� ا�اب�اور���

ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی

Maarif - - News -

خاں علی مہدی مولوی الملک محسن نواب سرسید جانشین

بعد کے ء۱۸۵۷ نے جنہوں ہیں میں محسنوں ان کے قوم ء)۱۹۰۷ ۔۱۸۳۷( اپنا ے�ل کے نکالنے سے حالی زبوں اور پستی کو قوم میں حالات کے رکن کے اول کاروان کے گڑھ علی تحریک وہ کردیا۔ نچھاور کچھ سب ان ۔ تھے بازو و دست کے ء)۱۸۹۸ ۔۱۸۱۷( خاں احمد سرسید اور اعظم ے۔�ر شریک عملاً میں کاموں بیشتر کے ان اور کیا تعاون سے طرح ر� کا بعد ماہ چند کے ء)۱۸۹۸ مارچ ؍۲۷( وفات کی سرسید کہ ے� وجہ یہی انہوں اور گیا کیا منتخب سکریٹری کا گڑھ علی کالج او اے ایم انہیں ترقی بڑی کو کالج اور نبھایا بخوبی اسے میں حالات نامساعد انتہائی نے

کہ: ے� لکھا نے شبلی علامہ ۔ دی ’’ لوگوں کو ڈر تھا کہ سرسید مرحوم کے بعد ان کے منصوبوں کو کون انجام دے گا؟ لیکن خدا نے ان ہی کے ہم نشینوں میں سے ایک ایسا شخص پیدا کردیاجو اور امور میں گو سرسید کا ہم سر نہ تھا لیکن کالج کی ترقی ، وسعت اور مقبول عام بنانے میں سرسید سے کسی طرح کم رتبہ نہ تھا ۔اس نے تھوڑی مدت میں سات آٹھ لاکھ روپیہ جمع کردیا، کالج کی ر� شاخ اس قدر ترقی کر گئی کہ اگر کوئی شخص جس نے سرسید مرحوم کی زندگی میں کالج کو دیکھا تھا آج جاکر دیکھے تو کالج کو پہچاننا مشکل ہوگا ۔ کانفرنس جو روز بروز پژمردہ ہوتی جاتی تھی ، نواب محسن الملک مرحوم نے اس کو دوبارہ زندہ کیا اور لاہور سے ڈھاکہ تک اس کے ڈانڈے ے�ملاد ‘‘۔

مقالات( شبلی، ج ،۸ ص )۱۹۳ نواب محسن الملک بڑے عالم فاضل شخص تھے، ان کی تعلیم

قدیم طرز پر ہوئی تھی ، یہی وجہ ے� کہ اسلامی علوم پر ان کی گہری نظر تھی ، وہ اچھے ل�ا قلم اورمصنف تھے ان، کا شمار تہذیب الاخلاق کے دور اول کے بڑے مضمون نگاروں میں ہوتا ے� ۔ ان کے قلم سے

کئی کتابیں اور رسالے نکلے اور مقبول ہوئے ، جن کے نام یہ ہیں: آیات بینات چار( حصے، مطبوعہ ۔۱۸۷۰ ء)۱۸۷۶ کتاب المحبت والشوق، مولود شریف مطبوعہ ء،۱۸۶۰ تقلید اور عمل بالحدیث، اشاعت اسلام مطبوعہ ء۱۸۹۲ امرتسر، فطرت اور قانون فطرت غیر مورخہ، مکاتبات

الخلان، مضامین تہذیب الاخلاق وغیرہ۔ وہ اپنے عہد کے بہت مشہور خطیب تھے اور نہایت عالمانہ

تقریریں کرتے تھے، ان کے بعض خطبات کتابی صورت میں شائع ہوکر مقبول ہوئے۔ ان کے ؍۸۴ خطبات کا ایک مجموعہ مولوی امام الدین گجراتی نے ان کی زندگی ہی میں مرتب کیا تھاجسے ء۱۹۰۴ میں ملک

فضل الدین تاجر کتب قومی کتب خانہ لاہور نے شائع کیا۔ ان کے خطبات اہم وقومی ملی مسائل پر ہیں، ان میں اشاعت اسلام کو خاص طور سے بڑی مقبولیت ملی، ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاسوں میں تعلیمی و ملی معاملات اور جدید تعلیم کی حمایت میں انہوں نے جو خطبات ے�د ہیں وہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔مگر وہ جس پایہ کے شخص تھے ان کے شایان شان انہیں خراج عقیدت نہیں پیش کیا گیا ، منشی امین زبیری ۔۱۸۷۰( ء)۱۹۵۸ کی ’’حیات محسن‘‘ مطبوعہ ء۱۹۳۴ ان کے تمام کارناموں کا احاطہ نہیں کرتی ے،� علی گڑھ

مسلم یونیورسٹی کے فرزندوں پر یہ قرض بہرحال باقی ے� ۔ نواب محسن الملک سرسید کے بعد علی گڑھ تحریک کی

دوسری بڑی شخصیت تھے جن سے علامہ شبلی کے گہرے روابط اور محبت آمیز تعلقات اخیر تک قائم ے�ر ۔ سرسید اور شبلی کے باہمی تعلقات، افادہ و استفادہ اور اختلاف فکر و نظر پر متعدد مضامین و مقالات لکھے گئے ہیں ، متعدد کتابوں میںبھی اظہار خیال کیا گیا ے� ۔ فاروق دیوا نے ایک مستقل کتاب بھی لکھی ے� مگر نواب محسن الملک اورعلامہ شبلی کے باہمی تعلقات پرغالباً اب تک ایک بھی مقالہ نہیں

لکھا گیا ۔ یہی کمی اس تحریر کا باعث ے� ۔ علامہ شبلی فروری ء۱۸۸۳ میں علی گڑھ کالج سے بطور اسسٹنٹ

پروفیسر فارسی و عربی وابستہ ہوئے اور ؍۱۶ سال تک وابستہ ے�ر ، نواب

غالباً پہلے بہت سے اس سے سرسید اور تحریک گڑھ علی الملک محسن ہوئی کب ملاقات پہلی درمیان کے دونوں ان لیکن تھے وابستہ سے ء۱۸۶۲ علامہ ۔البتہ جاسکتا کہا نہیں کچھ پر طور حتمی ہوئے قائم روابط کب اور علی جو ے۔� ملتا میں امید صبح مثنوی ذکر پہلا کا ان سے قلم کے شبلی اس ، تھی لکھی نے شبلی علامہ میں ء۱۸۸۵ میں حمایت کی تحریک گڑھ اور کسی تک آج ہی شاید ویسا ے� گیا کھینچا سراپا جیسا کا سرسید میں ے:� طرح اس ذکر کا الملک محسن نواب میں اس ہو، کھینچا نے شاعر آگاہ حقیقت ور نکتہ وہ

جاہ ذی علی مہدی یعنی

آباد الہٰ اجلاس کے کانفرنس ایجوکیشنل میں ء۱۸۹۱ بعد کے اس سرسید ڈیپوٹیشن جو کا کالج میں ء۱۸۹۲ طرح اسی تھے۔ شریک دونوں میں شریک بھی شبلی علامہ میں اس ، تھا گیا حیدرآباد میں سربراہی کی تھے دار عہدہ بڑے ایک میں حیدرآباد وقت اس صاحب نواب تھے۔

۔ ہوںگی رہی ملاقاتیں میں دونوں یقیناً پر مواقع ان، العلماء شمس کو شبلی علامہ میں ء۱۸۹۴ بعد سال تین کے اس منعقد جلسہ میں کالج ے�ل کے تہنیت اور باد مبارک چنانچہ ،ملا خطاب کا نواب محمود، سید سرسید، اشخاص سربرآوردہ تمام کے کالج میں جس ہوا جسٹس آرنلڈ، پروفیسر ، خاں اللہ مزمل نواب ، حالی مولانا ، الملک محسن محسن نواب صدارت کی جلسہ اس ۔ کی شرکت نے وغیرہ حسین کرامت انسٹی کارروائی کی جلسہ اور تقریر صدارتی کی ان تھی، کی نے الملک نے ء)۱۹۵۳ ۔۱۸۸۴( ندوی سلیمان سید مولانا ے،� ہوئی شائع میں گزٹ ٹیوٹ سے تقریر صدارتی کی الملک محسن ۔ ے� کیا نقل میں شبلی حیات اسے دونوں بلکہ تھے واقف صرف نہ سے دوسرے ایک دونوں کہ ے� ہوتا اندازہ بڑی سے لحاظ اس خطبہ تھے۔یہ ہوچکے قائم مراسم دوستانہ گہرے میں سب کے کالج میں بارے کے شبلی علامہ میں دور اس کہ ے� رکھتا اہمیت صدارتی اپنی نے الملک محسن نواب تھے۔ خیالات کیا کے محسن بڑے سے

: کہ کہا میں آغاز کے تقریر ’’صاحبو! اس وقت اس جلسہ میں دو قسم کے لوگ شریک ہیں، ایک طالب علم جن کو مولانا شبلی صاحب سے شاگردی کا فخر حاصل ے� ، دوسرے اور احباب جن کو مولوی صاحب موصوف کی دوستی کی عزت حاصل ے،� میں اگرچہ بہ ر�ظا دوسرے قسم کے لوگوں میں ہوں مگر

اے صاحبو! درحقیقت میں پہلے طبقہ میں داخل ہوں ۔.... عزیزو! مولانا شبلی صاحب صرف تمہارے ہی استاد نہیں ہیں بلکہ در حقیقت مجھ پر بھی ان کو استادی کا حق ے� ۔ اگر تم نے چند قاعدے صرف و نحو کے ان سے سیکھے یا چند ابتدائی کتابیں ان سے پڑھی ہیں تو میں نے ان کی تصنیف و تالیف اور تقریر و تحریر سے بڑے فائدے حاصل ے�ک ہیں ، کوئی روز ایسا نہیں ہوتا کہ ان کی صحبت سے کسی نہ کسی قسم کا علمی فائدہ مجھے نہ ہوتا ہو یا ان کی باتوں سے کچھ نہ کچھ میری معلومات میں ترقی نہ ہوتی ہو ۔ اس ے�ل اے میرے عزیز طالب علمو ! نہ صرف بہ حیثیت ایک دوست ہونے کے بلکہ بحیثیت ایک طالب علم ہونے کے میں اس جلسہ میں شریک ہوا ہوں اور میں مولانا شبلی صاحب کو اس معزز خطاب کے پانے پر جو گورنمنٹ نے ان کو دیا ے� ، مبارک

باد دیتا ہوں ‘‘حیات۔( شبلی، ص ۲۶۹ ۔ )۲۷۰ بعد ازاں نواب صاحب نے علامہ شبلی کو شمس العلما کا خطاب ملنے پر حکومت کو، کالج کو اور پھر قوم کو مبارک باددی ، ان کا خیال تھا کہ : ’’ مولانا کو مبارک باد دینا تو ایک امر رسمی اور صرف رسم ری�ظا کی تکمیل ے،� وہ فی ذاتہ ہمیشہ سے علم کے آفتاب تھے اور گورنمنٹ ان کو خطاب دیتی یا نہ دیتی وہ سب

کے نزدیک شمس العلما تھے ‘‘۔ حیات( شبلی ص )۲۷۰ علامہ شبلی کی ذاتی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’ صاحبو! مولانا شبلی صاحب کی ذاتی خوبیوں اور ان کے علمی کمالات کا ذکر کرنا فضول ے� جن کو ان سے ملنے کی عزت حاصل ے� وہ ان کے ان صفات کا اندازہ کرسکتے ہیں جو خدا نے کوٹ کوٹ کر ان میں بھر ے�د ۔ہیں‘‘ حیات( شبلی

ص ۲۷۰ ۔ )۲۷۱ کی ان ، فضل و علم کے شبلی علامہ نے صاحب نواب پھر عظیم کی ان اور مرتبہ و مقام علوئے ، عظمت کی تالیفات و تصنیفات

: کہ کہا اور کیا سے تفصیل تذکرہ کا خدمات الشان ’’ جن کو ان کی تالیفات و تصنیفات کے دیکھنے کا اتفاق

نظر کی ان کہ ہیں سکتے سمجھ کو بات اس وہ ، ے� ہوا کیسے خیالات کے ان ، وسیع کیسا علم کا ان اور غائر کیسی ان ، زور پر کیسی تحریر کی ان ، تیز کیسا ذہن کا ان بلند، وہ ، ے� عالمانہ کیسی تحقیق کی ان اور صاف کیسا بیان کا تالیفات اپنی ںنے جنہو ہیں مصنف پہلے کے زمانہ ہمارے تمام کی لٹریچر اور عبارت سلاست اور بیان فصاحت میں لحاظ کا انصاف اور تعصبی ے� اور اعتدال ساتھ کے خوبیوں مبالغہ، موافق کے مذاق ایشیائی اور خیالات شاعرانہ اور رکھا فلسفیانہ سے بلاغت بغیر کے تصنع اور آرائی عبارت اور استعارہ کیا جاری طریقہ کا لکھنے کے لائف اور عمری سوانح پر طرز پر طور محققانہ اور کرنے تحقیق کے تاریخی واقعات ۔اور بیان اسباب کے نتائج اور دینے رائے پر معاملات اور واقعات کرنے دریافت کے کذب و صدق کے روایات و اخبار اور کرنے مذاق کا قوم ہماری کہ جب میں زمانہ ایسے اور بتایا راستہ کا اور افسانوں سوائے کہ جب میں وقت ایسے اور ے� ہوا بگڑا ہمارے ے،� نہیں قدر کی کتابوں کی قسم اور کسی کے ناولوں تالیفات کی جن ہیں کے مصنّفین تین دو ان منجملہ مولانا سے شوق نہایت نے قوم کو جن اور گئی کی قدر نہایت کی جس اور اٹھایا فائدہ بہت نے مسلمانوں سے جس اور دیکھا مشاہیر نے جس اور کیا پیدا مذاق نیا ایک میں دلوں کے ان نے کا اس اور طریقہ کا لکھنے کے زندگی حالات کے روزگار مردہ ہمارے بلکہ لٹریچرمیں مردہ ہمارے اور مقصدبتایا اجرہ اللہ وعلی درہ فللہ ۔دی ڈال جان نئی ایک میں خیالات

)۲۷۱ ص شبلی، حیات( ۔ المامون تعلیم، گذشتہ کی مسلمانوں تصنیفات اپنی نے شبلی علامہ سلسلہ ایک کا مقالات تاریخی محققانہ میں گڑھ علی علاوہ کے النعمان سیرۃ اور حقوق اور اسکندریہ خانہ کتب ، الجزیہ ںنے انہو تحت کے جس تھا کیا شروع سرسید ،پائی مقبولیت حد ے� نے سلسلہ اس تھے۔ لکھے مقالات وغیرہ الذمیین اغلاط تصحیح نے انہوں چنانچہ ۔ تھے حدمداح ے� کے تحقیقات ان بھی اور کیا مقرر سکریٹری کا اس کو شبلی علامہ کرکے قائم صیغہ ایک کا تاریخی محسن نواب )۲۰۶ ص شبلی، حیات( ے۔�ک شامل میں اس مقالات تاریخی کے ان ذوالجلال ئے خدا اورانہیں تھے مداح حد ے� کے تحقیقات ان بھی الملک

: ہیں فرماتے وہ ۔ تھے کرتے خیال ذریعہ کا رضامندی کی

’’ صاحبو ! ہمارے دوست مولانا شبلی صاحب نے نہ صرف ہم مسلمانوں پر اپنی عمدہ تالیفات سے احسان کیا ے� بلکہ درحقیقت اسلام بھی ان کا ممنون ے� اور خدائے ذوالجلال کی رضا مندی حاصل کرنے کا بھی انہو ںنے نہایت عمدہ کام کیا ے۔� ان چند اعتراضوں کا دور کرنا جو مذہب اسلام کے مخالف ہمارے مذہب پر کرتے تھے اور جن سے ہمارا مذہب انسانیت، ، انصاف علم، اور تہذیب کے مخالف خیال کیا جاتا تھا ، وہ جزیہ اور اسکندریہ کے کتب خانہ کا جلانا تھا کہ برسوں سے یہ الزام ہم پر لگایا جاتا ے� اور کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں کی ، لوگوں نے جزیہ کو کفر کا ٹیکس قرار دے رکھا تھا اور اسکندریہ کے کتب خانہ کو جلانے سے نِپیشوایا اسلام کو علم کا دشمن مشہور کردیا تھا ، اس ذی ہمت ، عالی دماغ محقق نے جو مدرسۃ العلوم کے ایک گوشہ میں بیٹھا ہوا ، حکیمانہ زندگی بسر ا�کرر تھا ان دونوں چیزوں کی حقیقت ر�ظا کرنے میں اپنی تحقیق کی ایک عجیب خداداد قوت ر�ظا کی اور چند اوراق کے لکھنے اور مشتہر کرنے سے ایک عالم کو حیرت میں ڈال دیا اور یورپ کے بڑے بڑے محققوں کی آنکھوں پر سے غلطی کا پردہ اٹھادیا اور ان دونوں اعتراضوں کو اس خوبی سے مذہب اسلام پر سے دور کردیا کہ تمام دنیا حیران رہ گئی ۔ حقیقت میں یہ کام ہمارے مولانا نے ایسا کیا ے� کہ خود اسلام اس کی داد دیتا ے� اور خدا

اس پر آفریں کرتا ے� ‘‘۔ حیات( شبلی، ص ۲۷۱ ۔ )۲۷۲ کی ان صاحب نواب کو تحقیقات علمی مذکورہ کی شبلی علامہ

: ہیں لکھتے اور ہیں دیتے قرار کافی ے�ل کے ہونے العلما شمس اور فضیلت ’’میرے نزدیک صرف وہ چند صفحے جو میرے معزز دوست نے جزیہ اور اسکندریہ کے کتب خانہ پر لکھے ہیں ، ایسے ہیں کہ اگر کوئی کام مسلمانوں کے فائدہ کا انہو ںنے نہ کیا ہوتا اور سوائے ان کے کوئی دوسری تحریر ان کی نہ ہوتی تو وہی چند صفحے ان کی فضیلت ، لیاقت اور علم پر د�شا اور مسلمانوں کے فخر اور عزت کے ے�ل کافی اور ان کے شمس

العلما ہونے کے د�شا تھے ‘‘۔ حیات( شبلی ص )۲۷۲ نواب محسن الملک نے علامہ شبلی کو طلبائے علی گڑھ کے

ے�ل ایک قابل تقلید نمونہ قراردیا اور ان کی یِدراز عمر کی دعا کے ساتھ طلبہ کو ان کے نقش قدم پر چلنے کا مشورہ دیا :

’’ اے میرے عزیز! اے میرے مدرسۃ العلوم کے طالب علمو! نہایت خوش نصیب ہو کہ ایسے استاد تم کو ملے ہیں اور ایسے آفتاب کی روشنی تم کو پہونچتی ے� ۔ تم اس زمانہ کو غنیمت سمجھو جب کہ تم کالج میں ہو اور ایسے استادوں کی صحبت و تعلیم سے فائدہ حاصل کر ے�ر ہو۔ اس کو اتھ� سے نہ جانے دو اور اپنے استاد کے قدم بہ قدم چلنے میں دقیقہ کو شش کا اٹھا نہ رکھو۔ تمہارے سامنے ایک عمدہ نمونہ موجود ے� ، تمہارے دلوں کو منور کرنے کے ے�ل ایک آفتاب روشن ے� ، تم ایسا وقت اتھوں� سے جانے نہ دو اور اپنے استاد کے خصائل اور صفت سیکھنے اور علم کے حاصل کرنے اور پھر اسے کام میں لانے کی کوشش کرو تا کہ ہم اپنی قوم میں نہ صرف ایک آفتاب کو دیکھیں بلکہ ہمارے چاروں طرف سیکڑوں چاند اور ستارے نظر پڑیں ، خدا کرے کہ ہمارا یہ آفتاب مدت تک روشن ے�ر اور اس کا سایہ ہم پر ۔پڑے‘‘

حیات( شبلی، ص )۲۷۳ ملازمت کی کالج او اے ایم کہ ہوا پیدا خیال کو شبلی علامہ ے�چاہ کرنا صرف میں تالیف و تصنیف وقت تمام کر ہو کش کنارہ سے علی سید مولوی میں ء۱۸۹۶ ۔ تھے نہیں سازگار حالات ے�ل کے اس مگر وہ ذریعہ کے تھے، مراسم گہرے کے شبلی علامہ سے جن بلگرامی روپیہ ؍۱۰۰ نے آصفیہ حکومت سے کوششوں کی انہیں اور ے�پہن حیدآباد صرف میں تالیف و تصنیف وقت تمام اپنا وہ تاکہ کیا مقرر وظیفہ ماہوار ہونے آرائی قیاس یہ میں کالج میں زمانہ کے حیدرآباد قیام ۔ سکیں کر صحیح چنانچہ ، ہیں والے ہونے کش کنارہ سے کالج شبلی علامہ کہ لگی لکھا، خط انہیں نے الملک محسن نواب ے�ل کے سمجھنے حال صورت وہ لکھا جواب جو کا ان نے شبلی علامہ البتہ نہیں تودستیاب خط وہ

: ہیں لکھتے شبلی ۔علامہ ے� شامل میں اول حصہ شبلی مکاتیب ، آگئی ہنسی اختیار ے� کر پڑھ خط کا آپ ! من جناب اسکول ،ہیں سمجھتے دل سادہ اور بھولا قدر اس کو مجھ لوگ آپ روپیہ کا یہاں لیکن جاتا، رہ کیا تو ہوتا مفید رہنا یہاں میرا ے�ل کے ؍۵۰۰ سردست کو مجھجاتا، نہیں ر�با ے� ہوتا خرچ یہیں ہمیشہ پھر ، ے� خرچ کا یہاں یہی اور سکتے مل نہیں زیادہ سے ماہوار کی یہاں اگر البتہ ، ے� جاتا بڑھ خرچ ے� بڑھتی تنحواہ قدر جس انداز پس تو رہوں ہوکر وقعت ے� بدحیثیت، ، مبتذل میں سوسائٹی کس یہ چندہ سے لوگوں کے یہاں ے�ل کے اں�و باقی ۔ ے� ہوسکتا

۔ ے� حماقت قدر کسی زیادہ سے مجھ قدر کی دولت اور روپیہ ! صاحب مولوی رواں تو میرا ہوں، نہیں بایزید اور ادہم ابراہیم کچھ میں نہیں، کو سے سلیقہ کو دنیا لیکن ے� ہوا جکڑا سے خواہش کی دنیا رواں داری، دربار سازش، توڑ جوڑ سے مجھ ، ہوں چاہتا کرنا حاصل اس بغیر اور ہوسکتی نہیں بھگت آؤ جھوٹی کی لوگوں خوشامد

۔ کیا پسند عافیت گوشہ نے میں ے�ل اس ، معلوم کامیابی کے کہا نے میں ہوا استفسار کا خواہش میری سے مجھ یہاں اسی چنانچہ ، آزادی سے تعلق کے کالج ساتھ کے آمدنی موجودہ ے�روپ ؍۲۰۰ یا ؍۱۵۰ بعد کے الفاروق ۔ ہوگیا مقرر منصب کا ماہوار قدر گو ے� گیا کردیا درج وعدہ کا اضافہ بھی میں روبکار ، ہوجائے ل�تا ، ے� بہت یہ کو زندگی تنہا میری بس ،نہیں تعین کی مقدار زحمت ے� ، نہیں خواہش کی دھام دھوم زیادہ ، نہیں ارادہ کا کاسہ ؎ تو یوں اور ے� شکر لاکھ لاکھ دیاتو قدر اس نے خدا نہیں یہ تدبیر کی اس کرنی خدمت کی قوم ا�ر الخ.... حریصاں چشم طلبہ کے اس بجائے دلاؤ، نوکری کو دوچار کرکے سفارش جھوٹی کہ مکاتیب( ۔کرسکیں‘‘ سفارش اپنی خود وہ کہ ے�بناناچاہ قابل اس کو

)۱۷ ص ، ۱ ج شبلی، محض میں کالج گڑھ علی وقت اس کہ ے� ہوتا اندازہ سے خط اس

بھی یہ بلکہ ہیں، ے�ر ہو علاحدہ سے کالج علامہ کہ تھا نہیں مشتہر یہی ے�ل کے گڑھ اعظم اسکول نیشنل کردہ قائم اپنے شبلی علامہ کہ مشہورتھا ا�ہور واضح بھی یہ سے خط اس ۔ ہیں ے�ر کر بھی چندہ میں حیدرآباد تھی بھی تکلفی ے� بڑی درمیان کے صاحب نواب اور شبلی علامہ کہ ے� ابراہیم کوئی وہ ہیںکہ ے�ر لکھ سے صفائی انتہائی میں بارے اپنے وہ نہیں بھی ارادہ کا ل�تا ابھی کہ بھی یہ اور نہیں بسطامی بایزید اور ادہم ے�ل کے مصارف کے ان وہ ے� ہوا مقرر منصب سے حیدرآباد قدر جس اور

۔ ہیں کرتے بھی تنقید پر کالج وہ میں جملے ی آخر اور ے� کافی اور ہوئے نہ علاحدہ سے کالج وقت اس شبلی علامہ حال بہر

کالج کہ ے� نہیں ایسا ۔ ے�ر وابستہ سے کالج تک حیات کی سرسید جب انہوںنے بلکہ تھا کردیا ترک ںنے انہو ارادہ کا ہونے علاحدہ سے کہا سے سرسید نے پرنسپل بیک مسٹر تو کی بات کی علاحدہ سے کالج مفید رہنا وابستہ سے کالج کا ان ہیں مصنف قابل ایک شبلی علامہ کہ یونیورسٹیوں بعض کی یورپ طرح جس کہ ے�سمجھائ انہیں آپ ۔ ہوگا

ماہ چھ بقیہ اور ہیں کرتے کام کا تدریس و تعلیم ماہ چھ پروفیسر میں ہیں دیتے انجام کام کا تدریس نائبین کے ان اور ہیں ہوتے پر رخصت وہ تصنیف ماہ چھ بقیہ اور کریں کام کا تدریس ماہ چھ بھی وہ طرح اسی مخالفت کی تجویز اس نے محمود سید گرچہ رہیں۔ منہمک میں تالیف و میر بیتی، آپ( کرلی۔ تسلیم بات یہ کی بیک مسٹر نے سرسید مگر کی

)۱۱۶ ص حسین، ولایت کا خلفشار میں تاریخ کی کالج گڑھ علی ) ء۱۸۹۷۔۹۸( زمانہ یہ

کالج سے لطفی ے� کی محمود سید اور سرسید پر طور خاص تھا، زمانہ اسماعیل نواب کر چھوڑ گھر سرسید آخرکار ، تھی لطف ے� بھی فضا کی روانہ پر آخرت سفر سے مکان اسی پھر اور گئے چلے گھر کے دتاولی کی سرسید بھی شبلی علامہ کہ ہوگی معلوم کو لوگوں کم بات یہ ۔ ہوئے چلے میں مکان کے دتاولی اسماعیل نواب کر چھوڑ بنگلیہً کردہ عنایت استعفیٰ بعد ماہ دو کے وفات کی سرسید اور)۱۲۵ ص ا ایض تھے( گئے

۔ لی راہ کی گڑھ اعظم کر دے محمود سید چونکہ تھے بناگئے جانشین اپنا کو محمود سید، سرسید

وہی سے لندن کو پرنسپل بیک مسٹر اور تھی ہوئی میں انگلستان تعلیم کی کی ان اور تھا نوا ہم کا ان اسٹاف انگریزی کا کالج ے�ل اس تھے آئے کر لے تھا کرواتا فیصلے کر ڈال ڈال دباؤ میں دور اخیر سے سرسید میں داری طرف ، الملک محسن نواب میں جس ، ہوگئے ناراض ٹرسٹیز سے وجہ کی جس شامل بھی خواہ بہی ہمدردو کے کالج جیسے حالی مولانا اور الملک وقار کے پریس جو کی تیار تحریر ایک خلاف کے سرسید نے ٹرسٹیز چنانچہ تھے، سے وجہ کی حادثہ اس ، پائی وفات نے سرسید کہ تھی گئی دی دے ے�ل باقی وہ تھی ہوگئی پیدا کھائی جو میں دلوں مگر گئی لی لے واپس تحریر وہ کالج کہ تک یہاں ، کیا اضافہ اور میں اس نے ے�رو کے محمود سید ، رہی محمود سید میں ء۱۸۹۹ جنوری اور ہوگیا خلاف کے ان بھی اسٹاف انگریزی کا اگرچہ محمود سید ، گیا کیا منتخب سکریٹری کو الملک محسن نواب جگہ کی جہد و جد سخت اور کرلیا رام انہیں نے صاحب نواب مگر بپھرے سخت علامہ وقت اس ، لگادیا پر راہ کی ترقی بچاکر سے انتشار کو کالج بعد کے محسن نواب چنانچہ ، تھے علیل اور مقیم میں گڑھ ہوکراعظم مستعفی شبلی سکریٹری ۔ کیا سفر کا گڑھ اعظم ے�ل کے عیادت کی دوست اپنے نے الملک گڑھ اعظم میں ء۱۸۹۹ مارچ وہ تھا، سفر پہلا کا ان یہ غالباً بعد کے ملنے شپ مولوی بھائی اپنے نے شبلی علامہ ے،�ر مقیم میں منزل شبلی دن تین اور آئے

اسحاق ایڈوکیٹ کو ایک خط میں لکھا ے� کہ : ’’ پانچ چھ دن سے طبیعت اچھی ،ے� نواب محسن الملک

میری عیادت کو یہاں آئے اور میرے بنگلہ میں تین دن ے�ر ، ان کی آؤ بھگت میں مجھ کو بہت چلنا پھرنا پڑا لیکن میں اس

کی برداشت کر ۔سکا‘‘ مکاتیب( شبلی ج ۱ ص )۴۱ اس خط پر تاریخ کے بجائے محض سنہ ء۱۸۹۸ درج ے� ، علامہ

شبلی خطوط پر مکمل تاریخ لکھنے کا اہتمام کرتے تھے مگر کبھی کبھی بلا تاریخ بھی خط لکھ دیتے تھے ، ساجی کہ مکاتیب شبلی کے دونوں حصوں میں بعض خطوط سے معلوم ہوتا ے� ، مذکورہ خط پر ء۱۸۹۸ درج ہونے کی وجہ سے مولانا سید سلیمان ندوی نے نواب محسن الملک کی اعظم

گڑھ آمد کا ذکراسی سنہ کے ذیل میں کیا ے۔� حیات( شبلی ص )۳۴۹ ء۲۰۰۷ میں پروفیسر اقبال حسین نے ’’ دستاویزات محسن الملک ‘‘ مرتب کرکے شائع کی ے،� اس میں دستاویز ،۱۷نمبر( اور شمار نمبر )’’۱۶۷ خط طلبائے اعظم گڑھ‘‘ کا بھی اندراج ے� ، فہرست سے ر�بظا ایسا معلوم ہوتا ے� کہ ایم اے او کالج میں مقیم طلبائے اعظم گڑھ کا کوئی خط ے� جو انہو ںنے نواب صاحب کے نام لکھا ے� مگر دراصل یہ طلبائے نیشنل ائی� اسکول اعظم گڑھ کا وہ سپاس نامہ ے� جو انہوں نے نواب محسن الملک کی اعظم گڑھ آمد پر پیش کیا تھا ، اس پر جو تاریخ درج ے� وہ ؍۲۳ مارچ ء۱۸۹۹ کی ے۔� اس سے یہ واضح ہوجاات ے� کہ نواب صاحب سکریٹری منتخب ہونے کے بعد مارچ ء۱۸۹۹ میں اعظم گڑھ آئے تھے نہ کہ ء۱۸۹۸ میں ۔ چوں کہ علامہ شبلی کے مذکورہ بالا خط میں محسن الملک کے قیام اعظم گڑھ کی مدت تین دن لکھی ے� اس ے�ل اس کی تاریخ کی تعیین ؍۲۱ ؍۲۲ مارچ

سے ؍۲۵؍۲۴ مارچ ء۱۸۹۹ کی جاسکتی ے� ۔ اس سپاس نامہ کو اصل سے نقل کرنے میں مرتب نے احتیاط

نہیں کی ے� ، کمپوزنگ کی متعدد غلطیاں بالکل واضح ہیں حتی کہ تاریخ کے اندراج میں بھی کئی غلطیاں ہیں ، چار صفحے کے اس سپاس نامہ کے پہلے صفحہ پر ؍۲۳ اپریل ء۱۸۹۸ کی تاریخ درج ے� اور بقیہ صفحات میں ؍۲۳ اپریل ء۔۱۸۹۹ سپاس نامہ کے اختتام پر ؍۲۳ مارچ ء۱۸۹۹

تاریخ لکھی ہوئی ے� ۔ طلبا ئے نیشنل ائی� اسکول اعظم گڑھ کا یہ سپاس نامہ یقینی ے�

کہ علامہ شبلی کی ایما ہی سے پیش کیا گیا ہوگا ۔مشمولات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ے� بہر حال یہ سپاس نامہ اپنے مشمولات کے لحاظ سے

بھی بڑی اہمیت رکھتا ے� ۔ اس کا آغاز اس طرح ہوا ے� :

’’معلی القاب جناب نواب محسن الملک صاحب ! ہم طلبائے نیشنل ائی� اسکول اعظم گڑھ جو عالی جناب شمس العلما مولانا محمدشبلی صاحب کی ایک ادنی شعاع فیض و ضیاء مکرمت ے� اور جس کی تمام رفعت و ترقی مولانا ممدوح کی ہمدردی و روشن ضمیری کے خیالات سے وابستہ ے� ، نہایت ادب سے دلی جوش کی شادمانی و اٹھتے ہوئے جوش دل کے دلوں کے مسرت سے اس مبارک اور قابل فخر موقع پر جب کہ حضور عالی کے کوکب ہمایوں کے ورود نے اس سرزمین کو فلک چہارم کی عزت دی یا یوں ے�کہ کہ جناب شمس کی عیادت کی تقریب سے خورشید درخشاں نے قدم رنجہ فرمایا کہ اس سے ہمارے مرزبوم کے ر� خار و خس کو رتبہ انا الشرق عطا کیا ے� ۔ چند سطور حضور عالی کے قومی خدمات کے متعلق عرض کرنے کی اجازت چاہتے ہیں

‘‘۔ دستاویزات( محسن الملک، )۳۴۷ص زبوں کی مسلمانوں بالخصوص حالات کے بعد کے ء۱۸۵۷ بعدازاں

بسی ے� کی مسلمانوں اور اسلام میں ہندوستان ے،� گیا کیا تذکرہ کا حالی کے اسپین ہند مسلمانان کہ ے� گیا کیا ر�ظا خوف یہ اور ے� گئی کی بیان رحمت میں ایسے ۔تھے گئے پہنچ قریب کے حالات کے طرح کی مسلمانوں کاوشوں کی خاں احمد سرسید سید پہلے پھر ، کیا پیدا کو سیدوں دو نے حق ۔اس کا شخصیت کی الملک محسن نواب سید ازاںدوسرے بعد ے� ذکر کا تھا خوف بعد کے وفات کی سرسید کہ ے� گیا کیا ر�ظا بھی خیال میںیہ ذات کی الملک محسن مگر ہوجائے نہ پژمردہ کہیں گڑھ علی تحریک کہ

: ے� یہ عبارت اصل ۔ ا�ر جاتا خوف یہ سے گرامی ’’خلد آشیاں سید مرحوم کی وفات ے� وقت و ناگہانی سے ہم بچگان اسلام کو اسلامی واوج شان کی ترقی کی طرف سے ایک قسم کی مایوسی ہوگئی تھی ، آپ کے قابل تعظیم قوت بازو کی ٹوٹنے سے ہم سخت متوحش تھے کہ مبادا ترقی کے ذرائع رک جائیں اور وہ قابل فخر مدرسہ سرچشمہ علم و معدن فنون محمڈن اینگلواورینٹل کالج علی گڑھ جو غفرلہ سرسید مرحوم کی کوششوں کا ثمرہ ے،� اس کی روانی و طراوت اور اس کے ارکان و وصول تعلیم میں کوئی ناخوش گواری و ڈھیل واقع ہو اور اسلامی جماعت کا کوئی حامی و معین نہ ے�ر ، مگر خدا کا شکر ے� کہ ہماری مایوسی خوشی سے بدل

گئی اور یہ بات اب علانیہ نظر آرہی ے� کہ قابل تعظیم مر نے والا اپنے مرتے وقت ودیعۃً اپنے تمام دست و بازو کی قوت، اپنی تمام دلی روشنیاں و روشن ضمیریاں ، اپنے تمام متبرک اوصاف و برکات کو حضرت مہدی کے تمام برگزیدہ شمائل، زور آور دست و بازو، مستقل جد وجہد، نورانی دل مصفا و روشن دماغ پر اضافہ کرتا گیا ے� ، جس کے قابل عظمت و سرگرم کوشش سے یہ صریح ے�آشکار کہ سید مرحوم کی کوششوں سے جو پود لگی تھی وہ جلد تناور درخت ہوگی اور اس کے ثمرسے انشاء اللہ ایک عالم بہرہ مند و فیض یاب ہوگااور اس درس گاہ سے جو آپ کے صدقہ محنت میں جو یونیورسٹی بننے والی ے� وہ چشمہ فیض جاری ہوگا کہ مسلمانان ہند کے علمی خزاں خوردہ باغ میں ہمیشگی کی بہار آوے

گی ‘‘۔ دستاویزات( محسن الملک، ص ۳۴۸ ۔ )۳۴۹ دعا ے�ل کے صاحب نواب پیراگراف آخری کا نامہ سپاس اس

علی کے گڑھ اعظم اسکول نیشنل ئے طلبا ساتھ کے خواہشات نیک اور

: ے� مظہر کا تعلق والہانہ سے گڑھ ’’ ہم کو آپ کی ر� تمام وکوشش مدرسۃ العلوم کے ساتھ

نسبتاً دلی ہمدردی ے،� اس طرح پر کہ گویا مدرسۃ العلوم میں اس وقت تعلیم پا ے�ر ہیں اور حضور عالی جناب سے یہ امید رکھتے ہیں کہ ہم طلبائے نیشنل ائی� اسکول اعظم گڑھ کو بھی حضور مدرسۃ العلوم کا طالب علم تصور فرمائیں۔ اب ہماری یہ دعا ے،� حضرات ! آپ آمین ے�کہ کہ اے خدا اپنے، رسول وپاک نبی اکرم کے طفیل میں ہمارے محسن، ہمارے حامی، ہمارے رہنما ، ہمارے ناخدا جناب نواب محسن الملک مولوی مہدی علی خاں صاحب بہادر کو جو ہمارے اعتقاد و یقین سے ہندوستان کے پانچ کروڑ مسلمانوں کے رہبر ہیں ، خضر کی عمر اور نوح کی حیات عطا کر ، وائے خدا ، اے خدا ہمارے محسن الملک کی اس تکلیف راہ اور صعوبت سفر کا خیال کرکے اپنے فضل و جلال کے صدقہ میں ان کی کوششوں کو کامران اور ان کے دلی ارادوں کو کامیاب کر، آمین

ثم آمین ۔ (ایضاً )۳۵۰ص ‘‘

ً

اسکول ائی� نیشنل تقریب کوئی یقینا ے�ل کے کرنے پیش نامہ سپاس یہ ہوسکی، نہ دستیاب تفصیل کی اس مگر ہوگی ہوئی منعقد میں منزل شبلی یا تھی، منعقدہوئی تقریب کہ ے� ہوتا واضح سے جملہ ایک کے متن کے اس البتہ

۔ ہو درج تفصیل کوئی کی اس میں گزٹ ٹیوٹ انسٹی ے� ممکن علامہ گیا کیا پیش وقت جس کو صاحب نواب نامہ سپاس یہ

اور تھے مقیم میں گڑھ اعظم کر ہو علاحدہ سے کالج گڑھ علی شبلی ممکن ، تھے چکے ہو منتخب سکریٹری کے کالج الملک محسن نواب کا ان میں لکھنے کے اس مگر ہو دیکھا نہ اسے نے شبلی علامہ ے� جو کا شبلی علامہ تک وقت اس کیونکہ ہوگا ا�ر شامل ضرور مشورہ میں صفحات کے اس بازگشت کی اس تھاً چکا ہو قائم نظریہ تعلیمی

کہ: اقتباس یہ لامث ے،� دیتی سنائی صاف ’’ اور خدا کی مہربانیوں سے کچھ بعید نہیں ے� کہ علی گڑھ کے سر چشمہ علوم سے لارڈ بیکن کے ساتھ حضرت امام غـزالی کی روح بھی خروج کرے۔ اڈلین و میکالے کے ساتھ امام رازی و امام بخاری کی برکتیں بھی اپنا جلوہ ۔دکھائیں‘‘ دستاویزات( محسن الملک ص )۳۴۹ کرنے رخ کا حیدرآباد اور چھوڑنے کالج گڑھ علی کے شبلی علامہ

قطع سے تفصیل کی اس ہیں، ے�ک بیان اسباب کئی نے قلم ل�ا بعد کے علی نے میں کہ ے� لکھا نے شبلی علامہ ۔ ے� ضروری ذکر کا باتوں دو نظر پڑا، جانا حیدرآباد سے وجہ کی اتفاقی واقعات گو چھوڑا ے�ل کے ندوہ گڑھ اور کشمکش کی ان سے سرسید نے ندوی سلیمان سید مولانا شبلی جانشین ایک کا کرنے رخ حیدرآباد ازیں علاوہ ے� دیا قرار سبب کا اس کو اختلافات علامہ سبب اصل لیکن ۔ ے� بتایا بھی قرض گیا چھوڑا ذریعہ کے والد سبب میں شبلی حیات نے صاحب سید ، تھی بدگمانی کی انگریزوں سے شبلی نواب ۔ ے� کیا ذکر سے تفصیل کا ب اسبا کے اس اور بدگمانی کی انگریزوں نظرآتے خواہ بہی بڑے سے سب کے شبلی میں زمانہ اس جو الملک محسن شبلی حیات،( دیا مشورہ کا جانے حیدرآباد کو شبلی بھی ںنے انہو ، ہیں کیوں ، ہوگی رہی ہی بدگمانی کی انگریزوں شاید وجہ کی اس )۳۶۶ ص اسلامی اتحاد انہیں اور تھے خلاف کے شبلی علامہ انگریز میں زمانہ اس کہ شبلی بہرحال ۔ تھے بدظن بھی سے ندوہ ۔ تھے کرتے خیال بردار علم کا ۔ تھا شامل بھی مشورہ کا الملک محسن میں جانے بعجلت حیدرآباد کے

)۳۶۶ ص شبلی حیات( انہوں ابھی ، تھا کاسال کشمکش بڑی ے�ل کے شبلی علامہ ء۱۹۰۰

تھا کیا نہیں فیصلہ کوئی کا مستقبل بعد کے تعلق قطع سے گڑھ علی نے کے اس کیا، انتقال کو ء۱۹۰۰ اگست ؍۱۲ نے اللہ حبیب والدشیخ کے ان کہ

ایجوکیشنل میں زمانہ اسی ۔ ہوگئے کھڑے مسائل کے وراثت تقسیم ہی ساتھ نے الملک محسن نواب تو پایا طے ہونا اجلاس میں پور رام کا کانفرنس شریک سے وجہ کی مسائل کے وراثت تقسیم وہ تاہم کی خواہش کی شرکت الملک محسن نواب سال اسی )۴۶ ص ۱ ج شبلی مکاتیب( ۔ ہوسکے نہ دی، دعوت کی شرکت کو ان اور کیا نامزد رکن کا کمیٹی دینیات انہیں نے

:- ہیں لکھتے شبلی علامہ میں جواب کے اس ’’ عالی خدمت جناب محسن الملک بہادر سکریٹری

مدرسۃ العلوم علی گڑھ بہ جواب والانامہ مورخہ ؍۳۱ مارچ ء۱۹۰۰ میں فخر کے ساتھ دینیات کے صیغہ کی ممبری منظور کرتا ہوں لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آج ؍۲ اپریل کو خط پہنچا ے� ، تیسری تک کس ذریعہ سے علی گڑھ پہنچ سکتاہوں۔ والسلام شبلی نعمانی

؍۲ اپریل ء۱۹۰۰ علامہ شبلی کا یہ خط ان کے کسی مجموعہ مکاتیب میں شامل نہیں ے� ، اسے سرسید اکیڈمی علی گڑھ کے ریکارڈروم سے حاصل کرکے پروفیسر سعود عالم قاسمی نے اپنی کتاب ’’ سرسید جدید ذہن کے معمار‘‘ ص( )۱۵۹ میں شامل کیا ے� ۔ انہو ںنے یہ بھی لکھا ے� کہ علامہ شبلی دینیات کے اس جلسہ میں گرچہ شریک نہ ہوسکے تاہم آیندہ سال ء۱۹۰۱فروری؍۱۴ کے جلسہ میں جو نواب محسنً الملک کی کوٹھی پرمنعقد ہوا تھا ، علامہ شبلی نے شرکت

کی ۔ ( اساض)ای جلسہ کی ایک قرارداد یہ تھی کہ : ’’ سیر کی نسبت یہ قرار پایا کہ بدء الاسلامً کی تکمیل مولوی شبلی صاحب ۔کردیں‘‘ ( اایض) نظر محل دونوں داد قرار اور بات کی تکمیل کی الاسلام بدء

میں سرسید عہد شبلی علامہ تکمیل کی الاسلام بدء کہ ے�ل اس ، ے� بلکہ ، تھا ہوچکا شامل میں نصاب کے کالج رسالہ وہ اور تھے کرچکے ترجمہ میں فارسی کا اس پر فرمائش کی سرسید پہلے سے قرارداد اس

۔ تھے چکے کر فراہی حمیدالدین مولانا بھی میں ء۱۹۰۲ اور گئے حیدرآباد میں ء۱۹۰۱ فروری شبلی علامہ احباب متعدد ہوئی، شائع الغزالی کتاب کی ان سے فنون و علوم سررشتہ

نے اس کی فرمائش کی مگریہ اعزاز صرف نواب محسن الملک کو حاصل ہوا کہ علامہ نے ان کی فرمائش پوری کی اور الغزالی خرید کر بھیجی

۔ مکتوبات( شبلی ص )۶۰ نواب محسن الملک چاہتے تھے کہ علامہ شبلی علی گڑھ واپس

آجائیں ، چنانچہ انہو ںنے ایک سال پہلے اگر چہ حیدرآباد جانے کا مشورہ دیا تھا تاہم وہ اپنے مشن میں لگے ے�ر اور علامہ شبلی سے متعلق انگریزوں کے جو شکوک و شبہات تھے ان کے رفع کرنے کی کوشش کی اور جب انہیں کامیابی مل گئی اور گورنر کی طرف سے اجازت مل گئی کہ انہیں علی گڑھ بلا لو تو انہو ںنے علامہ شبلی کو لکھا کہ فوراً کالج واپس ے�آجائ ۔ مکاتیب( شبلی ج ۱ ص ۱۴۰ ۔ یہ)۱۴۲ ء۱۹۰۱ اور

ء۱۹۰۲ کی بات ے� ۔ جنوری ء۱۹۰۳ میں ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس لی�د میں

منعقد ہوا ، نواب صاحب کی خواہش پر علامہ شبلی حیدرآباد سے آکر شریک ہوئے ۔ کانفرنس کا یہی وہ اجلاس ے� جس میں کانفرنس کے مختلف ے�شع قائم ہوئے اس کے ایک شعبہ انجمن ترقی اردو کا سکریٹری علامہ شبلی کو منتخب کیا گیا جس، پر وہ اخیر ء۱۹۰۴ تک فائز ے�ر ۔ یہ سکریٹری شپ بھی نواب صاحب اور علامہ شبلی کی دوستی ہی کا نتیجہ تھی۔ علامہ شبلی جب تک اس عہدہ پرفائز ے�ر ترقی اردو کے ے�ل مسلسل جد و جہد کرتے ے�ر اور اس کی روداد لکھ کر نواب محسن الملک کو ماہ بہ ماہ پیش کرتے ے�ر ۔ یہ رودادیں انسٹی ٹیوٹ گزٹ علی

گڑھ میں شائع ہوئی ہیں ۔اس کی دستیاب تفصیل اس طرح ے� : ۔رپورٹ۱ انجمن ترقی اردو ماہ اپریل ۱۹۰۳ ء ، انسٹی ٹیوٹ گزٹ، ؍۳۰ مئی ء۱۹۰۳ ۔ ۔رپورٹ۲ انجمن ترقی اردو ماہ مئی ۱۹۰۳ ء، ۔انسٹی ٹیوٹ گزٹ، ؍۱۳ جون و ؍۲۰ جون ء۱۹۰۳ ۔ ۔رپورٹ۳ انجمن ترقی اردو ماہ جون ۱۹۰۳ ء ، انسٹی ٹیوٹ گزٹ، ؍۲۵ جولائی ء۔۱۹۰۳ ۔رپورٹ۴ انجمن ترقی اردو ماہ جولائی ۱۹۰۳ ء، انسٹی ٹیوٹ گزٹ، ؍۲۹ اگست ء۱۹۰۳ ۔ ۔رپورٹ۵ انجمن ترقی اردو ماہ اگست ستمبر ۱۹۰۳ ء، ۔ انسٹی ٹیوٹ گزٹ، ؍۲۶ اکتوبر ء۔۱۹۰۳ انجمن کی شبلی علامہ رودادیںجہاں مفصل یہ کی اردو ترقی انجمن طرف دوسری وہیں ہیں کراتی واقف سے دلچسپی و محنت ے�ل کے اردو ترقی

ہیں۔ دیتی پتہ بھی کا دلچسپی پناہ ے� کی ان سے الملک محسن نشاندہی کی رودادوں چند ان شدہ شائع میں گزٹ ٹیوٹ انسٹی

بھی اور ے� ممکنتھیں، کی نے حسین مشتاق مصنف کے شبلی باقیات

۔؟ کرسکتا نشاندہی کی ان کوئی کاش ہوں ہوئی شائع رودادیں

کے مصروفیات کی ملازمت کی حیدرآباد شبلی علامہ وقت جس رودادیں کی اس اور تھے ے�ر کر وجہد جد مسلسل لئے کے اردو ترقی باوجود شخص کسی میں زمانہ اسی عین تھیں، رہی چھپ میں گزٹ ٹیوٹ انسٹی ؍۲۱میں گزٹ ٹیوٹ انسٹی جو لکھا مراسلہ ایک کو الملک محسن نواب نے بعض متعلق سے کالج گڑھ علی میں مراسلہ اس ہوا، شائع کو ء۱۹۰۳ مارچ کیا شک پر نیت کی صاحب نواب خود اور تھیں گئی لکھی باتیں نازیبا ے�ل نام بغیر کہ تھا لکھا مراسلہ سے عیاری اس نے نگار مراسلہ ۔ تھا گیا علامہ ، بھی ہوا یہی اور ہوجائے طرف کی شبلی علامہ انتساب کا اس الرحمنٰ حبیب مولانا کی۔ ر�ظا ناراضی سخت پر اشاعت کی اس نے شبلی

: کہ لکھا میں خط ایک کو خاںشروانی غلطی سخت میں چھاپنے خط نام گم نے الملک محسن نواب ایک سب وہ ، تھا لینا پوچھ پہلے سے مجھ کم سے کم ، کی )۱۲ ص ۲ ج شبلی مکاتیب( ۔ ے� کارروائی کی مفسد حیدرآبادی لکھا خط مفصل کو الملک محسن نواب خود بعد کے اس پھر سامنے خیالات اہم بعض متعلق سے کالج کے شبلی علامہ سے اس کہ چوں

: ہیں لکھتے شبلی علامہ ، ے� جاتا کیا نقل ے�ل اس ہیں آتے نے جس شخص ایک کہ تھا سکتا کر گمان یہ کون نے جس ، ہو کی ملازمت وفادارانہ کی کالج تک برس ؍۱۶ مقدور اپنے نے جس ، ہو دیا کو کالج تصنیفات مشہور اپنی اکثر جو ، ہو کی اعانت مالی کی کالج فوقتاً وقتاً موافق کے جواب اور ے� ا�ر ہوتا شریک تک اب میں جلسوں کے کانفرنس سے تعلقات موجودہ کو اس اگر کہ ے� رہتا دیکھتا خواب بھی بڑا کا سال کر رہ میں احاطہ کے کالج پھر تو سکے مل آزادی صرف کے معاوضہ مالی کسی بلا میں خدمت کی کالج حصہ اس اور ے�چھ چٹھی گمنام ایک جب نسبت کی اس ، کرے تونواب جائیں کئے منسوب خیالات باغیانہ نسبت کی اس میں ے� شخص کون نویسندہ کہ کے دریافت اس بلا الملک محسن واقعہ جو نے نویسندہ کہ یہ اور ؟ ے� پایہ کیا کا اس اور ؟ استراق پرائیویٹ یا ے� واقعہ کا موقع پبلک کسی وہ ے� کیا بیان ایک میں قوم تمام پھر اور دیں چھاپ کو خط اس ، ے� سمع باندھ تار کا مضامین پر بنیاد کی اس لوگ اور برپاہوجائے غلغلہ بالکل نے حالی مولانا بزرگ ہمارے ، عجاب ذالشی� ان دیں،

؎ ے� کہا سچ

رنجی شکر میں جماعت قومی کسی لیں سن اگر میں ہم شادیاں کر سن فال بد یہ گی ہوں زاروں� ) ۳۴ ص شبلی مکتوبات( کی اس ے� کیا ذکر کا مفسد حیدرآبادی جس نے شبلی علامہ

کوئی کہ ے� ہوتا واضح ضرور یہ سے اس تاہم ہوسکی نہیں نشاندہی سے الملک محسن نواب بعد کے سرسید جسے تھا ضرور شخص ایسا بھی میں زمانہ کے سرسید میں ماضی تھی، روح ان�سو قربت کی شبلی کو شبلی علامہ اور تھے گئے لکھے خطوط نام گم بعض کے طرح اس اور شبلی حیات تفصیل کی اس ، تھی گئی کی کوشش کی کرنے مطعون

ے۔� موجود میں وغیرہ شبلی مکتوبات وقت اس بھی ء)۱۹۶۰ ۔ ۱۸۷۰( عبدالحق مولوی اردو بابائے

لکھا نے ندوی سلیمان سید مولانا میں بارے کے جن تھے، میں حیدرآباد جا ے� و جا پر شبلی علامہ سے ء۱۹۰۲ سے وجہ کسی ںنے انہو کہ ے� شبلی علامہ )۶۹۱ ص شبلی حیات( ے� لیا بنا ہی مسلک اپنا کرنا اعتراض عبدالماجد مولانا جب کہ ے�ل اس ، ہو گیا طرف کی انہیں غالباً ذہن کا تنقید سے نام کے علم طالب ایک پر الکلام نےء)۱۹۷۶۔۱۸۹۲( دریابادی مکاتیب( تھی اٹھی طرف کی ہی ان نظر کی ان بھی وقت اس تھی لکھی مخالف شبلی اردو بابائے میں حیدرآباد میں زمانہ اس )۱۹۳ ص۱ ج شبلی حالی مولانا اور سرسید کچھ سب یہ وہ اور تھے مصروف میں سرگرمیوں میں تحریروں متعدد اپنی ںنے انہو ، تھے کرتے پر نام کے حمایت کی تک اب سے ذریعہ کسی مگر ے� کیا بھی نقد جا ے� پر شبلی علامہ نے اردو بابائے خط نام گم یہ کہ ے� جاسکی کی نہیں تصدیق کی اس

؟ تھا کون مفسد حیدرآبادی وہ اور تھا لکھا دیا جواب کیا نے الملک محسن نواب کا خط کے شبلی مولانا

پہلے دن چند سے اشاعت کی خط اس البتہ ہوسکا معلوم نہیں تو یہ شبلی مولوی العلما شمس میں گزٹ ٹیوٹ انسٹی کو ء۱۹۰۳ اپریل ؍۲۵ سے طرف کی مرتب سے عنوان کے گڑھ علی العلوم مدرسۃ اور نعمانی

: ے� یہ تحریر وہ ، تھی ہوئی شائع تحریر ایک آدمی سمجھدار کوئی کہ تھا نہ خیال کا اس کبھی تو کو ہم تعلقات ان اور طبیعت اور مزاج کے ان اور ے� جانتا کو مولانا جو گا کرے شبہہ یہ ے،� واقف ہیں، ساتھ کے کالج کو جوان سے کی ان کبھی وہ تھیں لکھی نے صاحب حیدرآبادی باتیں جو کہ

اعلی و ارفع بہت سے اس شان کی مولانا ہوں۔ نکلی سے زبان اور تھا کردیا ر�ظا صاف خیال اپنا میں جواب تو نے ہم اور ے� نہیں باتیں ایسی پروفیسر کوئی کا کالج ہمارے کہ تھا دیا لکھ

)۱۹۱ ص شبلی باقیات( ۔سکتا‘‘ کہہ اس خط کی اشاعت پر بہرحال علامہ شبلی نے ناراضی رکی�ظا

، مگرنواب صاحب سے ان کے دوستانہ مراسم میں کسی طرح کا خلل واقع نہیں ہوا اور تعلقات بدستور جاری ے�ر اور نواب صاحب انہیں کالج سے منسلک کرنے کے ے�ل اس زمانہ میں بھی کوشاں ے�ر اور جوں ہی انہیں اطلاع ملی کہ علامہ شبلی نے حیدرآباد سے قطع تعلق کر لیا ے،� انہو ںنے علامہ شبلی کو لکھاکہ فوراً کالج میں چلے ے�آئ ’’ حیدرآباد، کا سابقہ و ظیفہ بھی جاری ہوجائے گا اور ۱۰۰ روپیہ کالج

سے بھی ملیں گے ۔( حیات شبلی ص )۲۷۶ ‘‘ علامہ شبلی نے علی گڑھ کالج سے استعفیٰ سید محمود ۱۸۵۰( ۔ کےء)۱۹۰۳ زمانہ میں دیا تھا ، چند ماہ بعد جب نواب محسن الملک سکریٹری منتخب ہوئے اسی وقت سے انہیں واپس بلانے کے کوشاں ہوگئے ۔ علامہ شبلی کبھی راضی نہیں ہوئے ، ء۱۹۰۴ میںعلی گڑھ کے ےنواب�ل صاحب کے تقاضے بہت بڑھ گئے چنانچہ انہو ںنے مولانا حبیب الرحمنٰ

شروانی سے مشورہ کے ےخط�ل لکھا کہ: ’’کئی مہینہ سے نواب محسن الملک نہایت اصرار سے زور دے ے�ر ہیں کہ کالج آجاؤ، دو سو رہ�مشا ہوگا اور وظیفہ حیدرآباد بھی بحال ے�ر گا ، میں سال بھر سے کوشش ا�کرر تھا کہ وظیفہ بحال ہوجائے تو نوکری چھوڑ کر ندوہ میں چلا آؤں ، تین ہفتے ہوئے اس کوشش میں ناکامی ہوئی ۔ نواب محسن الملک لکھتے ہیں کہ اگر کالج میں آؤں تو یہاں سے کوشش کرائی جائے اور وظیفہ جاری ہوجائے اب، ے�فرمائ کیا کروں ، کالج میں ندوہ کیوں کر ہوسکے گا اور کالج میں نہ آؤں تو حیدرآباد رہ کر اور بھی ندوے سے دوری ے� کوئی،

معقول رائے ۔ے‘‘�دیج مکتوبات( شبلی ص )۱۳۶ ماہ چند البتہ معلوم نہیں تو یہ دی رائے کیا نے صاحب شروانی ہوگئے ےراضی�ل کے آنے گڑھ علی شبلی علامہ ساتھ کے شرائط چند بعد لکھ بھی خط کا مندی رضا کو صاحب الملک محسن نواب نے انہوں اور

کہ: ے� لکھا میں خط ایک نام کے شروانی الرحمنٰ حبیب مولانا ، دیا ’’میں نے نواب محسن الملک کے خط کے جواب میں

ان کو جو لکھا ے� وہ یہ کہ ۲۰۰ روپئے ماہوار کالج پر خواہ مخواہ ایک بار ے� ، اس لئے میری خواہش یہ ے� کہ میں کالج میں آکر بلا معاوضہ کام کروں، البتہ یہ چاہتا ہوں کہ سال میں میرے قیا م کالج کی مدت لازمی صرف چار پانچ مہینے قرار ے�دئ جائیں ، باقی اختیاری ، اس صورت میں ندوہ میں کام کرنے کا اچھا موقع ملے گا ۔ میں نے صراحتا ًیہ بھی لکھ دیا ے� کہ بہر حال میں ندوہ سے عملی تعلق رکھوں گا ‘‘۔

مکتوبات( شبلی ص )۱۲۲

لیکن پھر یہ ممکن نہ ہوسکا ۔

علامہ شبلی حیدرآبادسے ندوہ جانا چاہتے تھے ، ان کے علی گڑھ

کے احباب اسے خود کشی سے تعبیر کرتے تھے ، نواب محسن الملک نے انہیں سمجھایا کہ ’’ندوہ کی اس کسمپرسی کی حالت میں تو کوئی شخص آپ کا مزاحم نہ ہوگا ، لیکن جب ترقی کے آثار نمایاں ہوں گے تو دفعتاً تمام مولوی آپ پر ٹوٹ پڑیں گے اور آمادہ مخالفت ہوں گے‘‘، بقول مولانا سید

سلیمان ندوی ان کی یہ پیشین گوئی پوری ہوئی۔ حیات( شبلی ص )۵۹۴ حیدرآباد سے علامہ شبلی کی علاحدگی کی اطلاع جب بھوپال پہونچی تو نواب سلطان جہاں بیگم انہیں بھوپال لانے کے ے�ل کوشاں ہوئیں اور چوں کہ علامہ سے نواب محسن الملک کی قربت جگ ر�ظا تھی اس ے�ل انہو ںنے نواب صاحب ہی کو واسطہ بنایا ، چنانچہ نواب

صاحب نے علامہ شبلی کو لکھا کہ: ’’مولانا ! ر� ائنس� بیگم صاحبہ نے مجھ سے دریافت کیا ے� کہ مولوی صاحب یہاں آنا پسند کریں گے یا نہیں؟ اگر آئیں گے

تو کیا رہ�مشا قبول کریں گے ، ے�فرمائ کیا جواب دیا جائے ۔ آپ کی طبیعت کیسی ،ے� الندوہ کب نکلے ،گا آپ کے قبضہ میں ندوہ کے آنے سے حضرات علماء کا کیا حال ے� ، مدد دیں

گے یا فرنٹ ہوجائیں ۔گے‘‘ حیات( شبلی ، ص ۴۰۸ ۔ ۴۰۹ ) مولانا شبلی نے بھوپال کے قیام کو بھی پسند نہیں کیا اور

احباب کے تمام خدشات کے باوجود نونہالان ملت کی خیر خواہی کے جذبات سے سرشار ندوہ آگئے اور پھر ندوہ میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اب ہماری ملی تاریخ کے المیوں میں سے ایک ے� ۔ اس سال یعنی ء۱۹۰۵ میں ایجوکیشنل کانفر نس کا اجلاس رام پور میں ہوناطے پایا تو نواب صاحب نے علامہ شبلی سے شرکت کی

ص ۱ ج شبلی مکاتیب( ہوسکے نہ شریک وہ شاید مگر کی درخواست تو ہوئی تشکیل کی کمیٹی سینٹرل کی کالج او اے ایم سال اسی )۴۶ مگر، کردیا نامزد رکن کا کمیٹی سینٹرل کو شبلی علامہ نے صاحب نواب

: لکھا خط کا معذرت نے شبلی علامہ جناب من ! ’’والا نامہ ورود مفرا ،ہوا سینٹرل کمیٹی کی ممبری میرے لئے موجب فخر ے� ، لیکن میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ بغیر کسی خدمت اور محنت کے محض فخر کے ے�ل اپان نام فہرست میں لکھواؤں ، میں سال بھر سے بیمار اور ضعیف ہوں، کوئی دماغی کام نہیں کرسکتا ، تصنیف کا مشغلہ بالکل بند ے� ، جب کسی کام کے قابل ہوں گا تو فخر سے اس عہدہ کو قبول کروں گا ‘‘۔

مکاتیب( شبلی ج ۱ ص ۔۱۹ )۲۰ لیکن نواب صاحب نے یہ خط واپس کردیا اور لکھا کہ : ’’ یہ خط واپس ے� ، منظوری کا عنایت نامہ عنایت ہو ، عذر

نامسموع براہ کرم ضرور منظور ے�فرمائ ، مجھ پر احسان ہوگا ‘‘۔

شبلی( کے نام ل�ا علم کے خطوط ص )۴۱ علامہ شبلی کے ندوہ سے وابستہ ہوجانے کے بعد ء۱۹۰۶ میں ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ڈھاکہ میں منعقد ہوا چنانچہ، نواب محسن الملک نے انہیں اصرار کرکے ڈھاکہ بلایا اور وہ اجلاس میں شریک ہوئے، اور ؍۲۲ دسمبر کے اجلاس میںجس کی صدارت سفیر ایران مرزا شجاعت

علی بیگ نے کی تھی تاریخ اسلام کے موضوع پر خطبہ دیا ۔ اسی زمانہ میں ایم اے او کالج میں عربی کی ایک اعلی جماعت قائم کی گئی اور اس کی تدریس کے لئے جرمنی سے جوزف ارویز� بلائے گئے تو نواب محسن الملک نے ۲۰۰ ماہوار پر علامہ شبلی کو ان کا اسسٹنٹ بنانا ا�چا مگر علامہ نے اسے بھی قبول نہیں کیا ۔ حیات( شبلی ص )۶۷۷ چند ماہ بعدفروری ء۱۹۰۷ میں علامہ شبلی کی خواہش پر مولانا حمیدالدین فراہی کو نواب صاحب ہی نے ایم ۔ اے

۔ او کالج کا استاد منتخب کیا تھا۔ حیات( شبلی ص )۷۰۹ اس سال ندوہ کے سالانہ اجلاس میں علامہ شبلی نے نواب

محسن الملک کو مدعو کیا اور ان کی خواہش تھی کہ وہ شریک ہوں ۔ مکتوبات( شبلی ص )۳۹ لیکن یہ تفصیل معلوم نہ ہوسکی کہ آیا وہ

شریک ہوئے یا نہیں ؟ مولانا مسیح الزماںاور بعض دوسرے علمائے ندوہ الکلام کے

جمع وقت جس ے�ل کے کرنے سوالات پر عقائد کے شبلی سے حوالہ سے اں�و کر لے الکلام وہ اور تھے موجود اں�و الملک اتفاقاًمحسن ہوئے

)۶۹ ،۶۸ ص ایام یاد( ۔ گئے چلے آیا پیش سانحہ کا پا حادثہ کے شبلی علامہ کو ء۱۹۰۷ مئی ؍۱۷ قطعات شعرانے اور مضامین نے نگاروں نثر گیا، مچ کہرام میں ملک سے جس الملک محسن نواب بھی پر موقع اس ، کیا اظہار کا رنج ذریعہ کے وغیرہ گڑھ علی آپ کہ لکھا کو شبلی علامہ ںنے انہو چنانچہ بھولے، نہیں انہیں ص شبلی حیات( ۔ گے کریں علاج مفت کا آپ ڈاکٹر کے یہاں ، آجائیں ا�ہوتار علاج میں ہی گڑھ اعظم اور جاسکے نہ اں�و شبلی علامہ مگر )۴۵۳ صاحب نواب تو ے�پہن لکھنو ندوہ ہوکر مند صحت قدر کسی علامہ جب اور

)۷۲۰ ص ایضاً ( آئے۔ لکھنؤ ے�ل کے عیادت سے گڑھ علی یہیں داستان کی تعلق و ربط کے شبلی اور الملک محسن نواب فکری قدر کسی اور ذہنی کر بڑھ آگے بھی سے اس بلکہ نہیںہوتی ختم قدیم وتربیت تعلیم کی دونوں ۔ ہیں آتے سامنے بھی پہلو کے اشتراک کے خیالی اورروشن تعلیم جدید دونوں ، تھی ہوئی پر تعلیم طریقہ سرسید ا،�ر تعلق و ربط گہرا سے مرحوم سرسید کو دونوں ، تھے علمبردار باوجود کے عمل و فکر اشتراک اس مگر ، تھے ہی مربی کے توشبلی نقطہ کے شبلی علامہ، ا�ر اختلاف سے افکار مذہبی کے سرسید کو دونوں کابرملا رائے اختلاف اس نے انہوں کہ ، ہیں واقف علم ل�ا سے نظر کے اس تھا، نظر نقطہ یہی بھی کا الملک محسن نواب ، ے� کیا اظہار

: کہ ے� لکھا نے عباس اصغر پروفیسر میں بارے ’’ دونوں میں روابط کا آغاز سرسید کی تصنیف تبین الکلام فی تفسیر التوراہ والانجیل علی ملۃ الاسلام میں ان کے بعض خیالات کے اختلاف سے ہوا ، بعد میں انہوں نے سرسید کی تفسیر قرآن میں ان کے بعض مضامین سے بھی اختلاف کیا، دونوں کے مابین اختلاف کا خاص مسئلہ قانون فطرت کا سرسید کا تصور ے� ، ان اختلافات کی تفصیل مکاتبات الخلان میں ملتی ے� ، محسن الملک کو سرسید کے بعض تہذیبی افکار سے بھی اختلاف تھا ، ان کے نزدیک مغرب سے آئے ہوئے عوارض میں سب سے بڑی بیماری آزادی ے� ، انہو ںنے اپنے ایک مضمون میں لکھا ے� کہ ہم نہ صرف مشرقی امراض کے ے�ل معالجہ کے محتاج ہیں بلکہ ہم کو ایسے طبیب کی بھی ضرورت ے� ، جو مغربی بیماریوں سے بھی بچائے ۔ انہوںنے

سائنس اور مذہب کے درمیان توازن کی ضرورت پر بھی زور دیا ، وہ جدید تعلیم کے نتائج سے بھی مایوس تھے ، ان کے نزدیک اس تعلیم نے سیرتوں میں مثبت تبدیلی کے بجائے کورانہ تقلید کو فروغ دیا ے� ، ء۱۸۹۳ میں جب وہ حیدرآباد سے سبکدوش ہوکر علی گڑھ آئے تو یہاں علی گڑھ کالج کے انتظامی امور میں انہیں سرسید سے اختلاف پیدا ہوا ، اور وہ بمبئی

چلے گئے ‘‘۔ دستاویزات( محسن الملک ص ۱ ) سرسید سے نواب محسن الملک کے یہ ضمنی اختلافات اخیر تک

قائم ے�ر اور ان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ۔ حیات( محسن ۲۰۹ص) پروفیسر اصغر عباس کے مذکورہ اقتباس سے یہ اندازہ لگایا

جاسکتا ے� کہ ان میں اور علامہ شبلی کے نقطۂ نظر میں کس قدر ہم آہنگی تھی ، البتہ علامہ شبلی سرسید کے مذہبی افکار کے ساتھ ان کے سیاسی افکار کے بھی ناقد تھے اور اس کو پسند نہیں کرتے تھے جب

کہ نواب صاحب ہم نوا تھے : اسی سال ؍۱۶ اکتوبر ء۱۹۰۷ کو نواب محسن الملک نے شملہ

میں وفات پائی ، علامہ شبلی اس وقت لکھنؤ میں تھے ، اس خبر سے دل برداشتہ ہوئے ، انہوں نے ماہنامہ الندوہ میں ’’ائے� محسن الملک ‘‘ کے عنوان سے وفیات لکھی اورسخت ماتم کیا ، اس وفیاتی نوٹ کا ایک ایک حرف غم ناک ے� ۔اس میں پہلے نواب صاحب کی شخصیت اور خدمات کا تذکر ہ کیا گیا ے� ان، کے کارناموں کو بیان کرنے کے ساتھ ان کی ذاتی زندگی پر بھی روشنی ڈالی گئی ے� لکھتے، ہیں: اس تھے، روزگار نادرہ بھی سے لحاظ کے صفات ذاتی مرحوم ادنی کہ تھا حال یہ کا اخلاق کے ان پر رتبہ اسعزت، اس درجہ میں ملاقات تھے، ملتے عزت و ادب بہ سے آدمیوں کے درجہ تھے، ملتے کر جھک سے سب ، تھے کرتے قدمی پیش ہمیشہ تھے جواد اور سخی فیاض، ، حوصلہ فراخ نہایت ساتھ کے اس مسخر کو عالم ںنے انہو سے وجہ کی جن تھے اوصاف یہی اور

)۱۹۳ ص ۸ ج شبلی مقالات( ۔ تھا لیا کر اندازہ کا جذبات دلی بلکہ غم و رنج دلی کے شبلی علامہ

: ہیں لکھتے وہ ، ے� ہوتا سے جملوں چند آخری کے مضمون وفیاتی رحمت سایۂ کے خدا خوش خوش اور جا ! الملک محسن

روئیں بھی ے�ل تیرے لوگ ، تھا رکھتا دل بھرا درد تو کر، آرام میں

گے اور بہت روئیں گے ۔ در رِروزگا عشق تو ماہم فدا شد بم افسوس کز قبیلہ مجنوں کسے نما ند ً ( ایض صا )۱۹۴ غرض نواب محسن الملک اور علامہ شبلی میں ہمیشہ گہرے مراسم و تعلقات ے�ر ، دونوں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک اور اخیر تک خیرخواہ ے�ر جن، ل�ا قلم نے علامہ شبلی کو علی گڑھ تحریک کا مخالف قرار دیا ے� شاید ان کی نظر شبلی کے کالج سے مستعفی ہوجانے کے بعد کالج اور خصوصاً نواب محسن الملک مرحوم سے قریبی اور نج کے تعلقات پر نہیں تھی، واقعہ یہ ے� کہ علامہ شبلی کالج کے ہمیشہ خیر خواہ ے،�ر اور ان سے جو کچھ بن پڑا وہ کرتے بھی ے،�ر آخری دور میں یونیورسٹی فاؤنڈیشن کمیٹی کے ایک رکن کی حیثیت سے کالج کو یونیورسٹی بنانے کی جد وجہدمیں ان کا بھی حصہ ے� جس کا خاطر خواہ ذکر نہیں کیا جاتا۔ واقعہ یہ ے� کہ علامہ شبلی کا سرسید، محسن الملک اور کالج سے تعلق کبھی کم نہیں ہوا ۔ ---------------------------------------------------------------------------- کتابیات ۔۱ آپ بیتی، میر ولایت حسین، علی گڑھ طبع اول، ء۔۱۹۰۷ ر۔آثا۲ شبلی، ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی دارالمصنّفین اعظم گڑھ، ء۔۲۰۱۳

ِ ۔باقیات۳ شبلی، مشتاق حسین آزاد کتاب گھر، لی�د ء۔۱۹۶۴ ۔حیات۴ شبلی، مولانا سید سلیمان ندوی، دارالمصنّفین اعظم گڑھ، ء۲۰۱۵ ۔ ۔حیات۵ محسن، منشی امین زبیری، ایجوکیشنل کانفرنس علی گڑھ، ء۔۱۹۳۴ ۔دستاویزات۶ محسن الملک، پروفیسر اقبال حسین، سرسید اکیڈمی علی گڑھ، ء۔۲۰۰۷ ۔سرسید۷ جدید ذہن کے معمار ، پروفیسر سعود عالم قاسمی، شعبہ تھیالوجی علی ء۔۲۰۱۷ ۔علامہ۸ شبلی کے نام ل�ا علم کے خطوط، ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی، ادبی دائرہ اعظم گڑھ، ء۔۲۰۱۳ ۔مقالات۹ شبلی جلد ہشتم، مولانا سید سلیمان ندوی، دارالمصنّفین اعظم گڑھ ، ء۔۲۰۱۰ ۔مکاتیب۱۰ شبلی، جلداول، مولانا سید سلیمان ندوی، دارالمصنّفین اعظم گڑھ ، ء۔۲۰۱۰ ۔مکاتیب۱۱ شبلی، جلد دوم، مولانا سید سلیمان ندوی، دارالمصنّفین اعظم گڑھ ، ء۔۲۰۱۲ ۔مکتوبات۱۲ شبلی، ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی، ادبی دائرہ اعظم گڑھ، ء۔۲۰۱۳ ۔یاد۱۳ ایام، مولانا ضیاء الحسن علوی، ادارہ انیس اردو الہٰ آباد، ۱۹۵۹ ء۔

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.