کر ترک کو بخارا وطن اپنے سے غرض کی بچانے جان تا ۱۵۰۶ ھ/۶۳۵ تا۶۰۲ آئے۔جو چلے پاس کے قباچہ الدین ناصر اور کیا مصنف اسی لکھا۔ تذکرہ یہ اں�اورو تھا، حاکم کا سندھ اور ملتان ء۱۲۳۷ آغاز کا تالیف کی الروایات لوامع و الحکایات جوامع کتاب دوسری کی حامل کی افادیت تاریخی جو ہوا پر فرمائش کی قباچہ الدین ناصر بھی

)۱ے۔(� ہوتی شمار کتاب ترین اہم کی ادب فارسی

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.