�رف� ڈاك صبغفّبى � �� ى�ت�اورنغ

؍۱۲ اکتوبر ۲۰۱۸ء ایف - ،۲۳۷ لوئر ری� سنگھ نگر، اڑی�ا کالونی، جموں، ۱۸۰۰۰۵

Maarif - - News -

محب مکرم مدیر !اعلیٰ آداب

ماہنامہ معارف کے شمارہ اگست ء۲۰۱۸ میں ڈاکٹر شمس بدایونی

کا مضمون غیر مسلم مصنّفین اور سیرت نبویؐ نظر نواز ہوا، جس میں ’’ ‘‘ مقالہ نگار نے ان ہندو مصنّفین کا ذکر کیا ے،� جنہوں نے اپنی عقیدت کے پھول آنحضرتؐ کے قدموں میں نچھاور ے�ک ہیں، ساتھ ہی قرآنی تعلیمات کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔ اتنا ہی نہیں قرآن و گیتا کا تقابل بھی پیش کیا ے۔� جس سے دونوں مذہب ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے دکھائی

ے�د ہیں۔ بادشاہ اکبر کے عہد میں مہابھارت کے ،۶ رامائن کے ،۲۴ بھگوت پران کے ،۱۱ بھگوت گیتا کے ۔۸ اور یوگ وششٹ کا فارسی میں ایک ترجمہ

ہوا تھا۔ اس وقت دفتری اور عوام کی عام زبان فارسی تھی۔ داراشکوہ ان سے ایک قدم اور آگے بڑھ گیا۔ اس نے ۵۲ اُپنشدوں کے فارسی میں ترجمے کروائے۔ اس نے یوگ وششٹ کا دوبارہ ترجمہ حبیب اللہ سے کروایا، ساتھ ہی سمندر سنگم کا ترجمہ بھی ء۱۶۵۵ میں کروایا۔ سترہویں صدی عیسوی کے آخر سے بیسویں صدی کے آخر تک

قرآن مجید کے ایک سو پانچ تفسیریں اور ترجمے اردو میں ہوئے۔ لیکن ہندی میں قرآن مجید کے سب سے اول ترجمہ کا ذکر مولانا سید سلیمان ندویؒ نے اپنی کتاب ’’عرب و ہند کے تعلقات‘‘ کے صفحہ ۲۸ پر بزرگ بن شہریار سنہ ھ۳۰۰ کی کتاب ’’عجائب الہند‘‘ کے حوالے سے کیا ے� جو ایک جہازراں تھا۔ اس کتاب میں ’’گجرات کے متعلق واقعات ملتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم واقعہ ایک ہندو راجہ کا قرآن کا ہندی میں

ترجمہ کراکر سننا ۔ے‘‘� یعنی یہ ترجمہ ھ۹۱۲ کا ے۔� راقم کی ناقص معلومات کے مطابق آج تک شری مد بھگوت گیتا

کے ہونے تسلط زیر کے سامراج انگریز میں صدی انیسویں اور اقلیت تہذیب اور روایت تاریخ، عقائد، اپنے نے انہوں اور ے�ر پُرعزم باوجود، تاریخ کی تمدن اسلامی کی۔ خدمت کی فنون و علوم اور حفاظت کی نظر کو خدمات کی مسلمانوں کے برصغیر شخص بھی کوئی والا لکھنے قارہ شبہ در شدہ چاپ فارسی آثار شناسی کتاب اور سکتا کر نہیں انداز

ے۔� حوالہ معتبر کا اس

حواشی

)۱( محمد بن اب�عبدالو قزوینی، ترجمہ مصنف مشمولہ لباب الالباب، بہ سعی و اہتمام و تصحیح ایڈورڈ براؤن، لیڈن، ء،۱۹۰۶ صفحات: یح، یط، کا۔ )۲( نذیر احمد، مقدمہ فرہنگ کتابقواس، خانہ رضا رام پور، ء،۱۹۹۹ صفحات: ۔۱۷-۱ ریحانہ)۳( خاتون، مقدمہ ، مثمر، کراچی، ء۔۱۹۹۱ )۴( احمد منزوی، فہرست مشترک نسخہ ای� خطی فارسی پاکستان، اسلام آباد، ء،۱۹۸۶ ج ،۷ صفحات -۱۳۰ ۔۱۵۸ )۵( محمد رضا شفیعی کوکنی، شاعری در ہجوم منتقدان، تہران، ۱۳۷۵ ش، ص: -۱۸ ۔۱۹ )۶( معین الدین عقیل، تاریخ چۂ چاپ کتاب ھای فارسی در شبہ قارہ، ترجمۂ عارف نوشاہی، ضمیمۂ ۲۵ آئینۂ میراث، تہران ، سال دہم، ۱۳۹۱ ش/ ء؛۲۰۱۲ معین الدین عقیل، جنوبی ایشیا میں طباعت کا آغاز وارتقا مسلمانوں( کی طباعتی سرگرمیاں اور قومی بیداری)، شعبۂ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی، ء۔۲۰۱۴ )۷( عارف نوشاہی، کتاب شناسی آثار فارسی چاپ شدہ در شبہ قارہ ، تہران، ،۲۰۱۲ ج ،۱ ص -۳۵۵ ۔۳۵۷ )۸( ایضاً، ص -۳۶۷ ۔۳۶۸ )۹( ایضاً، ص -۴۲۷ ۔۴۲۸ )۱۰( ملاحظہ ہو: سید امیر حسن نورانی، سوانح منشی نول کشور، پٹنہ؛ آصفہ زمانی، یاد بود منشی نول کشور، ترجمۂ ظہیر عباس ریحان تہران؛ چندر شیکھر و عبدالرشید مرتبین)،( فہرست کتب مطبع منشی نول کشور ء۱۸۹۶

، لی،�د ء۔۲۰۱۲ ( مصنف نے یہ ۱۰مقالہ ،۲۰۱۲دسمبر کو استنبول کے مر کز البحوث الاسلامیہ ISAM)) میں منعقدہ سمینار ’’برصغیر ہند و پاک میں فارسی مطبوعہ کتب کی

اہمیت اسلامی اور ترک مطالعات کے نقطۂ نظر سے‘‘ Importance of Persian

Printed Books in Indo-Pak Subcontinent from the Point of Islamic and Turkolgy میں پڑھا۔ اس کا اصل یا ترجمہ تا حال شائع نہیں ہوا تھا۔ اب اس

Studies

میں مناسب ترمیم اور نظر ثانی کرکے پیش کیا جا ا�ر ے)�

Newspapers in Urdu

Newspapers from India

© PressReader. All rights reserved.